نئی دہلی: بھارت نے ہمالیہ کے متنازع سرحدی علاقے سے متعلق پاکستان اور چین کے نئے مشترکہ سرحدی انتظام پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ دونوں ممالک ایسے علاقے کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں کر سکتے جسے نئی دہلی اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔
پاکستان اور چین نے گزشتہ ہفتے مشترکہ سرحدی کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ دونوں ممالک نے اسے سرحدی انتظام، تجارت اور علاقائی روابط میں تعاون بڑھانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
بھارت نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ متنازع علاقے میں پاکستان اور چین کے درمیان کسی سرحد کو تسلیم نہیں کرتا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت اور چین ہمالیائی سرحد پر لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ کئی برس کی فوجی کشیدگی کے بعد تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بیجنگ اور اسلام آباد ایک ایسے ملحقہ سرحدی علاقے میں تعاون مضبوط کر رہے ہیں جس پر بھارت بھی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ نئی دہلی مشترکہ سرحدی کمیشن کو مسترد کرتا ہے اور اس کی کوئی قانونی بنیاد تسلیم نہیں کرتا۔
شکسگام وادی تنازعے کا مرکز کیوں ہے؟
مشترکہ کمیشن کا دائرۂ کار پاک چین سرحد پر مشتمل ہے، جس میں تقریباً پانچ ہزار 180 مربع کلومیٹر پر پھیلی پہاڑی شکسگام وادی بھی شامل ہے۔
1963 میں طے پانے والے سرحدی معاہدے کے تحت پاکستان نے اس علاقے کا کنٹرول چین کے حوالے کیا تھا۔ بھارت نے اس معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور شکسگام کو لداخ کا حصہ قرار دیتا ہے۔
نئی دہلی کا مؤقف ہے کہ یہ وادی سابق ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھی اور 1963 کے معاہدے سے قبل پاکستان کے غیر قانونی قبضے میں تھی۔
اس کے برعکس پاکستان کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور چین کے ساتھ اس کا سرحدی معاہدہ درست اور مؤثر ہے۔
دونوں ممالک کے متضاد علاقائی دعوے ہی تازہ سفارتی اختلاف کی بنیادی وجہ ہیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان کو اس علاقے کے بارے میں معاہدے کرنے کا اختیار نہیں جسے بھارت اپنی سرزمین تصور کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کمیشن پہلے سے موجود معاہدے کا حصہ ہے
دہلی کی شیو نادر یونیورسٹی کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات و گورننس اسٹڈیز کے پروفیسر جابن ٹی جیکب نے بی بی سی کو بتایا کہ اس پیش رفت کو مکمل طور پر نئے سرحدی انتظام کے بجائے پہلے سے موجود طریقہ کار کو فعال کرنے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان اور چین کے درمیان 1963 کے معاہدے میں مشترکہ سرحدی کمیشن کی گنجائش پہلے ہی موجود ہے۔
جیکب کے مطابق زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک نے اس طریقہ کار کو اب فعال کرنے کا فیصلہ کیوں کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کے انتخاب کی ایک وجہ چین کی جانب سے اپنی سرحدوں کو مزید واضح کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک سرحدی نقل و حرکت اور تعاون کو باضابطہ شکل دینا چاہتے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دیگر سرحدوں پر عدم استحکام نے بھی چین کے ساتھ سرحدی انتظام کی اہمیت بڑھائی ہو سکتی ہے۔
جیکب نے 1963 کے معاہدے کے آرٹیکل 6 کی طرف بھی توجہ دلائی، جس میں کشمیر کے تنازعے کے تصفیے کے بعد اس علاقے پر حتمی اختیار حاصل کرنے والی حکومت کے ساتھ سرحدی انتظام پر دوبارہ مذاکرات کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
انہوں نے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں چین کی وسیع موجودگی بیجنگ کو اپنے علاقائی دعوے اور نقشے دنیا بھر میں پیش کرنے کا زیادہ موقع فراہم کرتی ہے، جبکہ بھارت کو اپنے اعتراضات عالمی سطح پر نمایاں کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
سرحدی انتظام کے ساتھ تزویراتی پیغام بھی
پاکستان اور چین کے درمیان اس خطے سے گزرنے والے اہم مواصلاتی اور بنیادی ڈھانچے کے روابط پہلے ہی موجود ہیں۔ ان میں شاہراہِ قراقرم اور چین پاکستان اقتصادی راہداری سے منسلک منصوبے شامل ہیں۔
امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اور انور قرقاش ڈپلومیٹک اکیڈمی اور ہڈسن انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ سینئر فیلو حسین حقانی نے بی بی سی کو بتایا کہ مشترکہ کمیشن کی عملی اور سیاسی دونوں جہتیں ہیں۔
ان کے مطابق انتظامی سطح پر یہ کمیشن سرحدی گزرگاہوں کے انتظام کو بہتر بنانے، غیر مجاز نقل و حرکت روکنے اور اقتصادی راہداری سے منسلک بنیادی ڈھانچے کے تحفظ میں مدد دے سکتا ہے۔
حسین حقانی نے اس اقدام کو ایک سفارتی پیغام بھی قرار دیا، جس سے ان کے بقول ظاہر ہوتا ہے کہ چین مسئلہ کشمیر کو پاکستان کے مؤقف سے ہم آہنگ انداز میں دیکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیجنگ کشمیر پر بھارت کے علاقائی دعووں کو تسلیم نہیں کرتا اور گلگت بلتستان کو پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کے تناظر میں دیکھتا ہے۔
کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی بھی اہم پس منظر
حسین حقانی نے پاکستان کے موجودہ طرزِ عمل کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کی گئی آئینی تبدیلیوں سے بھی منسلک کیا۔
2019 میں بھارتی حکومت نے اپنے آئین کا آرٹیکل 370 منسوخ کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم ہو گئی تھی۔
پاکستان بدستور یہ مؤقف رکھتا ہے کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔
حسین حقانی کے مطابق بھارت کی ان آئینی تبدیلیوں کے بعد اسلام آباد 1963 سے عملی طور پر موجود پاک چین سرحدی انتظام کو باضابطہ شکل دینے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ بیجنگ کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ سرحدی تعاون تزویراتی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے اسلام آباد کے ساتھ اس کے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور کشمیر کے وسیع تر تنازعے پر چین کا مؤقف بھی سامنے آتا ہے۔
اس طرح تازہ اختلاف محض ایک دور افتادہ پہاڑی سرحد کے انتظام تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق بھارت، پاکستان اور چین کے درمیان غیر حل شدہ علاقائی دعووں، سرحدی بنیادی ڈھانچے اور علاقائی روابط کی بڑھتی ہوئی اہمیت سے بھی ہے۔









