ڈیسک
برطانیہ کے دفترِ خارجہ کی نئی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ حکمران جماعت کی جانب سے ترقیاتی امداد میں کی گئی کمی افریقی ممالک کو توقع سے کہیں زیادہ متاثر کرے گی، اور آئندہ تین برسوں میں بعض ممالک کے لیے دوطرفہ امداد میں نوے فیصد تک کمی متوقع ہے۔
اس ہفتے جاری ہونے والی وزارتِ خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں پہلی مرتبہ ملک بہ ملک یہ تفصیل پیش کی گئی ہے کہ ترقیاتی امداد کے بجٹ میں کمی کے اثرات کس طرح سامنے آئیں گے۔
ترقیاتی اداروں کے اتحاد کے تجزیے کے مطابق دو ہزار انتیس تک موزمبیق اور ملاوی کے لیے امداد میں نوے فیصد، روانڈا اور سیرالیون کے لیے اسی فیصد، جبکہ صومالیہ کے لیے تقریباً نصف امداد کم ہو جائے گی۔
ترقیاتی اداروں کے اتحاد کی سربراہ روملی گرین ہل نے خبردار کیا کہ حکومت ایسے معاشروں سے دستبردار ہو رہی ہے جو تنازعات اور موسمیاتی بحران کے دوہرے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اور اس کے نتیجے میں ایتھوپیا، یوگنڈا اور دیگر متاثرہ ممالک میں کمزور آبادی مزید غربت اور عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔
یہ کٹوتیاں گزشتہ برس وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کے اس فیصلے کا نتیجہ ہیں جس کے تحت ترقیاتی امداد کا ایک حصہ دفاعی اخراجات کی طرف منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے ترقیاتی امور کی وزیر اینلیز ڈوڈز نے استعفیٰ دے دیا تھا۔
اس کے بعد حکومت کی حکمتِ عملی براہِ راست ممالک کو امداد فراہم کرنے کے بجائے عالمی بینک جیسے کثیرالجہتی اداروں کے ذریعے فنڈز کی فراہمی پر مرکوز رہی، جس کا مؤقف یہ ہے کہ اس طریقے سے محدود وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا۔
وزیرِ خارجہ ایویٹ کوپر نے مارچ میں پارلیمان کو بتایا تھا کہ برطانیہ کئی ممالک میں بلاعوض امداد کی بلند سطح سے بتدریج پیچھے ہٹے گا، تاہم جدید شراکت داریوں کے ذریعے تعاون جاری رکھا جائے گا۔
امدادی ادارے اس مؤقف سے متفق نہیں۔ بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے کی عالمی پروگراموں کی سربراہ لیزا وائز نے کہا کہ مالی فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ برطانیہ عالمی سطح پر کس کردار کا خواہاں ہے، جبکہ جن ممالک کی امداد کم کی جا رہی ہے، وہی اس وقت سب سے زیادہ مدد کے محتاج ہیں۔
آئندہ وزیرِ اعظم اینڈی برنہم کی جانب سے نئے وزیرِ خارجہ کے تقرر کے بعد اس پالیسی کی ذمہ داری نئی قیادت پر عائد ہوگی، جبکہ موجودہ وزیرِ توانائی ایڈ ملی بینڈ کو اس منصب کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔
حکمران جماعت کے متعدد ارکان پہلے ہی اینڈی برنہم سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ ترقیاتی تعاون کے حوالے سے جماعت کی سابقہ شناخت بحال کریں، جس میں قومی آمدنی کا صفر اعشاریہ سات فیصد بیرونی ترقیاتی امداد کے لیے مختص کرنے کے ہدف کی جانب واپسی بھی شامل ہے۔
چونکہ آئندہ برس برطانیہ کو بیس بڑی معیشتوں کے گروپ کی صدارت سنبھالنی ہے، اس لیے روملی گرین ہل کا کہنا ہے کہ اس موقع کو دنیا کے غریب ترین اور محروم طبقات میں غربت اور عدم مساوات کے خاتمے کے لیے عالمی اصلاحات کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
ترقیاتی امور کی وزیر جینی چیپمین نے حکومتی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نے اس سال خوراک اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی وبا نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ عالمی صحت کا تحفظ اب بھی انتہائی اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان چیلنجوں سے منہ نہیں موڑ رہی بلکہ ترقیاتی اخراجات کے ہر پاؤنڈ کو اس انداز سے خرچ کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ شدید بحرانوں سے دوچار افراد اور برطانوی ٹیکس دہندگان دونوں کو اس کا بہتر فائدہ پہنچ سکے۔







