ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے جنگ بندی مذاکرات کو بے معنی بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لبنان میں جاری اسرائیلی حملے جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں اور ایران لبنانی عوام کو اکیلا نہیں چھوڑے گا۔
صدر پزشکیان نے مزید کہا کہ اسرائیلی جارحیت ممکنہ معاہدات کے لیے دھوکہ دہی کی علامت ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، ایران ہر وقت اپنے ردعمل کے لیے تیار ہے۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ جنگ بندی تجاویز میں لبنان اور مزاحمتی محور کے تمام عناصر شامل ہیں، اور خلاف ورزی کی صورت میں بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بات چیت سے پہلے ہی 10 نکاتی منصوبے کے تین اہم نکات کی خلاف ورزی ہو چکی ہے۔
قالیباف نے مزید کہا کہ ایران کی فضائی حدود میں ڈرون کی دراندازی، یورینیئم افزودگی کے حق کی خلاف ورزی اور لبنان میں جاری جنگ بندی کی خلاف ورزی نے دو طرفہ جنگ بندی یا مذاکرات کو غیر معقول بنا دیا ہے۔
امریکی نائب صدر نے قالیباف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹوئٹ دیکھا، یہ پندرہ نکاتی پلان ہے اور اگر تین نکات پر اختلاف ہے تو اچھا ہے کہ زیادہ تر امور پر اتفاق پایا جاتا ہے۔





