پاکستان میں ہیپاٹائٹس کا بحران: قومی صحت کی ہنگامی صورتِ حال سے فوری نمٹنے کا وقت

[post-views]
[post-views]

Dr Bilawal Kamran

عالمی یومِ ہیپاٹائٹس ہر سال دنیا کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس بیماری کے خلاف اپنی پیش رفت، کامیابیوں اور ناکامیوں کا جائزہ لے۔ پاکستان کے لیے یہ دن صرف ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ملک ایک ایسے خاموش مگر تباہ کن بحران سے گزر رہا ہے جس نے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ اعداد و شمار محض طبی معلومات نہیں بلکہ قومی حکمرانی، صحت عامہ اور ریاستی ترجیحات پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہیں۔ اگر اب بھی مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید گہرا ہوتا جائے گا اور اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

پاکستان اس وقت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں وائرل ہیپاٹائٹس کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔ سب سے تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً ایک کروڑ اڑتیس لاکھ پاکستانی ہیپاٹائٹس بی یا ہیپاٹائٹس سی کے دائمی مرض میں مبتلا ہیں، جبکہ ہر سال سینتیس ہزار سے زیادہ افراد جگر کے سکڑنے، جگر کے سرطان اور دیگر پیچیدگیوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ یہ اموات ناگزیر نہیں بلکہ بڑی حد تک قابلِ روک تھام ہیں۔ جدید طب نے اس بیماری کی تشخیص، علاج اور روک تھام کے مؤثر ذرائع فراہم کر دیے ہیں، مگر پاکستان میں ان سہولتوں تک رسائی اور ان پر عمل درآمد ابھی تک ناکافی ہے۔

ہیپاٹائٹس ان بیماریوں میں شامل ہے جنہیں مناسب حکمتِ عملی کے ذریعے بڑی حد تک ختم کیا جا سکتا ہے۔ ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کے لیے مؤثر ویکسین کئی برسوں سے دستیاب ہے، جبکہ ہیپاٹائٹس سی کا علاج جدید ادویات کے ذریعے کامیابی سے ممکن ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک نے ویکسینیشن، محفوظ طبی طریقہ کار اور عوامی آگاہی کے ذریعے اس بیماری کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی کی ہے، لیکن پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ دس ہزار نئے ہیپاٹائٹس سی کے مریض سامنے آتے ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے موجود نظام اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہے۔

اس بحران کی سب سے بڑی وجہ وائرس کی پیچیدگی نہیں بلکہ صحت کے شعبے میں رائج غیر محفوظ طریقہ کار ہیں۔ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، جراحی اور طبی آلات کی ناقص جراثیم کشی، غیر محفوظ انجیکشن، اور خون کی مناسب جانچ کے بغیر انتقال جیسی خطرناک روایات اب بھی عام ہیں۔ یہ مسائل طبی سہولتوں کی کمی سے زیادہ نگرانی، احتساب اور انتظامی کمزوریوں کا نتیجہ ہیں۔ جب تک ان بنیادی خامیوں کو دور نہیں کیا جاتا، ہیپاٹائٹس کے خلاف کوئی بھی مہم دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔

یہ خطرہ صرف ہسپتالوں تک محدود نہیں۔ ملک بھر میں ہزاروں دندان سازی کے مراکز، حجام کی دکانیں، بیوٹی پارلر، ٹیٹو اور جسمانی آرائش کے مراکز ایسے ہیں جہاں صفائی اور جراثیم سے پاک آلات کے اصولوں پر مناسب عمل نہیں کیا جاتا۔ ایک ہی استرا یا آلہ کئی افراد پر استعمال کرنا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے، حالانکہ یہی عمل وائرس کی منتقلی کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عطائیوں کی بڑی تعداد بھی ملک کے مختلف علاقوں میں بلا خوف و خطر کام کر رہی ہے۔ حکومتیں برسوں سے ان کے خلاف کارروائیوں کے اعلانات کرتی رہی ہیں، مگر زمینی حقیقت میں کوئی نمایاں تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ یہ صورتحال قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ ریگولیٹری نظام کی کمزوری کو نمایاں کرتی ہے۔

صحت کے شعبے کی نگرانی کرنے والے اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔ لائسنسنگ، معائنہ، نگرانی اور احتساب کے موجودہ نظام میں کئی خامیاں موجود ہیں۔ بہت سے طبی مراکز برسوں تک بغیر کسی مؤثر معائنے کے کام کرتے رہتے ہیں، جبکہ حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی پر نہ تو سخت سزائیں دی جاتی ہیں اور نہ ہی ایسے مراکز کے خلاف فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ جب قانون کی خلاف ورزی پر کوئی مؤثر احتساب نہ ہو تو غیر محفوظ طبی رویے معمول بن جاتے ہیں اور عوام کی صحت مسلسل خطرے میں رہتی ہے۔

