پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اسلام آباد کا عزم غیر مشروط ہے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے یہ بات عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جس کے مختلف حصے جمعے کو ادارے کے سماجی رابطے کے اکاؤنٹ پر جاری کیے گئے۔
ان کے یہ بیانات سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی کے دوران سامنے آئے ہیں۔ حوثیوں نے یمن کے بحیرۂ احمر سے ملحقہ ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کی ہے اور سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جبکہ ریاض نے حوثی ٹھکانوں پر فضائی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
رواں ہفتے سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثیوں پر مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون بھیجنے کا الزام عائد کیا تھا، جس پر مسلم دنیا میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ تاہم حوثیوں نے سعودی عرب کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا۔
پاکستان کا دفاعی عزم برقرار رکھنے کا اعلان
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان سفارتی اور عسکری دونوں سطحوں پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر عملی دفاعی تعاون فراہم کرنے کے لیے پاکستان کی آمادگی پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت کی ضرورت اور درخواست کے مطابق پاکستان مملکت اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا۔
فوجی ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے عوام سعودی عرب کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور اسلام آباد ہر قسم کی جارحیت کے خلاف مملکت کے دفاع کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
انہوں نے دونوں ممالک کے سلامتی سے متعلق تعلقات کو عوام اور سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان تاریخی اور مضبوط روابط کا نتیجہ قرار دیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کا عزم کسی مخصوص صورت حال یا شرط سے مشروط نہیں۔ اسلام آباد سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ علاقائی بحران کے دوران پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سعودی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
علاقائی بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری
فوجی ترجمان نے کہا کہ دفاعی وعدوں کے ساتھ ساتھ پاکستان علاقائی حکومتوں اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے وسیع تر تنازعے کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان سے بدھ کو چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی قیادت علاقائی صورت حال سے متعلق تمام معاملات پر سعودی عرب کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے جون میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ایک ایسی متفقہ دستاویز قرار دیا جو تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
اس سوال پر کہ کیا پاکستان کو توقع ہے کہ واشنگٹن اور تہران جلد مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے، انہوں نے کوئی وقت نہیں بتایا۔
ان کا کہنا تھا کہ بداعتمادی اور سفارتی کوششوں کی مخالفت کے باوجود اسلام آباد فریقین کے درمیان مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔
سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدے
پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ سال ستمبر میں ریاض میں تزویراتی باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں میں سے کسی ایک ملک پر حملہ دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
بعد ازاں گزشتہ ماہ پاکستان اور سعودی عرب نے ترکیہ کے ساتھ مل کر مکہ دفاعی اتحاد کے معاہدے پر بھی دستخط کیے۔
اس اتحاد کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔
اتحاد کا افتتاحی اجلاس 31 اگست کو استنبول میں منعقد ہوا، جہاں پاکستان کو ابتدائی تین سال کے لیے اس کے سیکریٹریٹ کی سربراہی سونپی گئی۔
اس سے قبل العربیہ انگلش کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت کے ذریعے جارحیت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، نہ کہ علاقائی عزائم یا جارحانہ فوجی مقاصد حاصل کرنا۔
انہوں نے اتحاد کو دفاعی نوعیت کا انتظام قرار دیا تھا۔
دفتر خارجہ کا طاقت کے بجائے مذاکرات پر زور
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی جمعرات کو سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق اپنے وعدوں کا اعادہ کیا، تاہم حوثیوں کے ساتھ تنازعے کے سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا کہ حوثیوں کو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیاں بند کرنی چاہییں، لیکن وسیع تر بحران کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں پر ان کی روح اور مقصد کے مطابق عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے۔
تاہم ترجمان نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ ان معاہدوں کے تحت پاکستان عملی طور پر کس نوعیت کا ردعمل دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے فیصلے سلامتی سے متعلق خفیہ معاملات کے زمرے میں آتے ہیں۔
پاکستان کے بیان کردہ مؤقف میں سعودی عرب کے دفاع سے متعلق وعدوں کے ساتھ علاقائی کشیدگی کم کرنے اور متعلقہ فریقوں کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی سفارتی کوششیں بھی شامل ہیں۔









