وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان، جس میں انہوں نے موجودہ سیاسی نظام کے ناکام ہونے اور سیاست پر چند خاندانوں اور اشرافیہ کے بڑھتے ہوئے غلبے کی نشاندہی کی، نے پاکستان کے سیاسی اور آئینی مستقبل پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسی دوران نئے صوبوں کی تجاویز پر مبنی ایک نقشہ بھی گردش کر رہا ہے، جس نے یہ قیاس آرائیاں پیدا کر دی ہیں کہ شاید ملک ایک مرتبہ پھر آئینی تجربات اور انتظامی تشکیلِ نو کے مرحلے میں داخل ہونے والا ہے۔
اسی بحث میں ڈاکٹر عشرت حسین کی آواز بھی اہم ہے۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ بہتر حکمرانی کا ہے۔ معروف ماہرِ معیشت، دانشور اور سابق بیوروکریٹ ڈاکٹر عشرت حسین کے مطابق اداروں کی کارکردگی، معاشی استحکام اور عوام کا اعتماد قومی سلامتی کے بنیادی ستون ہیں۔ ان تمام آرا کو یکجا کیا جائے تو ایک حقیقت نمایاں ہوتی ہے: پاکستان کو حکمرانی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ ڈاکٹر عشرت حسین کی کتاب ’’ناقابلِ حکمرانی کو حکمرانی کے قابل بنانا‘‘ کا عنوان بھی اسی مسئلے کی عکاسی کرتا ہے۔
آج کل ’’اچھی حکمرانی‘‘ کو ملک کے تقریباً ہر مسئلے کا علاج سمجھا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ عوامی بہبود کے لیے ناگزیر ہے، مگر اصل سوال یہ نہیں کہ حکمرانی اہم ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ اچھی حکمرانی سے ہماری مراد کیا ہے؟
یہاں شہزاد رائے کا طنزیہ گیت ’’لگا رہ‘‘ یاد آتا ہے، جو آزادی کے بعد پاکستان کی سیاسی تاریخ کو طنز کے ذریعے بیان کرتا ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں، تبدیلی کے وعدے ہوتے رہے، مگر ادارہ جاتی اصلاحات اور حقیقی تعمیرِ نو اکثر پس منظر میں چلی گئیں۔ ہر دور میں محدود مفادات غالب رہے جبکہ ملک کے بنیادی مسائل اپنی جگہ موجود رہے۔ یہی کیفیت ایک پرانی کہاوت ’’ڈھاک کے تین پات‘‘ میں بھی بیان ہوتی ہے: کوششیں بار بار ہوں، مگر نتیجہ وہی پرانا نکلے۔
پاکستان پارلیمانی حکومتوں، صدارتی نظام، مارشل لا، عبوری حکومتوں، آئینی ترامیم، احتسابی مہمات اور ’’نئی شروعات‘‘ کے متعدد تجربات سے گزر چکا ہے۔ لیکن اتنے تجربات کے باوجود بنیادی مسائل آج بھی موجود ہیں۔
حال ہی میں برطانیہ اور امریکا کے طویل دورے کے دوران جو چیز نمایاں طور پر محسوس ہوئی، وہ یہ تھی کہ اچھی حکمرانی محض اداروں کی کارکردگی کا نام نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی نظر آتی ہے۔ قانون کی حکمرانی اس کا بنیادی وصف ہے۔ مقامی حکومتیں واضح قانونی اور منصوبہ بندی کے اصولوں کے تحت سڑکیں، پارک، تجارتی مراکز، رہائشی علاقے، کھیل کے میدان، تفریحی مقامات اور عوامی سہولیات تعمیر اور برقرار رکھتی ہیں۔ یہ سب کچھ ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے قانون کے مطابق ہوتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات قانون کا غیر جانب دار اور بلاامتیاز نفاذ ہے۔ آزادی قانون کی حدود میں رہ کر استعمال کی جاتی ہے، اور قانون کی خلاف ورزی پر قانون حرکت میں آتا ہے۔ کسی شخص کو اس کی حیثیت یا تعلقات کی بنیاد پر قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جاتا۔ یہی عالمگیریتِ قانون اچھی حکمرانی کی اصل روح ہے۔
آئین بھی ریاست کا اعلیٰ ترین قانون ہے، اور اس کا احترام اچھی حکمرانی کی بنیادی شرط ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایسی مثالوں کی کمی نہیں جہاں آئینی شقوں کو نظرانداز، مسخ یا سیاسی مصلحت کے مطابق استعمال کیا گیا۔
یہی بات نئے صوبوں کی بحث کو بھی بنیادی سوال کی طرف واپس لے آتی ہے۔ نئے صوبے بنانا بظاہر ایک قابلِ غور انتظامی تجویز ہو سکتی ہے، لیکن اس سے حکمرانی کے اصل مسئلے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں چار صوبے ہوں یا چودہ، بنیادی سوال یہی رہے گا کہ ریاست ہر شہری کو معیاری تعلیم، قابلِ رسائی صحت، روزگار، امن و امان، بہتر بنیادی ڈھانچہ اور بروقت انصاف فراہم کر سکتی ہے یا نہیں۔
ان تمام خدمات کے لیے بڑے مالی وسائل درکار ہیں، اور اس کے لیے وسیع البنیاد نظامِ ٹیکس ناگزیر ہے۔ مگر دولت مند طبقے کا بڑا حصہ مؤثر ٹیکس نظام سے باہر ہے، جبکہ ملاکنڈ، سابق قبائلی اضلاع، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر جیسے علاقوں کو بھی بڑے پیمانے پر ترقیاتی سرمایہ کاری درکار ہے۔
لہٰذا مسئلے کا حل وفاقی ڈھانچے کو توڑنے یا قومی مالیاتی کمیشن کے آئینی نظام کو نظرانداز کرنے میں نہیں، بلکہ معیشت کو وسعت دینے، ٹیکس کا دائرہ بڑھانے، اداروں کو مضبوط کرنے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور پسماندہ علاقوں میں سنجیدہ سرمایہ کاری میں ہے۔
اگر حکمرانی واقعی پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے تو اچھی حکمرانی کا مطلب کارکردگی، مؤثریت، شفافیت، جواب دہی اور سب سے بڑھ کر قانون کی حکمرانی ہے۔ اس میں آئین کا احترام بھی شامل ہے۔
نئے صوبے یا نئے انتظامی ڈھانچے سرکاری اخراجات میں اضافہ کر سکتے ہیں اور ترقی کے لیے پہلے ہی محدود مالی گنجائش کو مزید سکڑ سکتے ہیں۔ اصل ضرورت نئے نقشے بنانے کی نہیں، قانون نافذ کرنے کی ہے۔
ورنہ ایک اور سیاسی دور گزرے گا، چہرے بدلیں گے، وعدے بدلیں گے، مگر مسائل وہی رہیں گے۔ اور ایک بار پھر شہزاد رائے کا طنز اور ’’ڈھاک کے تین پات‘‘ ہماری سیاسی حقیقت کی بہترین ترجمانی کر رہے ہوں گے۔









