پاکستان کا آبی بحران درحقیقت جنگلات کے بے دریغ کٹاؤ کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تجویز کردہ ۲۵ فیصد کے مقابلے میں ملک میں جنگلات کا رقبہ صرف ۵.۷ فیصد رہ گیا ہے، اور ہم ہر سال تقریباً ۲۷,۰۰۰ ہیکٹر رقبے پر پھیلے درخت کھو رہے ہیں۔ درختوں کے اس بڑے پیمانے پر کٹاؤ نے ۲۰۲۲ء کے تباہ کن سیلاب میں مرکزی کردار ادا کیا جس نے ۳ کروڑ ۳۰ لاکھ افراد کو متاثر کیا اور ۳۰ ارب ڈالر کا معاشی نقصان پہنچایا، جبکہ ۲۰۱۰ء کے سیلاب نے ملک کا پانچواں حصہ ڈبو دیا تھا۔ جب بارش کے پانی کو جذب کرنے اور مٹی کو تھامنے کے لیے درختوں کی جڑیں موجود نہ ہوں، تو بارش کا پانی زمین میں رسنے کے بجائے براہِ راست ندی نالوں میں بہہ کر تباہی کا باعث بنتا ہے۔
جنگلات صرف لکڑی کا نام نہیں ہیں بلکہ یہ ماحولیاتی، ثقافتی اور معاشرتی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
- ماحولیاتی نظام: ایک تناور درخت سالانہ تقریباً ۲۲ کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے اور ہزاروں لیٹر پانی اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے۔ جنگلات شہروں کے درجہ حرارت کو کم کرتے ہیں، زیرِ زمین پانی کی سطح کو بحال کرتے ہیں، اور گندم، آم اور بادام کی فصلوں کے لیے ضروری پرندوں اور شہد کی مکھیوں کی بقا کو یقینی بناتے ہیں۔
- ثقافتی ورثہ: خیبر پختونخوا اور شمالی علاقہ جات میں جنگل (“بنڑ”) سماجی رابطوں اور جرگوں کی میزبانی کرتا ہے اور دادی اماں کے روایتی طبی علم کا امین ہے۔ جنگلات کے خاتمے سے صدیوں پر محیط ثقافتی شناخت اور دیسی حکمت بھی ختم ہو جاتی ہے۔
- بقا کا سبق: قدرتی نظام یہ سکھاتا ہے کہ بقا کا راز اکیلے طاقتور بننے میں نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے رہنے میں ہے۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے صرف درخت لگانے کی روایتی مہمات کے بجائے دانشمندانہ اور مقامی کمیونٹیز کی شراکت داری پر مبنی بحالی کے منصوبے ضروری ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP)، یو این ای پی (UNEP FI)، ایف اے او (FAO) اور پاکستان کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اس بات پر متفق ہیں کہ پانی کے ذخائر کا پائیدار نظام اور قدرتی حل ہی پاکستان کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہیں۔ حقیقی بحالی کے لیے مناسب درختوں کا انتخاب، قانونی تحفظ اور مقامی افراد بالخصوص خواتین کی شمولیت ضروری ہے جو بیج، مٹی اور پانی کی دیکھ بھال کرتی ہیں، تاکہ ہمارا مستقبل صرف کنکریٹ اور بحرانوں کا نام نہ رہے۔









