چند ہفتے پرانی نوجوانوں کی تحریک نے مودی حکومت کو پسپا کر دیا، آگے کیا ہوگا؟

[post-views]
[post-views]

ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک نریندر مودی کو بھارتی سیاست میں ناقابلِ شکست رہنما سمجھا جاتا رہا۔ ان کی حکومت نے مسلسل اپنے سیاسی مخالفین کو مات دی، عوامی بیانیے پر غلبہ برقرار رکھا اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں اختلافِ رائے کی گنجائش کو بتدریج محدود کر دیا۔

لیکن گزشتہ ہفتے کے آخر میں صرف چند ہفتے قبل وجود میں آنے والی نوجوانوں کی ایک احتجاجی تحریک نے وہ کام کر دکھایا جو بھارت کی مرکزی حزبِ اختلاف کی جماعتیں برسوں میں بھی نہ کر سکیں۔ اس تحریک نے مودی حکومت کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔

کئی روز تک ہزاروں نوجوان مظاہرین نئی دہلی کی سڑکوں پر موجود رہے۔ اس احتجاج کی قیادت ایک طنزیہ تحریک کر رہی تھی، جس نے خود کو “کاکروچ عوامی جماعت” کا نام دیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ جامعہ میں داخلے کے امتحان کے سوالیہ پرچے کے افشا ہونے کے ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے، کیونکہ ان کے مطابق اس واقعے نے لاکھوں طلبہ سے ان کے مستقبل کا منصفانہ موقع چھین لیا۔ احتجاج کا مرکزی مطالبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تھا، جن کے دورِ وزارت میں یہ واقعہ پیش آیا۔

ہفتے کے روز پردھان کے استعفے کے بعد جنتر منتر میں جشن کا سماں تھا، جہاں یہ احتجاجی تحریک اپنا مرکز قائم کیے ہوئے تھی۔ مظاہرین نے رات گئے تک رقص کیا، گیت گائے اور قومی پرچم لہراتے ہوئے اس کامیابی کو احتساب اور اجتماعی جدوجہد کی ایک نادر فتح قرار دیا۔

یہ واقعہ مودی کی جماعت کے لیے ایک اہم سیاسی دھچکا سمجھا جا رہا ہے، جو دو ہزار چودہ سے اقتدار میں آنے کے بعد کئی عوامی احتجاجی تحریکوں کا سامنا کرتی رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مودی کی مضبوط اور ناقابلِ چیلنج رہنما کی شبیہ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اس تحریک کی کامیابی نے بہت سے نوجوانوں کو یہ یقین دلایا ہے کہ حقیقی تبدیلی ممکن ہے۔

احتجاج میں شریک بائیس سالہ سافٹ ویئر انجینئر اکشت تیاگی نے کہا، “ایک ہفتہ پہلے تک حکومت کو کوئی رائے دینا بھی ممکن نہیں تھا، لیکن اب ہر کوئی سڑکوں پر نکل آیا ہے اور لوگوں کو یقین ہونے لگا ہے کہ وہ حکومت سے اپنے حقوق کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔”

بھارت کے تین ہمسایہ ممالک، سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش، حالیہ برسوں میں نوجوانوں کی قیادت میں بڑے سیاسی ہنگاموں سے گزر چکے ہیں۔ اب بھارت میں بھی بعض حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا اس نئی تحریک کی کامیابی ملک میں کسی وسیع تر عوامی بیداری کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، جہاں نوجوانوں کی بے چینی ایک عرصے سے اندر ہی اندر بڑھ رہی تھی۔

“حکومت نے اس ردِعمل کی توقع نہیں کی تھی”

اس احتجاج میں شریک زیادہ تر نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے اپنی پوری شعوری زندگی مودی کے دورِ حکومت میں گزاری ہے۔ ان کی نوجوانی ایسے وعدوں کے سائے میں گزری جن میں قومی عظمت، معاشی خوشحالی اور نئے قومی تشخص کا خواب دکھایا گیا تھا۔ انہی وعدوں نے ان کی توقعات کو بھی تشکیل دیا۔

اگرچہ بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور مودی کے تین ادوارِ حکومت میں بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور صنعت میں بھاری سرمایہ کاری ہوئی، لیکن بہت سے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اس قومی ترقی کے ثمرات ان کی ذاتی زندگیوں تک نہیں پہنچ سکے۔

بھارت دنیا کی نوجوان ترین آبادیوں میں سے ایک ملک ہے، جہاں پندرہ سے انتیس سال کی عمر کے ساڑھے چھتیس کروڑ سے زیادہ افراد موجود ہیں، لیکن ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پچیس برس یا اس سے کم عمر کے تقریباً چالیس فیصد تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار ہیں۔

جب حکومت نے مئی میں اعتراف کیا کہ طب اور دندان سازی کے داخلہ امتحانات کے سوالیہ پرچے افشا ہو گئے تھے اور لاکھوں طلبہ کو دوبارہ امتحان دینا پڑے گا، تو برسوں سے جمع ہونے والی بے چینی کھلے غصے میں تبدیل ہو گئی۔

ابتدا میں ایک طنزیہ آن لائن منصوبے کے طور پر قائم ہونے والی کاکروچ عوامی جماعت، جسے بوسٹن یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ابھیجیت دیپکے نے شروع کیا تھا، جلد ہی نوجوان نسل کی بے چینی کی علامت بن گئی۔ اس نے نوجوانوں کو روزگار، حکمرانی اور ترقی کے محدود مواقع جیسے مسائل پر آواز اٹھانے کا پلیٹ فارم فراہم کیا۔

نئی دہلی کے مرکز برائے پالیسی تحقیق سے وابستہ سیاسی ماہر راہول ورما نے کہا، “یہ یقیناً حکمران جماعت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ شاید حکومت نے اس بات کا اندازہ نہیں لگایا تھا کہ معاشرے میں اس قدر بے چینی اور اضطراب جمع ہو چکا ہے۔”

اپنے بارہ سالہ دورِ حکومت میں حکمران جماعت نے کئی احتجاجی تحریکوں کا سامنا کیا، جن میں اچانک کرنسی کی منسوخی کے خلاف عوامی ردِعمل، متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج اور زرعی اصلاحات کے خلاف کسانوں کی طویل تحریک شامل تھیں۔

راہول ورما کے مطابق ان تمام تحریکوں کی بنیاد پالیسی یا نظریاتی اختلافات تھے، جن کا حکومت اپنے حامیوں کو متبادل بیانیہ دے کر مقابلہ کر لیتی تھی۔

لیکن ان کے بقول کاکروچ عوامی جماعت کی تحریک انتظامی ناکامی کے خلاف ابھرنے والی پہلی بڑی عوامی تحریک ہے، اور اسی وجہ سے حکومت کے لیے اسے قابو میں رکھنا پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]