بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

ایف بی آر نے اہم برآمدی شعبوں کے لیے ڈیوٹی ڈرا بیک کی شرحوں پر نظرثانی کر دی

[post-views]
[post-views]

ریپبلک پالیسی | تجارت، صنعت اور معاشی نظم و نسق

نئی شرحوں کا اطلاق 27 اکتوبر سے ہوگا۔ نظرثانی کا دائرہ ٹیکسٹائل، چمڑے، انجینئرنگ اور دیگر تیار شدہ برآمدی مصنوعات تک پھیلا ہوا ہے۔

اسلام آباد — فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے چار اہم شعبوں کی برآمدی مصنوعات پر ڈیوٹی ڈرا بیک کی شرحوں میں نظرثانی کر دی ہے۔ ان شعبوں میں ٹیکسٹائل اور اس سے متعلقہ مصنوعات، چمڑے کی اشیا، انجینئرنگ مصنوعات اور دیگر تیار شدہ اشیا شامل ہیں۔

نظرثانی شدہ شرحوں کا اطلاق 27 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔ ایف بی آر نے جمعرات کو اس سلسلے میں چار نوٹیفکیشن جاری کیے ہیں۔ ان نوٹیفکیشنز میں بتایا گیا ہے کہ برآمد کنندگان کو برآمدی اشیا کی تیاری میں استعمال ہونے والے درآمدی خام مال پر ادا کردہ کسٹمز ڈیوٹی کی کتنی رقم واپس مل سکے گی۔

ان تبدیلیوں کا تعلق ان صنعتوں سے ہے جو اپنی پیداوار کے لیے درآمدی خام مال اور دیگر اشیا پر انحصار کرتی ہیں۔ نئی شرحوں اور اہل درآمدی اشیا کی وضاحت کے ذریعے نظرثانی شدہ طریقۂ کار میں یہ طے کیا گیا ہے کہ برآمد کنندگان کن شرائط کے تحت ادا شدہ کسٹمز ڈیوٹی کی واپسی حاصل کر سکتے ہیں۔

چار نوٹیفکیشنز کے ذریعے نئی شرحوں کا تعین

ایف بی آر نے درج ذیل نوٹیفکیشنز جاری کیے ہیں:

  • SRO 1908(I)/2026: ٹیکسٹائل اور اس سے متعلقہ مصنوعات کے لیے ڈیوٹی ڈرا بیک کی شرحیں۔
  • SRO 1909(I)/2026: چمڑے اور اس سے متعلقہ مصنوعات کے لیے ڈیوٹی ڈرا بیک کی شرحیں۔
  • SRO 1910(I)/2026: انجینئرنگ اور اس سے متعلقہ مصنوعات کے لیے ڈیوٹی ڈرا بیک کی شرحیں۔
  • SRO 1911(I)/2026: دیگر مصنوعات کے لیے ڈیوٹی ڈرا بیک کی شرحیں۔

ان نوٹیفکیشنز میں ان خام مال اور درآمدی اشیا کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جن پر ڈیوٹی کی واپسی کا اطلاق ہوگا، جبکہ متعلقہ شرحوں اور شرائط کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

ڈیوٹی کی واپسی کے لیے شرائط

نظرثانی شدہ نوٹیفکیشنز کے مطابق، برآمدی اشیا کی تیاری میں استعمال ہونے والے درآمدی خام مال پر ادا کردہ کسٹمز ڈیوٹی مقررہ شرحوں اور متعلقہ شیڈول کے مطابق برآمد کنندگان کو واپس کی جا سکتی ہے۔

اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ تیار کردہ اشیا پاکستان سے برآمد کی گئی ہوں اور برآمد کنندہ مقررہ مدت کے اندر متعلقہ کسٹمز افسر کو ڈیوٹی کی واپسی کی درخواست جمع کرائے۔

درخواست برآمد کی تاریخ سے 210 دن کے اندر یا زرمبادلہ کی وصولی کی تاریخ سے 180 دن کے اندر جمع کرانا ہوگی۔ زرمبادلہ کی وصولی کی تاریخ کا تعین اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی متعلقہ ہدایات کے مطابق جاری کردہ بینک کریڈٹ ایڈوائس (Bank Credit Advice) سے کیا جائے گا۔

