Mudassir Rizwan
خاندانی تنازعات میں والدین کے درمیان مفاہمت اور باہمی رضامندی کو ہمیشہ مثبت عمل سمجھا جاتا ہے، لیکن قانون ایسے بنیادی حقوق کو کبھی بھی فریقین کی مرضی پر نہیں چھوڑتا جو کسی تیسرے شخص، خصوصاً نابالغ بچے، سے تعلق رکھتے ہوں۔ لاہور ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے نے اسی بنیادی اصول کو نہایت وضاحت کے ساتھ دوبارہ مستحکم کیا ہے کہ بچے کے قانونی حقوق والدین کی ملکیت نہیں ہوتے، اس لیے والدین کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ باہمی معاہدے کے ذریعے ان حقوق سے دستبردار ہو جائیں یا انہیں محدود کر دیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ والدین کی رضامندی کسی ایسے معاہدے کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتی جو نابالغ کے مفاد، فلاح اور قانونی تحفظ کے منافی ہو۔ یہ فیصلہ محض ایک خاندانی مقدمے کا تصفیہ نہیں بلکہ پاکستان میں بچوں کے قانونی تحفظ کے پورے نظام کی توثیق اور خاندانی عدالتوں کی آئینی و قانونی ذمہ داری کی یاد دہانی بھی ہے۔
اس مقدمے کے حقائق خود اپنی نوعیت میں نہایت تشویش ناک تھے۔ میاں بیوی نے اپنے خاندانی اختلافات کو ختم کرنے کے لیے ایک باہمی معاہدہ کیا، جس کے تحت والدہ نے یہ وعدہ کیا کہ وہ آئندہ اپنی نابالغ بیٹی کے لیے نان و نفقہ کا کوئی دعویٰ نہیں کریں گی۔ معاملہ صرف یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ اسی معاہدے میں یہ شرط بھی شامل کر دی گئی کہ بچی اپنے والد کی جائیداد میں وراثت کے حق سے بھی دستبردار ہوگی۔ اس طرح ایک ہی نجی معاہدے کے ذریعے بچے کے دو بنیادی قانونی حقوق، یعنی نان و نفقہ اور وراثت، ختم کرنے کی کوشش کی گئی، حالانکہ یہ دونوں حقوق والدین کی ملکیت نہیں بلکہ قانون اور اسلامی شریعت کے تحت براہ راست بچے کو حاصل ہوتے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اگرچہ والدہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے نابالغ بچے کی نمائندگی کرتے ہوئے عدالت میں نان و نفقہ کا دعویٰ دائر کرے، لیکن وہ اس حق کی مالک نہیں بلکہ صرف محافظ اور نمائندہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے دستخط یا رضامندی کے ذریعے بچے کے اس بنیادی حق کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کر سکتی۔ عدالت نے اس اصول کو وراثت کے معاملے پر بھی یکساں طور پر نافذ کیا۔ اسلامی قانونِ وراثت کے مطابق اولاد کا وراثتی حصہ والدین کی مرضی یا باہمی معاہدے سے نہیں بلکہ شریعت کے واضح احکام سے متعین ہوتا ہے۔ اس لیے والدین کے درمیان ہونے والا کوئی بھی نجی معاہدہ اس قانونی اور شرعی حق کو تبدیل، محدود یا ختم نہیں کر سکتا۔
عدالت نے اس حقیقت پر بھی توجہ دلائی کہ اگر ایسے معاہدوں کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا جائے تو اس کے نہایت سنگین سماجی اور قانونی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ملک بھر میں بے شمار بچے ایسے معاہدوں کا شکار ہو سکتے ہیں جن میں والدین اپنی علیحدگی، وقتی مفاہمت یا ذاتی مفاد کے تحت بچے کے مستقبل کے بنیادی حقوق قربان کر دیں۔ اس صورت میں نابالغ بچے نہ صرف نان و نفقہ سے محروم ہو سکتے ہیں بلکہ اپنے جائز وراثتی حقوق سے بھی ہمیشہ کے لیے محروم کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت نے اس دروازے کو ابتدا ہی میں بند کرنا ضروری سمجھا تاکہ بچوں کے حقوق کو کسی بھی نجی مفاہمت کا موضوع نہ بنایا جا سکے۔
