بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

کیا ٹرمپ نے امریکی صدارت کو حد سے زیادہ طاقتور بنا دیا ہے؟

[post-views]
[post-views]

ڈیسک

نیو جرسی میں منعقد ہونے والا 2026ء کے عالمی کپ کا فائنل نہ صرف امریکی نرم قوت کا ایک نمایاں مظہر ثابت ہوا بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے عالمی سطح پر ذاتی وقار میں اضافے کا بھی باعث بنا۔ تاہم ملک کے اندر ایک خاموش تشویش جنم لے رہی ہے کہ صدارتی اختیارات کے بارے میں ان کا تصور آخر کس حد تک وسعت اختیار کر چکا ہے۔

کیا اب ریاستہائے متحدہ ایسے نظام کے قریب پہنچ چکا ہے جسے ’’شاہانہ صدارت‘‘ کہا جا سکتا ہے؟ کیا سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلوں کے ذریعے صدر کے منصب کو ایسے اختیارات دے دیے ہیں جنہیں مستقبل کے صدور اور آنے والی نسلوں کے لیے واپس محدود کرنا تقریباً ناممکن ہوگا؟ اور ٹرمپ کا بڑھتا ہوا آمرانہ طرزِ حکمرانی نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے سیاسی ماحول پر کس طرح اثر انداز ہوگا؟

یہی وہ سوالات ہیں جن پر چیتھم ہاؤس کے ’’آزاد فکر‘‘ نامی مذاکرے میں برونوین میڈکس نے گفتگو کی، جس میں ادارے کے امریکہ اور شمالی امریکہ پروگرام سے وابستہ ہیدر ہرلبرٹ اور میکس یولی بھی شریک تھے۔ گفتگو میں صدارتی اختیارات کی توسیع، اس کے قانونی ڈھانچے اور ایک غیر متوقع پہلو یعنی کھیلوں کے بڑے عالمی مقابلوں سے ٹرمپ کی مسلسل وابستگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔

بحث کا مرکزی نکتہ ’’واحد عاملِ انتظامیہ‘‘ کا نظریہ تھا، جس کے مطابق صدر کو انتظامی شاخ پر مکمل اور تقریباً بلا روک ٹوک اختیار حاصل ہوتا ہے اور کانگریس یا آزاد ادارے اس میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ ایک وقت تھا جب یہ صرف چند قدامت پسند قانونی ماہرین کا نظریہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ امریکی طرزِ حکمرانی میں بتدریج مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جبکہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کو اس نظریے کے لیے نئی قانونی تقویت قرار دیا جا رہا ہے۔ ہرلبرٹ اور یولی نے اس تبدیلی کے عملی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اس سے انتظامی شاخ ادارہ جاتی نگرانی سے مزید آزاد ہو گئی ہے اور صدارتی منصب کو ایسی ساختی مضبوطی حاصل ہو رہی ہے جو کسی ایک فرد کے اقتدار سے کہیں زیادہ دیرپا ثابت ہو سکتی ہے۔

گفتگو میں علامتی سیاست کے پہلو پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ عالمی کپ کے فائنل سمیت بڑے بین الاقوامی کھیلوں سے خود کو وابستہ کرنے کی ٹرمپ کی خواہش کو محض نمائشی انداز نہیں بلکہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا گیا، جس کے ذریعے وہ فتح، برتری اور قومی فخر کے تصورات کو اپنی سیاسی شناخت مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اس پوری بحث کے پس منظر میں امریکی ادارہ جاتی توازن کے مستقبل سے متعلق ایک گہری تشویش بھی موجود تھی۔ ماضی میں بھی بحرانی حالات کے دوران صدارتی اختیارات میں اضافہ ہوا، مگر بحران ختم ہونے پر وہ دوبارہ محدود ہو گئے۔ اس بار فرق یہ ہے کہ مبصرین کے مطابق اختیارات کی یہ توسیع وقتی نہیں بلکہ ساختی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، کیونکہ اب اس کی بنیاد کسی ایک صدر کی شخصیت نہیں بلکہ قانونی نظریات اور عدالتی نظائر بن چکے ہیں۔

نومبر کے انتخابات میں عوام اسے خطرے کی علامت سمجھتے ہیں یا مضبوط قیادت کی نشانی، اس کا فیصلہ ووٹ ہی کریں گے۔ تاہم مذاکرے کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ اب اصل سوال صرف ڈونلڈ ٹرمپ کا نہیں، بلکہ اس منصب کا ہے جسے وہ اس وقت سنبھالے ہوئے ہیں، اور یہ کہ آیا یہ منصب آئندہ آنے والے ہر صدر کے لیے مستقل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]