بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری، ٹرمپ پرامید، خطے میں ڈرون حملوں سے کشیدگی برقرار

[post-views]
[post-views]

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان “اچھی بات چیت” جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچے تو امریکی فضائی حملے دوبارہ شروع کر دیے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ کے اس پرامید بیان کے باوجود ایران نے بظاہر امریکی فوجی کارروائی میں وقفے کو فوری طور پر آزمایا۔ سعودی عرب، اردن اور عراق نے پیر کے روز ڈرون حملوں کی اطلاعات دیں۔ امریکا نے ہفتے کے روز ایران کے خلاف جاری دو ہفتوں پر محیط فضائی کارروائی اچانک معطل کر دی تھی، جو گزشتہ پانچ ماہ سے جاری تنازع میں ایک اور اہم موڑ قرار دی جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا، “ہماری بات چیت اچھی جا رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ معاہدے کا اچھا امکان موجود ہے۔ اگر ایسا ہو گیا تو بہتر ہوگا، اور اگر نہ ہوا تو ہم وہی کریں گے جو دو روز پہلے کر رہے تھے۔” بعد ازاں ریاست مشی گن میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زیادہ سخت لہجہ اختیار کیا اور کہا، “انہیں رعایت دے کر نہیں منایا جا سکتا، انہیں طاقت سے شکست دینا ہوگی، اور ہم انہیں سخت شکست دیں گے۔ تاہم دیکھتے ہیں کہ معاملات کہاں جاتے ہیں۔ اس وقت نہایت دوستانہ مذاکرات جاری ہیں۔”

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور ایران نے سفارت کاری کا راستہ ترک نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا کہ ایران نے خود مذاکرات کی درخواست کی ہے۔ ان کے بقول، “یہ ہماری روایت نہیں۔” ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے اتوار کو بتایا تھا کہ جب تک صدر ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی برقرار رہے گی، ایران بھی مزید حملوں سے گریز کرے گا۔

دوسری جانب ایران کی مرکزی فوجی کمان نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ ایرانی علاقائی پانیوں میں بحری جہازوں اور تیل بردار جہازوں کو دھمکا رہا ہے اور غیر قانونی بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جسے ایران نے علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ قرار دیا۔

سعودی عرب نے کہا کہ اس نے ریاض سمیت تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ڈرون مار گرائے، جنہیں اس کے مطابق عراق میں موجود ایران نواز مسلح گروہوں نے داغا تھا۔ سعودی حکومت نے کہا کہ وہ اس کارروائی کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

ادھر یمن میں ایران کے حوثی اتحادیوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کی مشرق۔مغرب تیل پائپ لائن پر حملہ کیا ہے، جو تیل کو بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی سعودی ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔

ایران نے ایک بار پھر کہا کہ آبنائے ہرمز پر اس کا مکمل کنٹرول برقرار ہے۔ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک نہایت اہم بحری راستہ ہے، جسے کھلا رکھنے کا مطالبہ صدر ٹرمپ مسلسل کرتے رہے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

ایران کے خلاف جنگ پر امریکی عوام کی بڑھتی ہوئی مخالفت صدر ٹرمپ اور ان کی جماعت پر دباؤ بڑھا رہی ہے، خصوصاً نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل، جہاں انہیں کانگریس میں اپنی محدود اکثریت کا دفاع کرنا ہوگا۔

ہفتہ وار عوامی جائزے کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت بڑھ کر 37 فیصد ہو گئی ہے، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں تین فیصد زیادہ ہے۔ اس کے باوجود صرف ہر تین میں سے ایک امریکی ایران کے خلاف جنگ کی حمایت کرتا ہے، جبکہ اکثریت کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ جنگ کے مقاصد واضح کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

فضائی حملوں میں وقفے اور مذاکرات کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی۔ امریکی خام تیل 8.21 فیصد کمی کے بعد 81.98 ڈالر فی بیرل جبکہ برینٹ خام تیل 9.31 فیصد کمی کے بعد 87.77 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔

امریکی فوجی قیادت کی تشویش

امریکی حکام اور ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ٹرمپ نے فضائی حملے روکنے کا فیصلہ فوجی قیادت کے مشورے پر کیا، جس کا مؤقف تھا کہ بمباری اپنی عملی حد تک پہنچ چکی ہے۔ حکام کے مطابق فوجی کمان نے بتایا کہ حملوں کے لیے اہم اہداف کم رہ گئے ہیں، جبکہ فضائی اسلحے کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج اپنے ذخائر تیزی سے بحال کر رہی ہے، جو یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کے باعث کم ہوئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ مزید جدید ہتھیاروں تک رسائی چاہتے ہیں۔

چھ بحری جہاز واپس بھیجنے کا دعویٰ

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ایران نے پیر کے روز چھ بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے سے روک کر واپس بھیج دیا، کیونکہ وہ ایران کی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی فضائی کارروائی اس وقت شروع کی تھی جب ایران نے ان بحری جہازوں پر حملے کیے تھے جو امریکا کی تجویز کردہ بحری گزرگاہ استعمال کر رہے تھے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جہاز صرف اسی راستے سے گزر سکتے ہیں جو اس کے ساحل کے قریب واقع ہے اور جس پر اس کا کنٹرول ہے، جبکہ وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے راہداری فیس بھی وصول کی جائے گی۔

دو ہفتوں تک جاری امریکی بمباری میں ایران میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے اور جنوبی علاقوں میں پل، سرنگیں اور فوجی تنصیبات تباہ ہوئیں۔ جوابی کارروائیوں میں پڑوسی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملوں کے دوران چار امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے، جبکہ ایران نے خلیجی ممالک میں شہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا اور اسے امریکی حملوں کا جواب قرار دیا۔

دونوں ممالک جون میں ایک ابتدائی مفاہمتی خاکے پر متفق ہوئے تھے، جس کے تحت اگست کے اختتام تک ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر مذاکرات مکمل ہونا تھے۔ تاہم آبنائے ہرمز سے متعلق مفاہمتی دستاویز کی تشریح پر اب بھی اختلاف برقرار ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ معاہدہ بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی نگرانی اور اختیار تہران کے پاس ہوگا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]