بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

اسرائیل میں تاریخی انتخابات: جنگ، سیاسی تقسیم اور بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کے دوران نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل غیر یقینی

[post-views]
[post-views]

ریپبلک پالیسی | بین الاقوامی امور و سیاست

یروشلم، 27 اکتوبر 2026: اسرائیل میں منگل کے روز پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ شروع ہوئی۔ یہ انتخابات ایک ایسے نازک سیاسی اور علاقائی ماحول میں منعقد ہو رہے ہیں جہاں وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل، ملک کی آئندہ حکومتی سمت اور بین الاقوامی تعلقات اہم سوالات بن چکے ہیں۔

تین برس سے جاری تباہ کن علاقائی تنازعات، داخلی سیاسی اختلافات اور بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید نے ان انتخابات کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔

فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل بھر میں 12 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے، جہاں یروشلم اور دیگر شہروں میں ووٹرز نے 120 رکنی پارلیمان، جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے، کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالنے کا عمل شروع کیا۔

یہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں اور اس کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں۔

یہ انتخابی عمل ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی، مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات اور اسرائیلی جمہوری اداروں کی آزادی سے متعلق طویل تنازعات کے پس منظر میں بھی منعقد ہو رہا ہے۔

رائے عامہ کے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد کو پارلیمانی اکثریت برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ تاہم حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے لیے بھی حکومت سازی کے لیے ضروری 61 نشستیں حاصل کرنا ایک اہم چیلنج ہے، جس کے باعث انتخابات کے بعد پیچیدہ اتحادی مذاکرات کا امکان موجود ہے۔

اس لیے یہ انتخابی مقابلہ محض نئے وزیرِ اعظم کے تعین تک محدود نہیں بلکہ اسرائیل کے سیاسی اداروں، قومی سلامتی کی پالیسیوں اور بین الاقوامی تعلقات کے مستقبل سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔

نیتن یاہو کو ایک اہم انتخابی چیلنج کا سامنا

76 سالہ بنیامین نیتن یاہو ایک مرتبہ پھر عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اسرائیل کی تاریخ کی انتہائی دائیں بازو کی حکومتوں میں سے ایک کی قیادت کر چکے ہیں۔

اکتوبر 2023 کے حملوں سے قبل سلامتی کے انتظامات میں ناکامی، غزہ میں طویل فوجی کارروائیوں اور جمہوری اداروں کے بارے میں حکومتی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے اختلافات نے ان کی سیاسی حیثیت کو متاثر کیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کو بدعنوانی سے متعلق تین مختلف مقدمات میں قانونی کارروائیوں کا بھی سامنا ہے۔

نیتن یاہو اپنے خلاف الزامات کی تردید کرتے ہیں، جبکہ یہ مقدمات تاحال زیرِ سماعت ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی سطح پر نیتن یاہو کی حمایت کی ہے اور اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے انہیں صدارتی معافی دینے کی اپیل بھی کی ہے۔

تاہم نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل بالآخر انتخابی نتائج اور پارلیمان میں حکومتی اکثریت تشکیل دینے کی صلاحیت سے وابستہ ہے۔

اسرائیل کے منتشر اور کثیرالجماعتی سیاسی نظام میں کسی ایک جماعت کی نمایاں انتخابی کامیابی بھی لازماً حکومت سازی کی ضمانت نہیں بنتی۔

اسی لیے انتخابات کے بعد سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور اتحادی انتظامات فیصلہ کن اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔

گادی آئزنکوٹ حزبِ اختلاف کے اہم امیدوار کے طور پر سامنے آئے

اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ گادی آئزنکوٹ نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

آئزنکوٹ اعتدال پسند سیاسی جماعت یاشار کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں سیاسی جواب دہی، ادارہ جاتی دیانت داری اور نیتن یاہو کی حکمرانی پر تنقید کو بنیادی اہمیت دی ہے۔

ان کا فوجی پس منظر قومی سلامتی کے بارے میں فکرمند ووٹرز کے لیے اہمیت رکھتا ہے، جبکہ ان کا نسبتاً محتاط سیاسی انداز انہیں موجودہ وزیرِ اعظم سے ممتاز کرتا ہے۔

آئزنکوٹ نے اکتوبر 2023 کے حملوں کو ممکن بنانے والی سلامتی کی ناکامیوں کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

