پاکستان میں حالیہ سیاسی محاذ آرائی محض اس سوال تک محدود نہیں کہ عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔ مجوزہ احتجاج کے پیشِ نظر کیے گئے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات ایک کہیں زیادہ گہرے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں: سیاسی اختلافات کو جمہوری مفاہمت کے بجائے انتظامی طاقت اور جبر کے ذریعے سنبھالنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
اسلام آباد کو ہزاروں کنٹینرز لگا کر بند کرنا اور شہر کے داخلی راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کرنا ظاہر کرتا ہے کہ معمول کے سیاسی اختلافات کس طرح ریاستی سلامتی کے معاملات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب تحریکِ انصاف نے اپنی سیاسی تحریک کا بڑا حصہ عمران خان کی قید کے گرد استوار کر رکھا ہے، جس کے باعث اپنے قائد تک رسائی اور ان کی رہائی جماعت کی سیاسی جدوجہد کا مرکزی نکتہ بن چکی ہے۔
تاہم اصل مسئلہ تحریکِ انصاف اور حکومت کے باہمی تنازع سے کہیں وسیع ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے اس بنیادی سوال سے دوچار ہے کہ حقیقی سیاسی اختیار آخر کہاں موجود ہے۔ آئینی طور پر پارلیمان قانون سازی کرتی ہے، منتخب حکومتیں نظمِ حکومت چلاتی ہیں اور ریاستی اداروں کے دائرۂ اختیار متعین ہیں۔ لیکن جب غیر منتخب ادارے سیاسی بندوبست پر فیصلہ کن اثرورسوخ حاصل کر لیں تو آئینی اختیار اور عملی طاقت کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے۔
ایسی صورتِ حال میں پاکستان کے سیاسی یا انتظامی نقشے میں کسی بھی تبدیلی کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آبادی میں اضافے، ناقص حکمرانی یا اختیارات کی مزید نچلی سطح تک منتقلی کے پیشِ نظر انتظامی تنظیمِ نو کی ضرورت پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن کوئی بھی تبدیلی محض اس بنیاد پر جمہوری جواز حاصل نہیں کر سکتی کہ طاقتور ریاستی ادارے اسے انتظامی طور پر موزوں سمجھتے ہیں۔
پاکستان ایک وفاق ہے۔ اس لیے صوبوں، سیاسی نمائندگی، علاقائی انتظام یا اختیارات کی تقسیم سے متعلق کسی بھی تبدیلی کو آئینی طریقۂ کار، نمائندہ اداروں اور بامعنی عوامی مباحثے کے ذریعے سامنے آنا چاہیے۔ بصورتِ دیگر اصلاحات اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے بجائے مزید مرکزیت پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
یہ نکتہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان کا حکمرانی کا بحران صرف انتظامی نااہلی کا مسئلہ نہیں بلکہ ادارہ جاتی حدود کا بحران بھی ہے۔ سیاسی جماعتیں، بیوروکریسی، عدلیہ اور فوج بارہا ایک دوسرے کے دائرۂ اختیار میں داخل ہوتی رہی ہیں، جس کے نتیجے میں احتساب کمزور اور اختیار کے متوازی مراکز مضبوط ہوئے ہیں۔
اس مسئلے کا حل اوپر سے مسلط کی گئی کسی نئی انتظامی ترتیب میں نہیں۔ پاکستان کو مضبوط اداروں، واضح آئینی دائرۂ اختیار اور زیادہ مؤثر سیاسی احتساب کی ضرورت ہے۔
خواہ فوری تنازع تحریکِ انصاف کے احتجاج سے متعلق ہو، عمران خان کی قید سے یا ملک کے سیاسی ڈھانچے کو ازسرِنو ترتیب دینے کی تجاویز سے، بنیادی سوال ایک ہی ہے: کیا پاکستان کے مستقبل کا تعین آئینی ادارے کریں گے یا پھر ہر دور میں وہ قوت جو اس وقت سب سے زیادہ طاقت رکھتی ہو؟









