ڈاکٹر بلاول کامران
متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ محض تیل کے پیداواری کوٹے کا تنازع نہیں ہے بلکہ یہ ایک واضح اور معنی خیز اشارہ ہے کہ خلیجی ممالک کے درمیان پرانا اتحاد اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ کئی دہائیوں تک اوپیک تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان مشترکہ شناخت اور اجتماعی طاقت کی علامت رہا، جس کا مقصد یہ تھا کہ ترقی پذیر ممالک اپنے قدرتی وسائل پر خود کنٹرول رکھ سکیں، قیمتوں کا تعین خود کریں اور مغربی توانائی کمپنیوں کے غلبے کا مقابلہ کر سکیں۔ متحدہ عرب امارات کا اس ادارے سے علیحدہ ہونا نہ صرف اس تنظیم کو کمزور کرتا ہے بلکہ عرب اتحاد کے اندر موجود وہ دراڑیں بھی ظاہر کرتا ہے جو عرصے سے خاموشی سے بڑھ رہی تھیں۔
ابوظہبی کا مؤقف یہ ہے کہ وہ پیداواری پابندیوں سے ناخوش تھا۔ امارات، جو اوپیک کے اہم ترین تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، چاہتا تھا کہ وہ اپنی پیداوار اپنی صلاحیت کے مطابق بڑھا سکے، جبکہ تنظیمی معاہدے مجموعی رسد اور قیمتوں کے توازن کے لیے اس پر پابندیاں لگاتے تھے۔ علیحدگی کے بعد امارات نے یہ بھی کہا کہ اس نے اجتماعی مفاد کے لیے پہلے ہی بہت قربانیاں دی ہیں، اور اب مزید اقتصادی قربانی دینے کا وقت نہیں رہا۔ یہ دراصل اس بات کا اظہار ہے کہ امارات اپنی معاشی ترجیحات کو اب کسی اجتماعی فیصلے کے تابع رکھنے پر تیار نہیں۔
اگرچہ یہ ایک معاشی فیصلہ لگتا ہے، لیکن خلیج کی سیاست میں معیشت اور جغرافیائی سیاست کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔
اوپیک 1960 میں ان ممالک نے قائم کیا تھا جو مغربی تیل کمپنیوں کے اثر و رسوخ سے تنگ آ چکے تھے۔ اس تنظیم نے پہلی بار یہ تصور پیش کیا کہ وسائل سے مالا مال ترقی پذیر ممالک اجتماعی طور پر عالمی معیشت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ 1973 کے تیل بحران کے دوران اوپیک نے تیل کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، جس کے بعد مغربی معیشتوں میں شدید بحران پیدا ہوا اور اس تنظیم کی عالمی اہمیت مزید بڑھ گئی۔
مگر آج اوپیک کو اصل خطرہ بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہے۔ امارات کا انخلا اس بات کی علامت ہے کہ وہ نظریاتی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں جن پر یہ اتحاد قائم تھا، جیسے عرب یکجہتی، مشترکہ مفادات اور اجتماعی سیاسی سوچ۔ آج ریاستیں اپنے قومی مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں اور اجتماعی فیصلے پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
اس صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ سعودی عرب اس تنظیم کو کب تک متحد رکھ سکتا ہے، کیونکہ اس کی معاشی اور تیل کی طاقت اسے مرکزی حیثیت دیتی ہے، لیکن محض طاقت اب مکمل وفاداری کی ضمانت نہیں رہی۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات بھی اس تبدیلی کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ دونوں ممالک بظاہر اتحادی ہیں مگر حقیقت میں خطے کی قیادت اور اثر و رسوخ کے لیے ایک غیر اعلانیہ مقابلے میں شامل ہیں۔ ایران کے حوالے سے دونوں کے موقف میں واضح فرق ہے، یمن میں دونوں نے مختلف گروہوں کی حمایت کی، جبکہ سوڈان اور لیبیا جیسے ممالک میں بھی ان کی پالیسیوں میں تضاد دیکھا گیا ہے۔
اس پس منظر میں اوپیک سے امارات کا نکلنا محض تیل کا معاملہ نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی حقیقت کی عکاسی ہے کہ اب ہر ریاست اپنے فیصلے خود کرے گی اور کسی بڑے اتحاد کی مکمل پابند نہیں رہے گی۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال خاصی پیچیدہ ہے کیونکہ وہ روایتی طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھتا آیا ہے۔ مالی امداد، ترسیلات زر، توانائی اور سفارتی تعاون میں خلیجی ممالک پاکستان کے لیے اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن اب جب خلیج میں اتحاد کمزور ہو رہا ہے تو پاکستان کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ ایک ہی پالیسی کے تحت تعلقات برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ احتیاط اور توازن اختیار کرے، کیونکہ خلیج اب ایک متحد بلاک نہیں رہا بلکہ مختلف مفادات اور مقابلہ جاتی پالیسیوں کا میدان بنتا جا رہا ہے۔









