پاکستان آئینی طور پر ایک وفاق ہے، لیکن اس کا بیشتر انتظامی نظام آج بھی وحدانی طرزِ فکر کے تحت کام کر رہا ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات تو تقسیم ہیں، مگر بیوروکریسی اس وفاقی ڈھانچے کے مطابق خود کو تبدیل نہیں کر سکی۔ حقیقی وفاقیت کے لیے صرف سیاسی خودمختاری کافی نہیں، بلکہ انتظامی وفاقیت بھی ضروری ہے۔
دوسرا بنیادی مسئلہ پاکستان کا جنرلسٹ کیڈرز پر انحصار ہے۔ جدید حکمرانی تیزی سے تخصص کی طرف بڑھ رہی ہے۔ صحت، تعلیم، زراعت، شہری ترقی، صنعت اور معدنیات جیسے شعبوں کو متعلقہ مہارت رکھنے والے پیشہ ور منتظمین کی ضرورت ہے۔ عمومی منتظمین حکومتی امور میں رابطہ کاری تو کر سکتے ہیں، مگر ہر شعبے میں ماہرین کا متبادل نہیں بن سکتے۔
اس سے بھی اہم مسئلہ یہ ہے کہ بیوروکریسی اکثر سہولت کار کے بجائے گیٹ کیپر کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس کی طاقت فائلوں، منظوریوں، لائسنسوں، تقرریوں اور اجازت ناموں پر اختیار سے پیدا ہوتی ہے۔ فائلوں پر مبنی یہ نظام نتائج کے بجائے ضابطہ جاتی کنٹرول کو اہمیت دیتا ہے، جس سے سرمایہ کاری، ترقی اور عوامی خدمات کی فراہمی سست پڑ جاتی ہے۔
پاکستان کو بیوروکریسی کمزور کرنے کی نہیں، اسے جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ ملک کو عمومی کیڈرز سے تخصص پر مبنی انتظامیہ، مرکزی کنٹرول سے انتظامی وفاقیت اور فائلوں کے کھیل سے قابلِ پیمائش کارکردگی کی طرف بڑھنا ہوگا۔
وفاق کو وفاقی انتظامیہ، جدید ریاست کو ماہر منتظمین اور ترقی پذیر معیشت کو گیٹ کیپرز نہیں بلکہ سہولت کاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔









