امریکا کے ایران پر مسلسل نویں شب حملے، تیل مہنگا، ہلاکتوں کی تعداد سترہ ہو گئی

[post-views]
[post-views]

ڈیسک

امریکا نے ایران پر مسلسل نویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی مرکزی عسکری قیادت کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کی اُن فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے جنہیں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

حملوں کے نئے سلسلے کے ساتھ امریکا نے ایک اور فوجی کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی ہے۔ شمالی عراق میں ایرانی بغیر پائلٹ کے طیارے کے ملبے سے ملنے والے غیر پھٹے ہوئے بارودی مواد کو ناکارہ بنانے کے دوران ہونے والے دھماکے میں امریکی فوجی ہلاک ہو گیا، جس کے بعد اس جنگ میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد سترہ ہو گئی ہے۔

امریکی مرکزی عسکری قیادت نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں جانی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اور فوجی زخمی ہوا ہے، جبکہ اردن سے انسانی باقیات بھی برآمد ہوئی ہیں، جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اس فوجی کی ہو سکتی ہیں جو جمعہ کے روز ایران کی جوابی کارروائی کے بعد لاپتا قرار دیا گیا تھا۔

جانی نقصان کے باوجود امریکی عسکری قیادت پسپائی کے آثار نہیں دکھا رہی اور ایران کے خلاف فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ ایرانی درآمدات کی بحری ناکہ بندی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ حالیہ ہلاکتوں نے امریکی فوج کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے، اگرچہ ملک کے اندر حکومت پر جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

عالمی فٹ بال مقابلے کا فائنل دیکھنے کے بعد واشنگٹن پہنچنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکا نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اعزاز میں ایران کو ایک بار پھر “شدید نشانہ بنایا”۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فوجی اس مقصد کے لیے لڑ رہے تھے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

جنگ کے اثرات اب میدانِ جنگ سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

بحرین میں امریکی سفارت خانے نے خبردار کیا ہے کہ ایران وسطی منامہ میں مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ سائرن یا دھماکوں کی آواز سنائی دینے پر فوری طور پر محفوظ مقام پر پناہ لیں۔

کویت کے حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں سے بجلی، تیل اور پانی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جن میں سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والا ایک اہم کارخانہ بھی شامل ہے، جس پر ملک کی پانی کی فراہمی کا انحصار ہے۔

علاقائی مبصرین کے مطابق اس صورتِ حال سے فوجی بحران کے ساتھ ایک انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

مارچ میں بھی دونوں جانب شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں نے خطے میں شدید تشویش پیدا کر دی تھی، تاہم بعد میں ان بیانات سے پسپائی اختیار کر لی گئی تھی۔

دوسری جانب توانائی کی عالمی منڈیوں نے بھی کشیدگی پر فوری ردِعمل ظاہر کیا۔

بین الاقوامی معیار کے خام تیل کی قیمت میں پیر کے روز ابتدائی کاروبار کے دوران تین فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور یہ نوے اعشاریہ پچاسی امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی بڑھ کر پچاسی اعشاریہ صفر پانچ امریکی ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

یہ اضافہ ایران کی جانب سے عبوری امن معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی معطلی اور آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا۔ اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رسد کے خدشات اور خلیجی پانیوں سے گزرنے والے جہازوں کے بیمہ اخراجات میں اضافے کے باعث قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

ادھر برطانوی بحری تجارتی نگرانی کے ادارے نے اطلاع دی ہے کہ عمان کے علاقے کمزار کے شمال مغرب میں تقریباً آٹھ بحری میل کے فاصلے پر ایک جہاز میں آگ لگ گئی، تاہم اس کی وجہ کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

واشنگٹن میں لبنان کے صدر میشل عون کے دورے کے بارے میں ایک سابق امریکی سفارت کار نے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری رکھنے کے سوا کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں۔

ان کے مطابق اسرائیلی انخلا کے لیے طے شدہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اس وقت تک ممکن نہیں جب تک لبنانی فوج حزب اللہ کو غیر مسلح نہ کرے، اور یہ اقدام داخلی سطح پر انتہائی حساس تصور کیا جاتا ہے۔

اگرچہ ریاستی ضمانتوں کے بدلے حزب اللہ کی جانب سے رضاکارانہ طور پر ہتھیار حوالے کرنے کا امکان موجود ہے، تاہم فی الحال اسے نہایت بعید سمجھا جا رہا ہے۔

ادھر ایرانی خبر رساں ادارے نے اطلاع دی ہے کہ امریکی حملوں کے آغاز کے فوراً بعد ایران کے پانچ شہروں، جن میں تبریز اور دو بڑی بندرگاہیں بھی شامل ہیں، میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

امریکی افواج نے بحری ناکہ بندی کے دوران چھ تجارتی جہازوں کا رخ بھی تبدیل کرایا جبکہ ایک اور جہاز کو ناکارہ بنا دیا۔

دوسری جانب کویت کی حکومت نے باضابطہ طور پر ایران پر اپنی بنیادی تنصیبات میں آگ لگنے اور شدید نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا، جس کی خلیجی ممالک نے بھی مذمت کی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]