ہیپاٹائٹس صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین معاشی چیلنج بھی ہے۔ دائمی جگر کی بیماریوں کا علاج انتہائی مہنگا ہوتا ہے، جس کا بوجھ زیادہ تر عام خاندانوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ بار بار ہسپتال میں داخلے، مہنگی ادویات، کام کرنے کی صلاحیت میں کمی اور قبل از وقت اموات نہ صرف خاندانوں کو معاشی مشکلات میں مبتلا کرتی ہیں بلکہ قومی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اگر حکومت بروقت روک تھام، ویکسینیشن اور ابتدائی تشخیص پر سرمایہ کاری کرے تو مستقبل میں علاج پر آنے والے بھاری اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

عوامی آگاہی کا فقدان بھی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ بہت سے لوگ اب بھی یہ نہیں جانتے کہ ہیپاٹائٹس کیسے پھیلتا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ عام طبی معائنہ، دانتوں کا علاج، غیر معیاری خون کی منتقلی، کان یا ناک چھدوانا، ٹیٹو بنوانا یا غیر محفوظ استرے سے شیو کرانا بھی وائرس کی منتقلی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے باوجود عوام میں اس حوالے سے معلومات محدود ہیں۔ مزید برآں، بیماری سے وابستہ سماجی بدنامی بھی بہت سے مریضوں کو بروقت تشخیص اور علاج سے دور رکھتی ہے۔ اس لیے آگاہی مہمات کو صرف ایک دن یا ایک ہفتے تک محدود رکھنے کے بجائے مستقل قومی پالیسی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

پاکستان کو اب اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایک جامع قومی حکمتِ عملی مرتب کی جائے جس میں واضح اہداف، مناسب مالی وسائل، قابلِ پیمائش نتائج اور شفاف نگرانی کا نظام موجود ہو۔ تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عمل کرایا جائے، خون کے تمام مراکز کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے، اور حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔ طبی عملے کی مسلسل تربیت، محفوظ طبی فضلے کے انتظام اور جدید تشخیصی سہولتوں کی فراہمی کو بھی قومی ترجیحات میں شامل کیا جانا چاہیے۔

ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کے لیے ہر نومولود بچے کو پیدائش کے فوراً بعد حفاظتی ٹیکہ لگانا یقینی بنایا جائے، جبکہ ہیپاٹائٹس سی کی بروقت تشخیص اور سستے علاج تک ہر شہری کی رسائی ممکن بنائی جائے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو باہمی تعاون کے ساتھ ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جس میں سرکاری ادارے، نجی شعبہ، بین الاقوامی تنظیمیں، طبی ماہرین اور سماجی تنظیمیں مشترکہ طور پر اس قومی مہم میں حصہ لیں۔ جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مریضوں کا ریکارڈ، بیماری کی نگرانی اور علاج کے نتائج کا مؤثر جائزہ بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے تاکہ پالیسی سازی مستند معلومات کی بنیاد پر ہو۔

ہیپاٹائٹس کے خلاف جنگ دراصل ریاستی نظم و نسق، قانون کی حکمرانی اور عوامی خدمت کے معیار کا امتحان ہے۔ دنیا کے وہ ممالک جو اس بیماری پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے، انہوں نے سیاسی عزم، مضبوط اداروں، مسلسل سرمایہ کاری اور عوامی شمولیت کو اپنی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا۔ پاکستان کے پاس بھی ویکسین، مؤثر ادویات، ماہرین اور طبی صلاحیت موجود ہے، مگر ان وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کے لیے پائیدار سیاسی عزم اور انتظامی سنجیدگی کی ضرورت ہے۔

عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کو صرف ایک رسمی تقریب یا سرکاری بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اسے ایک ایسے قومی عہد میں تبدیل ہونا چاہیے جس کے تحت ہیپاٹائٹس کے خاتمے کو صحت عامہ کی اولین ترجیح قرار دیا جائے۔ ہر سال ہزاروں پاکستانیوں کی جانیں ایسی بیماری سے ضائع ہو رہی ہیں جس کی روک تھام اور علاج دونوں ممکن ہیں۔ اگر آج فیصلہ کن اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کر لے گا۔ ایک صحت مند، مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد اسی وقت رکھی جا سکتی ہے جب ریاست اس خاموش وبا کو قومی ہنگامی صورتحال سمجھتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے فوری، مربوط اور مستقل اقدامات کرے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]