امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکی افواج ایران کے خلاف کارروائیوں میں شدت لا سکتی ہیں۔ ایک ریڈیو انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اشارہ دیا کہ جنگ آئندہ ہفتوں میں مزید بڑھ سکتی ہے اور امریکی فوج ایران پر سخت حملے کر سکتی ہے۔
انٹرویو کے دوران ٹرمپ سے خلیج فارس میں واقع ایران کے اہم تیل بردار جزیرے خارگ پر ممکنہ قبضے سے متعلق سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس بارے میں براہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے معاملات پر عوامی سطح پر بات نہیں کی جا سکتی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس طرح کے سوالات ترجیحات کی فہرست میں شامل بہت سے معاملات میں سے ایک ہیں اور وہ کسی بھی وقت اپنی حکمت عملی تبدیل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے خارگ جزیرے سے متعلق سوال کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی منصوبہ زیر غور بھی ہو تو اسے کھلے عام بیان نہیں کیا جاتا۔
واضح رہے کہ خارگ جزیرہ خلیج فارس میں ایران کے ساحل کے قریب واقع ایک اہم مقام ہے جو ملک کی تیل برآمدات کا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کی خام تیل کی زیادہ تر ترسیل اسی جزیرے کے ذریعے ہوتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس جزیرے کو نشانہ بنانے یا اس پر قبضہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر زمینی فوج درکار ہو گی، تاہم اب تک امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائیوں میں زمینی فوج تعینات کرنے سے گریز کیا ہے۔







