بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

پاکستان میں جوہری بجلی کی پیداوار ریکارڈ 22.5 ٹیراواٹ آور تک پہنچ گئی، شمسی توانائی کہیں آگے نکل گئی

[post-views]
Pakistan faces challenges of climate change and an explosion in population. Hence, it is critical to apply nuclear energy for food security.
[post-views]

2025 میں جوہری بجلی کی پیداوار میں 3.7 فیصد اضافہ، جبکہ شمسی توانائی کی پیداوار 36.3 ٹیراواٹ آور تک پہنچ کر ملک میں بجلی کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی

اسلام آباد: پاکستان میں 2025 کے دوران جوہری توانائی سے بجلی کی پیداوار ریکارڈ 22.5 ٹیراواٹ آور تک پہنچ گئی، جو ایک سال قبل 21.7 ٹیراواٹ آور کے مقابلے میں 3.7 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار ورلڈ نیوکلیئر انڈسٹری اسٹیٹس رپورٹ 2026 میں جاری کیے گئے ہیں۔

جوہری بجلی کی ریکارڈ پیداوار کے باوجود پاکستان میں تیزی سے پھیلنے والے شمسی توانائی کے شعبے نے کہیں زیادہ رفتار سے ترقی کی۔ 2025 میں شمسی بجلی کی پیداوار کا تخمینہ 36.3 ٹیراواٹ آور لگایا گیا، جس کے نتیجے میں پہلی مرتبہ شمسی توانائی نے جوہری بجلی کو نمایاں فرق سے پیچھے چھوڑ دیا۔

رپورٹ کے مطابق شمسی توانائی کی حقیقی پیداوار اس تخمینے سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ نجی سطح پر نصب شمسی نظاموں کی ایک بڑی تعداد بجلی کے باضابطہ نظام میں شامل نہیں۔

پاکستان میں چھ جوہری ری ایکٹر فعال

پاکستان میں اس وقت چھ جوہری ری ایکٹر کام کر رہے ہیں، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 3,262 میگاواٹ ہے۔

فعال جوہری تنصیبات میں کراچی کے قریب کینپ-2 اور کینپ-3 ہوالونگ ون ری ایکٹرز کے علاوہ چشمہ جوہری بجلی گھر کے چار تقریباً 300 میگاواٹ کے ری ایکٹر شامل ہیں۔ تمام چھ فعال ری ایکٹر چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن نے تعمیر کیے۔

پاکستان کا پہلا 90 میگاواٹ کینپ-1 کینڈو ری ایکٹر تقریباً پانچ دہائیوں تک کام کرنے کے بعد 2021 میں بند کر دیا گیا تھا۔

چشمہ میں اس وقت سی-1 سے سی-4 تک چار ری ایکٹر فعال ہیں، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 1,230 میگاواٹ ہے۔

چشمہ میں مزید ایک ہزار میگاواٹ کا ہوالونگ ون ری ایکٹر، سی-5، بھی زیرِ تعمیر ہے۔ اگرچہ اس منصوبے کا معاہدہ 2017 میں ہوا تھا، تاہم باضابطہ تعمیر شروع ہونے میں سات سال سے زیادہ کا عرصہ لگا۔

ری ایکٹر کی عمارت کی بنیاد کے لیے پہلی کنکریٹ 30 دسمبر 2024 کو ڈالی گئی۔ منصوبہ 2030 تک مکمل ہونے کی توقع ہے اور رپورٹ کے مطابق یہ اس وقت بیرونِ ملک زیرِ تعمیر چین کا واحد جوہری بجلی منصوبہ ہے۔

جوہری بجلی کی لاگت میں قرضوں کی ادائیگی اہم

پاکستان اقتصادی سروے 2025-26 کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں جوہری بجلی کی مجموعی لاگت میں قرضوں کی ادائیگی کے نمایاں کردار کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس قرض کا بڑا حصہ نسبتاً نئے کینپ-2 اور کینپ-3 ری ایکٹرز سے متعلق ہے، جو بالترتیب 2022 اور 2023 میں فعال ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ان منصوبوں کے قرضوں کی ادائیگی کی مدت 12 سال ہے، جو ری ایکٹرز کی متوقع 60 سالہ معاشی عمر کا تقریباً پانچواں حصہ بنتی ہے۔

شمسی توانائی کا پھیلاؤ بجلی کے شعبے کو بدل رہا ہے

جوہری بجلی کی پیداوار تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے باوجود پاکستان میں شمسی توانائی کا غیر معمولی پھیلاؤ ملک کے بجلی کے شعبے کو کہیں زیادہ تیزی سے تبدیل کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق معاشی ترقی کے باوجود قومی بجلی نظام سے بجلی کی کھپت میں بظاہر کمی کی ایک اہم وجہ نجی سطح پر شمسی نظاموں کی تیزی سے تنصیب ہو سکتی ہے۔

ان میں سے بہت سے نظام غیر رجسٹرڈ ہیں، جن کے ذریعے گھرانے اور کاروباری ادارے اپنی بجلی خود پیدا اور استعمال کر رہے ہیں۔ نتیجتاً یہ بجلی قومی نظام کے سرکاری اعداد و شمار میں مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوتی۔

2017 کے آغاز سے 2026 کے وسط تک پاکستان نے چین سے 58 گیگاواٹ سے زیادہ شمسی پینل درآمد کیے۔

حیران کن طور پر ان میں سے تقریباً 40 گیگاواٹ، یعنی مجموعی درآمدات کا لگ بھگ 69 فیصد، صرف 2024 سے 2026 کے وسط تک ڈھائی سال کے عرصے میں پاکستان پہنچا۔

ان بڑے پیمانے پر درآمدات کے نتیجے میں پاکستان چینی شمسی پینلز کی دوسری سب سے بڑی واحد ملکی منڈی بن گیا ہے۔ پاکستان سے آگے صرف نیدرلینڈز ہے، جو یورپی منڈی کے لیے تقسیم کے ایک اہم مرکز کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے صرف پانچ سال میں تقریباً دو گنا زیادہ شمسی صلاحیت نصب کی جتنی فرانس نے ایک دہائی میں کی۔

شمسی توانائی نے جوہری بجلی کو پیچھے چھوڑ دیا

2025 میں پاکستان چین سے شمسی پینل خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا، جو گھرانوں، کاروباری اداروں اور صنعتوں میں شمسی ٹیکنالوجی کے غیر معمولی تیز رفتار پھیلاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 کے موسمِ گرما تک شمسی توانائی پاکستان میں بجلی کا سب سے بڑا واحد ذریعہ بن چکی تھی۔

یہ اعداد و شمار پاکستان کے توانائی کے منظرنامے میں بیک وقت جاری دو اہم تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں: ایک طرف جوہری بجلی کی پیداوار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جبکہ دوسری جانب شمسی توانائی کا کہیں زیادہ تیز رفتار پھیلاؤ ملک میں بجلی کی پیداوار اور استعمال کے طریقہ کار کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]