وہ انتہائی قدامت پسند یہودی مذہبی طبقے کے مردوں کو لازمی فوجی خدمات سے حاصل استثنا ختم کرنے کے بھی حامی ہیں۔ یہ مسئلہ اسرائیل میں طویل عرصے سے سیاسی اور سماجی اختلافات کا سبب بنا ہوا ہے۔

تاہم اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے بارے میں ان کے مؤقف کے بعض پہلو اب بھی پوری طرح واضح نہیں۔

اگرچہ وہ یہودی بستیوں کی توسیع کے بعض منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں حکومتی انتظامات پر تنقید کر چکے ہیں، لیکن انہوں نے دو ریاستی حل پر مبنی کسی جامع امن معاہدے کی واضح حمایت نہیں کی۔

اس طرح ان کی سیاسی اپیل بڑی حد تک زیادہ جواب دہ حکمرانی کے وعدے سے وابستہ ہے، نہ کہ اسرائیل کی علاقائی سلامتی کی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی کے کسی واضح پروگرام سے۔

غزہ کی جنگ اور انتخابات کی بین الاقوامی اہمیت

غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتائج ان انتخابات کی بین الاقوامی اہمیت کا مرکزی پہلو ہیں۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ ان حملوں کے دوران متعدد افراد کو یرغمال بھی بنایا گیا۔

اس کے بعد اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی پیدا کی۔

فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق ان کارروائیوں میں فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

شہری ہلاکتوں، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور رہائشی و شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کو جنم دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن، انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین نے اسرائیلی اقدامات کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ ان نتائج اور الزامات سے متعلق بین الاقوامی قانونی اور سیاسی مباحث جاری ہیں۔

غزہ کی جنگ نے اسرائیل کی سفارتی حیثیت کو بھی متاثر کیا ہے اور ان ممالک کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا کیا ہے جو روایتی طور پر اسرائیل کے قریبی شراکت دار رہے ہیں۔

تاہم فلسطینی عوام کے لیے ان انتخابات کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ انہیں غزہ یا مقبوضہ مغربی کنارے کے بارے میں اسرائیلی پالیسیوں کے تعین میں براہِ راست انتخابی اختیار حاصل نہیں۔

یہ جمہوری عدم توازن علاقائی امن کے حوالے سے انتخابات کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیتے وقت ایک اہم سوال بن جاتا ہے۔

انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کا سیاسی اثرورسوخ بڑھنے کا امکان

اگرچہ نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد کو پارلیمانی اکثریت کھونے کا خدشہ ہے، لیکن اسرائیل کے وسیع تر سیاسی منظرنامے میں دائیں بازو کی سیاست کا اثر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر اور ان کی جماعت جیوش اسٹرینتھ، جسے عبرانی میں اوتزما یہودیت کہا جاتا ہے، آئندہ سیاسی انتظامات میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

16 اکتوبر کو اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم میں شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق بن گویر کی جماعت کے لیے نو پارلیمانی نشستوں کی پیش گوئی کی گئی، جبکہ اسرائیل کی تاریخی لیبر تحریک کی جانشین جماعت ڈیموکریٹس کے لیے آٹھ نشستوں کا تخمینہ ظاہر کیا گیا۔

یہ اعداد و شمار اسرائیلی سیاست میں نظریاتی توازن کی تبدیلی کو نمایاں کرتے ہیں۔

نوجوان یہودی ووٹرز میں بھی دائیں بازو اور قوم پرستانہ سیاسی رجحانات کی حمایت قابلِ ذکر ہے۔

فراہم کردہ رپورٹ میں مذکور چینل 12 کے ایک سروے کے مطابق پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والے تقریباً تین چوتھائی یہودی ووٹرز نے اپنی سیاسی شناخت دائیں بازو یا اعتدال پسند دائیں بازو سے منسلک کی۔

بعض تجزیہ کار اس رجحان کو طویل عدم تحفظ، ماضی کے امن اقدامات کی ناکامی اور قوم پرستانہ سیاسی بیانیے کے اثرات سے منسلک کرتے ہیں۔

دائیں بازو کی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھانے یا مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی توسیع روکنے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو سکتی ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے سے متعلق پالیسیوں پر عالمی تنقید

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور فلسطینی آبادی کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کے واقعات بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

نیتن یاہو کی حکومت کے دوران انتہائی دائیں بازو کی سیاسی شخصیات نے اس علاقے سے متعلق پالیسیوں پر نمایاں اثرورسوخ حاصل کیا۔

فلسطینی آبادی کے خلاف تشدد کی اطلاعات اور اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع کے بعد بین الاقوامی تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔

