بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

کیا چین کی غذائی تحفظ کی حکمتِ عملی دنیا کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے؟

[post-views]
[post-views]

گزشتہ چار دہائیوں میں چین کی معاشی ترقی نے جدید تاریخ کی ایک نمایاں سماجی کامیابی رقم کی ہے۔ 1980ء میں جہاں تقریباً 30 فیصد چینی آبادی غذائی قلت کا شکار تھی، وہیں آج یہ شرح کم ہو کر 2.5 فیصد سے بھی نیچے آ چکی ہے۔ اس کامیابی کی بنیاد ایک سادہ حکمتِ عملی رہی: جو خوراک ملک میں پیدا نہیں ہو سکتی، اسے بیرونِ ملک سے درآمد کر لیا جائے۔ آج چین دنیا کا سب سے بڑا زرعی درآمد کنندہ ہے، جو 2024ء میں عالمی سویا بین درآمدات کا 60 فیصد اور گائے کے گوشت کی درآمدات کا 76 فیصد اپنے حصے میں رکھتا ہے۔

غذائی تحفظ چینی کمیونسٹ پارٹی کی سیاسی ساکھ کا بنیادی ستون ہے، اسی لیے بیجنگ کو بڑھتی ہوئی تشویش ہے کہ آیا مستقبل میں غذائی درآمدات بدستور دستیاب اور سستی رہ سکیں گی یا نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیداوار میں کمی، محدود سپلائر ممالک پر انحصار، اور امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے چین کی غذائی رسد کے تحفظ سے متعلق خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے چین نے سب سے پہلے اپنی درآمدات کے ذرائع کو متنوع بنایا، خاص طور پر امریکی سپلائرز پر انحصار کم کیا۔ 2018ء میں برازیل، امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر چین کا سب سے بڑا زرعی سپلائر بن گیا، جبکہ 2023ء میں اس نے تقریباً 60 ارب ڈالر مالیت کی سویا بین اور گائے کا گوشت چین کو برآمد کیا۔ اسی مقصد کے تحت چینی کمپنیاں پیرو کے چانکائے (Chancay) بندرگاہ اور برازیل تک نئی ریلوے لائن جیسے منصوبے تعمیر کر رہی ہیں تاکہ پاناما کینال جیسے اہم راستوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین نے دنیا کے مکئی کے ذخائر کا 60 فیصد سے زائد اور گندم کے عالمی ذخائر کا تقریباً نصف اپنے پاس محفوظ کر رکھا ہے۔

درآمدی ذرائع میں تنوع کے ساتھ ساتھ چین غذائی خود کفالت کی طرف بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی، حکومتی سبسڈیز، سخت ضابطوں اور ریاستی و نجی اداروں کے قریبی تعاون سے زرعی شعبے کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اس حکمتِ عملی نے زرعی انفراسٹرکچر بہتر بنانے، پانی کے مؤثر استعمال اور خوراک کے ضیاع میں کمی جیسے نمایاں نتائج بھی دیے ہیں۔

بعض ماہرین اس حکمتِ عملی کو چین کی گرین ٹیکنالوجی اور جدید صنعتوں میں کامیابی سے تشبیہ دیتے ہیں، جہاں درآمدات کے متبادل پیدا کر کے برآمدات میں اضافہ کیا گیا۔ تاہم خوراک کا شعبہ اس سے مختلف ہے۔ چین کے پاس قابلِ کاشت زمین اور پانی محدود ہے، جبکہ شہری آبادی میں اضافہ اور صنعتی آلودگی نے ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خوراک کی پروسیسنگ میں بہتری تو ممکن ہے، لیکن زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ یا عوام کو متبادل پروٹین اپنانے پر آمادہ کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔

