ندیم الحق
پاکستان کی معاشی پالیسی آج بھی محبوب الحق کے دور کے پرانے تصور میں جکڑی ہوئی ہے، جہاں امداد اور قرضوں سے چلنے والے بڑے ترقیاتی منصوبوں کو ہی معاشی ترقی کا راستہ سمجھا جاتا ہے۔ ہم نئی سوچ اپنانے یا پالیسی میں جدت پیدا کرنے کے بجائے ماضی کے نمونوں کو دہراتے رہتے ہیں۔ یہی طرزِ فکر بار بار پیدا ہونے والے ادائیگیوں کے توازن کے بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
ہر حکومت میٹرو، شاہراہوں اور دیگر بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں جیسے نمایاں منصوبوں کی طرف دوڑتی ہے۔ یہ منصوبے اکثر ناکافی تجزیے، کمزور منصوبہ بندی اور ناقص عملدرآمد کے باعث نہ صرف قرضوں میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ طویل المدتی معاشی مسائل بھی پیدا کرتے ہیں۔
وزارتِ خزانہ بجٹ سازی اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے کمزور کارکردگی کا شکار ہے۔ فیصلے اکثر سیاسی دباؤ اور مفاداتی گروہوں کے زیرِ اثر کیے جاتے ہیں، جبکہ مالی نظم و ضبط کے نام پر مختلف اداروں پر وقتی کفایت شعاری مسلط کر دی جاتی ہے، حالانکہ دنیا بھر میں اس طرزِ عمل کو غیر مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
گزشتہ تقریباً پچاس برس سے ملک میں سنجیدہ معاشی منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ جب سے وزارتِ خزانہ نے پلاننگ کمیشن کو اپنے دائرۂ اختیار میں لیا ہے، عوامی شعبے کے ترقیاتی پروگرام میں من مانی کٹوتیاں اور سیاسی ترجیحات کو فوقیت دینا معمول بن گیا ہے۔
اس کے نتیجے میں معاشی نمو قومی پالیسی کا بنیادی مقصد ہی نہیں رہی۔ نہ اس پر سنجیدہ تحقیق ہوتی ہے، نہ مؤثر تجزیہ اور نہ ہی قومی سطح پر کوئی فکری مکالمہ۔
پلاننگ کمیشن کے پاس نہ وہ مہارت ہے اور نہ ہی وہ اختیار کہ وہ مؤثر ترقیاتی حکمتِ عملی تشکیل دے سکے، جبکہ وزارتِ خزانہ بھی اہم منصوبوں اور وسیع تر ترقیاتی پالیسی میں اس سے خاطر خواہ مشاورت نہیں کرتی۔ یوں معاشی ترقی قومی ایجنڈے سے تقریباً غائب ہو چکی ہے۔
ہم نے جمود پر مبنی سوچ کو قبول کر لیا ہے۔ ترقی، پیداواریت، مواقع اور معاشی وسعت پر توجہ دینے کے بجائے سارا زور سماجی تحفظ اور خیرات پر ہے۔ ہم بیماری کی علامات کا علاج کرتے ہیں، مگر خوشحالی کی بنیادیں استوار نہیں کرتے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی وجہ سے حکومت کے پاس پالیسی بنانے کی گنجائش نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے پروگرام مذاکرات کے ذریعے طے پاتے ہیں۔ اگر حکومت تحقیق پر مبنی اپنی واضح حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھے تو وہ بہتر شرائط پر مؤثر مذاکرات کر سکتی ہے۔
چونکہ ہم اپنی معاشی پالیسی کو مکمل طور پر اپنا نہیں سمجھتے اور مقامی تحقیق و دانش پر سرمایہ کاری نہیں کرتے، اس لیے عملدرآمد بھی کمزور رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار بحرانوں کا شکار ہوتے ہیں اور دوبارہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پاس جانا پڑتا ہے۔
مضبوط مقامی پالیسی سازی کی صلاحیت کا کوئی متبادل نہیں۔ معاشی پالیسی ایک پیچیدہ عمل ہے جس کے لیے مختلف اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ضروری ہے، نہ کہ صرف وزارتِ خزانہ میں محدود مالیاتی فیصلے۔
آخری بات:
یہ حیرت کی بات ہے کہ پاکستانی کرکٹ اور قومی ٹیم پر تو گھنٹوں بحث کرتے ہیں، مگر اپنی معاشی “ٹیم”، اس کی حکمتِ عملی اور پالیسی سازی میں بہت کم دلچسپی لیتے ہیں۔ جب تک یہ رویہ تبدیل نہیں ہوتا، حقیقی ترقی کا خواب پورا ہونا مشکل رہے گا۔
مصنف پلاننگ کمیشن کے سابق ڈپٹی چیئرمین ہیں۔