متعدد حکومتوں نے انتہا پسند آبادکاروں کی سرگرمیوں سے منسلک افراد کے خلاف اقدامات متعارف کرائے ہیں یا ایسے اقدامات پر غور کیا ہے۔

گادی آئزنکوٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے معاملات سے متعلق اہم اختیارات انتہائی دائیں بازو کے وزیر بیزلیل سموٹریچ کو منتقل کرنے پر تنقید کی ہے اور اس انتظام کے بعض پہلو تبدیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

تاہم اسرائیلی بستیوں کے بارے میں ان کی عمومی حمایت یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ حزبِ اختلاف کی قیادت میں قائم ہونے والی ممکنہ حکومت موجودہ پالیسیوں میں کس حد تک حقیقی تبدیلی لا سکے گی۔

اس لیے انتظامی تبدیلیوں اور بنیادی سیاسی اصلاحات کے درمیان فرق انتخابات کے بعد بھی اہم رہے گا۔

انتخابی نتائج مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری پر اثرانداز ہو سکتے ہیں

یہ انتخابات ایک ایسے غیر مستحکم علاقائی ماحول میں منعقد ہو رہے ہیں جہاں اسرائیل، ایران اور دیگر پڑوسی ممالک کے درمیان فوجی تصادم کے اثرات بدستور موجود ہیں۔

ان تنازعات نے توانائی کی بین الاقوامی منڈیوں کو متاثر کیا، سفارتی کشیدگی میں اضافہ کیا اور عالمی معیشت میں مزید غیر یقینی صورتِ حال پیدا کی۔

اسرائیل کی آئندہ حکومت کو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات، علاقائی سلامتی کے انتظامات، غزہ کے مستقبل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اہم فیصلے کرنا ہوں گے۔

نیتن یاہو کی قیادت برقرار رہنے کی صورت میں موجودہ سیاسی ترجیحات جاری رہ سکتی ہیں، جبکہ حزبِ اختلاف کی کامیابی حکمرانی کے انداز اور سفارتی روابط میں بعض تبدیلیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

تاہم ان میں سے کوئی بھی نتیجہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکراتی تصفیے کی خودکار ضمانت نہیں ہوگا۔

آئندہ حکومتی اتحاد کی تشکیل اس بات کے تعین میں اہم ہوگی کہ اسرائیل سیاسی مفاہمت کی جانب پیش رفت کرتا ہے یا اپنی موجودہ سلامتی پر مبنی حکمتِ عملی کو جاری رکھتا ہے۔

اسرائیل کے سیاسی مستقبل کا ایک فیصلہ کن امتحان

فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق منگل کے انتخابات میں تقریباً 70 لاکھ یہودی اسرائیلی اور اسرائیل کے 17 لاکھ فلسطینی شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

ان کے ووٹ پارلیمان میں سیاسی قوتوں کا توازن متعین کریں گے، تاہم حکومت سازی کا حتمی فیصلہ ممکنہ طور پر انتخابی نتائج کے بعد ہونے والے اتحادی مذاکرات سے ہوگا۔

فوری سیاسی سوالات نیتن یاہو کے اقتدار کے تسلسل اور حزبِ اختلاف کی قابلِ عمل حکومت تشکیل دینے کی صلاحیت سے متعلق ہیں۔

لیکن اس انتخابی عمل سے وابستہ زیادہ بنیادی سوالات جمہوری جواب دہی، طویل فوجی تنازعات کے نتائج اور اسرائیل کے بین الاقوامی تعلقات کے مستقبل سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ انتخابات اسرائیل کی سیاسی قیادت کو تبدیل کر سکتے ہیں، لیکن ان کی تاریخی اہمیت کا حقیقی تعین اس بات سے ہوگا کہ آئندہ حکومت اکتوبر 2023 کے بعد سے شدت اختیار کرنے والے سیاسی، سلامتی اور سفارتی بحرانوں سے کس طرح نمٹتی ہے۔

ووٹنگ کے جاری عمل کے دوران ایک منقسم پارلیمان کا امکان اسرائیل کے سیاسی مستقبل کو غیر یقینی بنائے ہوئے ہے۔

ایسے وقت میں جب اسرائیلی حکومت کے فیصلوں کے اثرات اس کی سرحدوں سے کہیں آگے تک محسوس کیے جا رہے ہیں، ان انتخابات کے نتائج نہ صرف ملکی سیاست بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری اور علاقائی استحکام کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]