غذائی پیداوار کو مکمل طور پر ملکی حدود میں مرکوز کرنے کے کئی خطرات بھی موجود ہیں۔ اس سے چین موسمیاتی آفات کے اثرات کا زیادہ شکار ہو سکتا ہے، جبکہ زرعی شدت میں اضافہ آلودگی، پانی کی قلت، زمین کی زرخیزی میں کمی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب جیسے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ جانوروں کی خوراک کی درآمدات کم کرنے سے قلیل مدت میں اندرونِ ملک خوراک کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔ دوسری جانب، کم درآمدات سے چین کا برآمد کنندہ ممالک پر اثر و رسوخ کم ہو سکتا ہے، جبکہ اگر چین زرعی برآمدات بڑھاتا ہے تو عالمی تجارتی کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ اسی طرح صنعتوں میں سبسڈی کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر ضروری مسابقت (Involution) زرعی شعبے میں بھی منتقل ہو کر کسانوں کی آمدنی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اس کے باوجود، چین کی آبادی میں کمی اور غذائی خود کفالت کی حکمتِ عملی کے باعث امکان یہی ہے کہ مستقبل میں اس کی زرعی درآمدات بتدریج کم ہوں گی اور درآمدی ذرائع مزید متنوع ہوتے جائیں گے، جس سے برآمد کنندہ ممالک کو خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کرنے کا وقت مل جائے گا۔

یہ تبدیلی دنیا کے لیے کئی مثبت نتائج بھی لا سکتی ہے۔ چین کی درآمدی طلب میں کمی سے برازیل جیسے ممالک میں جنگلات کی کٹائی کا دباؤ کم ہو سکتا ہے، جبکہ اضافی زرعی زمین افریقہ جیسے ابھرتے ہوئے خطوں یا بایو فیول کی پیداوار کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، جو ماحولیاتی اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوگی۔ اسی طرح چین میں زرعی پائیداری کے بلند ہوتے ہوئے معیار اس کی بیرونی خریداری کی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، چین کی تیار کردہ جدید زرعی ٹیکنالوجیز، جیسے پیداوار میں اضافہ، آلودگی سے تحفظ، خوراک کے ضیاع میں کمی اور بنجر زمین کی بحالی، دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔

تاہم خطرات بھی کم نہیں۔ اگر نئے زرعی بازاروں کی توسیع مناسب ضابطوں کے بغیر ہوئی تو جنگلات کی کٹائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ زرعی زمین کو بایو فیول کی پیداوار کے لیے مختص کرنا عالمی غذائی تحفظ کو کمزور کر سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی بحران کے دوران چین اچانک اپنی درآمدات یا برآمدات میں بڑی تبدیلی لاتا ہے، تو عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر چین سبسڈی یافتہ زرعی مصنوعات بڑے پیمانے پر برآمد کرنا شروع کرے تو ترقی پذیر ممالک کے کسان شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔

دنیا کو چین سے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ پیش گوئی کے قابل اور مستحکم غذائی پالیسی ہے، تاکہ عالمی غذائی منڈی میں غیر یقینی کیفیت پیدا نہ ہو۔ ساتھ ہی بڑے زرعی پیدا کرنے والے ممالک کو بھی اتنی لچک برقرار رکھنی ہوگی کہ وہ مستقبل کے غذائی بحرانوں کا مؤثر جواب دے سکیں۔ چین اپنی مضبوط مارکیٹ طاقت کو عالمی سطح پر زرعی پائیداری کے معیارات بہتر بنانے کے لیے بھی استعمال کر سکتا ہے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے پیدا کرنے والے اور درآمد کنندہ ممالک کے درمیان گہرا تعاون ناگزیر ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں غذائی تجارت کے پائیدار معیارات پر جاری مذاکرات ایک اچھی بنیاد فراہم کرتے ہیں، مگر انہیں مزید مضبوط سیاسی حمایت اور وسعت کی ضرورت ہے۔ کم آمدنی والے ممالک کو چین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی جدید زرعی ٹیکنالوجیز، خصوصاً مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی حل، تک رسائی ملنی چاہیے۔ اسی طرح خوراک کی طلب و رسد، بایو فیول کی پیداوار اور غذائی ذخائر کے بارے میں زیادہ شفافیت بھی مستقبل کے بحرانوں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اگرچہ چین کی غذائی تحفظ کی حکمتِ عملی کی بنیادی محرک جغرافیائی سیاسی کشیدگی ہے، لیکن درست بین الاقوامی تعاون کے ذریعے یہی حکمتِ عملی چین اور پوری دنیا کے لیے ایک مشترکہ کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس موقع کو ضائع کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]