سرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کا غزہ میں دوبارہ آبادکاری کا مطالبہ، انتخابات سے قبل مہم تیز

[post-views]
[post-views]

اکتوبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل اسرائیل کی دائیں بازو کی جماعتوں نے غزہ میں دوبارہ یہودی آبادکاری کے مطالبے کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ بنا لیا ہے۔ یہ کوشش وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو پر دباؤ ڈالنے کی ایک وسیع تر مہم کا حصہ ہے تاکہ وہ 2005 میں غزہ سے اسرائیلی انخلا اور یہودی بستیوں کے خاتمے کے فیصلے کو واپس لیں۔

اتوار کے روز قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر اور وزیرِ خزانہ بیزالیل سموٹریچ، جو نیتن یاہو کی حکومت کی نمایاں انتہائی دائیں بازو کی شخصیات ہیں، ہزاروں آبادکاروں اور کارکنوں کی قیادت کرتے ہوئے غزہ کی سرحد تک پہنچے، جہاں انہوں نے شمالی غزہ میں نسانیت، دوگیت اور ایلے سینائی نامی تین یہودی بستیوں کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ کیا۔ سخت گیر آبادکار تنظیم “ناحالا” کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس مظاہرے میں متعدد وزراء اور ارکانِ پارلیمان نے شرکت کی۔ یہ صرف انتخابی مہم کا حصہ نہیں تھا بلکہ مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کے قیام اور غزہ میں دوبارہ آبادکاری کا دیرینہ مقصد بھی تھا۔ چونکہ اسرائیل اس وقت غزہ کے نصف سے زائد علاقے پر قابض ہے، اس لیے دائیں بازو کے رہنما اسے اپنے مقاصد کے لیے ایک نادر موقع قرار دے رہے ہیں۔

اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے مظاہرے کو غزہ تک پہنچنے سے روکنے کے لیے علاقے کو فوجی حدود قرار دے دیا، جس کے باعث منتظمین کو راستہ تبدیل کرنا پڑا۔ تاہم مظاہرین رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ مغربی کنارے کی یہودی بستیوں سے بسوں کے ذریعے خاندان، جن میں بچے اور نوجوان بھی شامل تھے، اس ریلی میں شریک ہوئے، جبکہ بن گویر اور سموٹریچ کی جماعتوں کے کارکن راستے بھر انتخابی پمفلٹ تقسیم کرتے رہے۔

بن گویر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا، “اگر تین سال پہلے کوئی کہتا کہ ہم غزہ کی پٹی کے 70 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کر لیں گے تو کوئی یقین نہ کرتا۔ لیکن آج میں کہتا ہوں کہ پورے غزہ میں یہودی آبادکاریاں قائم ہوں گی۔” انہوں نے فلسطینیوں کی “رضاکارانہ ہجرت” کی حوصلہ افزائی کا بھی مطالبہ کیا، جو ایک ایسا خیال تھا جسے ٹرمپ انتظامیہ نے مختصر عرصے کے لیے پیش کیا تھا مگر بعد میں غزہ جنگ بندی معاہدے کے حتمی متن سے خارج کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا، “ہم اپنے گھر واپس آ رہے ہیں۔ غزہ ہمارا ہے۔”

سموٹریچ نے اس معاملے کو سیاسی تناظر میں پیش کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر حکومت تبدیل ہوئی تو گزشتہ چار برسوں میں اسرائیل کی تاریخ کی سب سے دائیں بازو کی حکومت کے دوران ہونے والا “صہیونی اور قومی آبادکاری انقلاب” ضائع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، “یہ سب کچھ ختم ہو سکتا ہے، اور پھر ہمیں دوبارہ یہاں آ کر انخلاء کو روکنا پڑے گا۔” سموٹریچ، جو موجودہ حکومت میں مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تیز رفتار توسیع کی نگرانی کرتے رہے ہیں، اس پالیسی کو مزید آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