یہ فیصلہ خاندانی عدالتوں کے کردار کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ خاندانی عدالت کا کام صرف والدین کے درمیان ہونے والے معاہدوں کو ریکارڈ پر لانا یا ان پر رسمی مہر ثبت کرنا نہیں ہے۔ خاندانی عدالت درحقیقت نابالغ بچوں کے مفادات کی محافظ بھی ہے، اس لیے اس پر لازم ہے کہ وہ ہر ایسے معاہدے کا آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزہ لے جو کسی بچے کے مستقبل، مالی تحفظ یا قانونی حقوق سے متعلق ہو۔ اگر عدالت یہ محسوس کرے کہ مجوزہ سمجھوتہ بچے کی فلاح کے خلاف ہے تو اسے ایسے معاہدے کی منظوری سے انکار کرنا چاہیے، خواہ والدین دونوں اس پر مکمل رضامند ہی کیوں نہ ہوں۔
لاہور ہائی کورٹ نے مزید ہدایت کی کہ ایسا کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جا سکتا جس کے نتیجے میں نابالغ بچے کا نان و نفقہ یا وراثت کا حق مستقل طور پر ختم ہو جائے۔ اگر کسی مخصوص معاملے میں عدالت کسی ایسے سمجھوتے کی منظوری دیتی بھی ہے جس کا تعلق نابالغ کے مفاد سے ہو، تو اسے اپنے فیصلے میں واضح، معقول اور تفصیلی وجوہات درج کرنا ہوں گی کہ یہ معاہدہ کس بنیاد پر بچے کے بہترین مفاد میں ہے۔ اس ہدایت نے عدالتی منظوری کو محض ایک رسمی کارروائی کے بجائے ایک ذمہ دار، شفاف اور جواب دہ قانونی عمل میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے ذریعے ہر فیصلے کا جواز ریکارڈ کا حصہ بنے گا۔
یہ فیصلہ پاکستان کے مختلف قانونی ڈھانچوں کے درمیان موجود ہم آہنگی کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ آئینِ پاکستان بچوں کے تحفظ اور ان کی فلاح کو ریاست کی بنیادی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ فیملی کورٹس ایکٹ خاندانی تنازعات کے منصفانہ حل کے لیے قانونی طریقہ کار مہیا کرتا ہے، جبکہ گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ نابالغ کے مفاد کو ہر قانونی کارروائی میں بنیادی حیثیت دیتا ہے۔ ان تمام قوانین کا مشترکہ مقصد یہی ہے کہ بچے کی فلاح کو ہر دوسرے مفاد پر ترجیح دی جائے۔ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان تمام قانونی اصولوں کو ایک مربوط اور مؤثر تشریح کے ذریعے عملی شکل دی ہے۔
اس فیصلے کی ایک اہم سماجی اور تعلیمی اہمیت بھی ہے۔ خاندانی تنازعات میں اکثر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ وہ باہمی رضامندی سے ہر مسئلے کا مستقل حل نکال سکتے ہیں، حالانکہ بہت سے ایسے حقوق موجود ہیں جو ان کے اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔ بچے کے نان و نفقہ، تعلیم، صحت، تحفظ اور وراثت جیسے حقوق کسی سمجھوتے کا حصہ نہیں بن سکتے۔ اس لیے وکلا، ثالثوں اور قانونی مشیروں پر بھی یہ پیشہ ورانہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے معاہدے تیار کرتے وقت والدین کو قانون کی درست حیثیت سے آگاہ کریں اور کسی ایسے معاہدے کی تیاری سے گریز کریں جو بچے کے بنیادی حقوق سے متصادم ہو۔
آخرکار لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے نے ایک نہایت بنیادی مگر دور رس اصول کو دوبارہ مستحکم کیا ہے کہ خاندانی انصاف کا معیار صرف یہ نہیں کہ مقدمات کتنی جلدی نمٹ جاتے ہیں، بلکہ اصل معیار یہ ہے کہ عدالتی نظام ان افراد کے حقوق کا کس حد تک تحفظ کرتا ہے جو خود اپنی حفاظت یا نمائندگی کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بچے اپنے والدین کے اختلافات کے ذمہ دار نہیں ہوتے، اس لیے انہیں ان تنازعات کی قیمت اپنے مستقبل، اپنے معاشی تحفظ یا اپنے قانونی حقوق کی صورت میں ادا نہیں کرنی چاہیے۔ یہی اصول ایک منصفانہ، فلاحی اور قانون کی حکمرانی پر مبنی معاشرے کی بنیاد بھی ہے۔
ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق کتاب دی بیوروکریٹک کو سمیت دیگر مقبول ترین کتب پاکستان بھر کے وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور دیگر معروف کتاب فروشوں پر دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتب منگوانے کے لیے رابطہ کریں: ۰۳۰۰۹۵۵۲۵۴۲۔