برآمد کنندگان کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ وہ اپنی ڈیوٹی واپسی کے دعوے کو گڈز ڈیکلریشن (Goods Declaration) اور دیگر متعلقہ برآمدی دستاویزات میں ظاہر کریں۔ ان دستاویزات میں برآمدی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہونے والے درآمدی خام مال پر ادا کردہ کسٹمز ڈیوٹی کی تفصیلات بھی درج کرنا ہوں گی۔

برآمدی صنعتوں کے لیے اہمیت

ڈیوٹی ڈرا بیک کا نظرثانی شدہ طریقۂ کار ان صنعتوں کے لیے اہم ہے جن کی پیداوار درآمدی خام مال اور درمیانی نوعیت کی مصنوعات پر منحصر ہے۔ اس طریقۂ کار کے تحت اہل برآمد کنندگان مخصوص شرحوں کے مطابق ادا شدہ کسٹمز ڈیوٹی واپس حاصل کر سکتے ہیں، جس سے درآمدی پیداواری اشیا کی لاگت کا بوجھ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم، اس سہولت کا حقیقی فائدہ ہر مصنوعات کے لیے مقرر کردہ شرح، درآمدی خام مال کی اہلیت اور برآمد کنندگان کی دستاویزی و قانونی تقاضے پورے کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہوگا۔

پاکستان کی برآمدی صنعتوں کے لیے ڈیوٹی کی واپسی کا قابلِ پیش گوئی طریقۂ کار اور دعووں پر بروقت کارروائی تجارتی سہولت کاری کے اہم تقاضے ہیں۔ اس لیے نظرثانی شدہ نظام کی افادیت کا انحصار صرف نئی شرحوں کے اعلان پر نہیں بلکہ کسٹمز حکام کی جانب سے ان پر یکساں اور مؤثر عمل درآمد پر بھی ہوگا۔

ماخذ: بزنس ریکارڈر؛ رپورٹ میں حوالہ دیے گئے ایف بی آر کے نوٹیفکیشنز۔ فراہم کردہ رپورٹ میں انفرادی مصنوعات کے لیے نظرثانی شدہ شرحوں کی تفصیل شامل نہیں۔


سلائیڈ شو: ایف بی آر نے برآمدی ڈیوٹی ڈرا بیک کی شرحیں تبدیل کر دیں

سلائیڈ 1 — ڈیوٹی ڈرا بیک کی نئی شرحیں

ایف بی آر نے چار اقسام کی برآمدی مصنوعات پر کسٹمز ڈیوٹی کی واپسی کی شرحوں پر نظرثانی کر دی۔ نئی شرحوں کا اطلاق 27 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔

سلائیڈ 2 — چار شعبے شامل

ٹیکسٹائل اور متعلقہ مصنوعات، چمڑے کی اشیا، انجینئرنگ مصنوعات اور دیگر تیار شدہ برآمدی اشیا۔

سلائیڈ 3 — چار نئے نوٹیفکیشنز

SRO 1908، 1909، 1910 اور 1911 (I)/2026 کے ذریعے نئی شرحوں اور متعلقہ شیڈولز کا تعین کیا گیا ہے۔

سلائیڈ 4 — برآمد کنندگان کیا واپس لے سکیں گے؟

اہل برآمد کنندگان برآمدی اشیا کی تیاری میں استعمال ہونے والے درآمدی خام مال پر ادا کردہ مخصوص کسٹمز ڈیوٹی کی واپسی کا دعویٰ کر سکیں گے۔

سلائیڈ 5 — درخواست جمع کرانے کی مدت

دعویٰ برآمد کے 210 دن کے اندر یا زرمبادلہ کی وصولی کے 180 دن کے اندر مقررہ شرائط کے مطابق جمع کرانا ہوگا۔

سلائیڈ 6 — دستاویزات کی اہمیت

برآمد کنندگان کو گڈز ڈیکلریشن اور دیگر متعلقہ برآمدی دستاویزات میں ڈیوٹی کی واپسی کا دعویٰ اور درآمدی خام مال پر ادا کردہ ڈیوٹی کی تفصیلات درج کرنا ہوں گی۔

سلائیڈ 7 — برآمدی پالیسی کا امتحان

نئے نظام کے اثرات کا انحصار مصنوعات کے لحاظ سے مقررہ شرحوں، دعووں پر بروقت کارروائی اور یکساں عمل درآمد پر ہوگا۔


Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]