دونوں رہنما 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد سے غزہ میں دوبارہ یہودی آبادکاری کے حامی رہے ہیں اور جنگ کو 2005 کے انخلا کو پلٹنے کا موقع قرار دیتے ہیں۔ سموٹریچ، جو وزارتِ دفاع میں آبادکاری کے امور بھی دیکھتے ہیں، جون میں کہہ چکے ہیں کہ شمالی غزہ میں تین نئی بستیوں کے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور نیتن یاہو کی منظوری کے منتظر ہیں۔ انہوں نے غزہ کو “سرزمینِ اسرائیل کا ناقابلِ تقسیم حصہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی آبادکاریاں اسرائیل کے لیے حفاظتی حصار کا کام کریں گی۔ ان کے الفاظ میں، “جہاں آبادکاری نہیں، وہاں سلامتی بھی نہیں۔”

دوسری جانب وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس علاقے میں تین فوجی چوکیوں کے قیام کا ارادہ رکھتے ہیں، جسے اسرائیل ماضی میں مستقل شہری آبادکاری کے ابتدائی مرحلے کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔

وزیرِاعظم نیتن یاہو نے تاحال ان منصوبوں کی نہ تو حمایت کی ہے اور نہ ہی مخالفت، اور انہیں کابینہ کے سامنے بھی پیش نہیں کیا گیا۔ وہ اس وقت 27 اکتوبر کے انتخابات تک نگران حکومت کی قیادت کر رہے ہیں۔ اسرائیلی افواج اس وقت غزہ کے تقریباً 60 فیصد حصے پر قابض ہیں، جبکہ نیتن یاہو نے عوامی طور پر کہا ہے کہ انہوں نے فوج کو 70 فیصد یا اس سے زیادہ علاقے پر قبضہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اکتوبر 2025 میں امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل کو تقریباً 53 فیصد علاقے تک محدود ہونا تھا، تاہم اس کے بعد اسرائیلی فوج نے اس حد سے کہیں آگے پیش قدمی کی ہے۔ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں اسرائیل کے غزہ پر قبضے یا الحاق کی واضح طور پر مخالفت کی گئی تھی۔

2005 میں انخلا سے قبل اسرائیل نے غزہ میں 21 یہودی بستیاں قائم کر رکھی تھیں، جہاں تقریباً آٹھ ہزار آبادکار رہتے تھے۔ اُس وقت کے وزیرِاعظم ایریل شیرون نے یکطرفہ طور پر ان بستیوں کو ختم کیا تھا، ساتھ ہی شمالی مغربی کنارے کی چار دیگر بستیاں بھی ختم کر دی گئی تھیں۔ حالیہ برسوں میں نیتن یاہو کی حکومت نے اس پالیسی کو بتدریج کمزور کیا، پہلے مغربی کنارے کے سابقہ خالی کرائے گئے علاقوں میں اسرائیلیوں کی واپسی کی اجازت دی، پھر نئی بستیاں منظور کیں۔ گزشتہ ہفتے ہی حکومت نے مغربی کنارے میں نئی آبادکاریوں اور رسائی کی سڑکوں کے لیے 2.3 ارب شیکل (تقریباً 766 ملین ڈالر) کی منظوری دی، جسے ناقدین مستقبل کی فلسطینی ریاست کے امکانات ختم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں تمام اسرائیلی بستیاں غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں، اگرچہ آبادکار بارہا غیر منظور شدہ چوکیاں قائم کرتے رہے ہیں جنہیں بعد میں حکومت نے قانونی حیثیت دے دی۔

غزہ میں دوبارہ آبادکاری کی اس مہم، جاری جنگ اور آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد نے اسرائیل پر عالمی تنقید میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ برطانیہ، فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ناروے حالیہ عرصے میں آبادکار تحریک سے وابستہ گروہوں اور افراد پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں، جبکہ بعض یورپی ممالک نے بن گویر اور سموٹریچ پر سفری پابندیاں بھی نافذ کر دی ہیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]