ارشد محمود اعوان
پاکستان میں بدعنوانی کی ایک ایسی قسم بھی موجود ہے جو رشوت یا کسی بڑے سکینڈل کی صورت میں سامنے نہیں آتی بلکہ خاموشی سے ادارہ جاتی فیصلوں اور کاغذی کارروائیوں کے ذریعے پروان چڑھتی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور جائیداد کی اصل قیمتوں کے تعین کے حوالے سے اس کی حالیہ پالیسی اسی خاموش مگر گہری ناکامی کی مثال ہے، جس کا بوجھ براہِ راست قومی معیشت پر پڑ رہا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایف بی آر نے جائیدادوں کی سرکاری قیمتوں کو حقیقی مارکیٹ ریٹ کے قریب لانے کی کوشش کی، جو کسی بھی منصفانہ ٹیکس نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔ جب ایک جائیداد اصل میں پانچ کروڑ روپے میں فروخت ہوتی ہے مگر سرکاری ریکارڈ میں اس کی قیمت ایک کروڑ دکھائی جاتی ہے تو ریاست کو بھاری نقصان ہوتا ہے، خریدار اپنی دولت چھپاتا ہے اور پورا لین دین غیر رسمی معیشت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہی فرق دراصل کالے دھن کو سفید کرنے اور ٹیکس چوری کا بنیادی ذریعہ بنتا ہے۔
پاکستان کے رئیل اسٹیٹ شعبے میں یہ فرق برسوں سے جان بوجھ کر برقرار رکھا گیا ہے۔ سرکاری قیمتیں کم رکھنے سے ڈویلپرز، خریدار اور طاقتور طبقے سب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس نظام میں سیاستدان، بیوروکریٹس اور بااثر سرمایہ کار بڑی جائیدادیں رکھتے ہوئے بھی اصل ٹیکس سے بچ نکلتے ہیں۔ یوں یہ پورا ڈھانچہ اصلاح کے بجائے مفاد کے تحت بگڑا ہوا رہا ہے۔
جب ایف بی آر نے اس فرق کو درست کرنے کی کوشش کی تو رئیل اسٹیٹ لابی نے سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے دباؤ ڈال کر اس عمل کو روک دیا۔ کبھی نوٹیفکیشن جاری ہوئے، کبھی واپس لے لیے گئے اور کبھی شرحیں کم کر دی گئیں۔ اس مسلسل تبدیلی نے یہ تاثر دیا کہ ریاستی ادارے آزادانہ فیصلے کرنے کے بجائے طاقتور طبقوں کے دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ ترامیم شفاف طریقہ کار کے بغیر کی جا رہی ہیں۔ کسی واضح معیار یا عوامی وضاحت کے بغیر مخصوص علاقوں میں قیمتیں کم یا زیادہ کی جاتی ہیں، جس سے یہ شبہ مزید بڑھتا ہے کہ فیصلے تکنیکی نہیں بلکہ باہمی مفاہمت کے تحت ہو رہے ہیں۔
اصل مسئلہ محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی اور ساختی ہے۔ پاکستان میں جائیداد کا شعبہ صرف ایک معاشی سرگرمی نہیں بلکہ طاقتور طبقوں کی دولت محفوظ کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ سیاست، بیوروکریسی اور دیگر طاقتور حلقے اس نظام سے براہِ راست یا بالواسطہ فائدہ اٹھاتے ہیں، جس کے باعث اس پر مؤثر ٹیکس لگانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں ملک کا ٹیکس نظام بھی شدید عدم توازن کا شکار ہے۔ تنخواہ دار طبقہ اپنی آمدن کا باقاعدہ ٹیکس ادا کرتا ہے، جبکہ بڑے سرمایہ دار اور جائیداد کے مالک نسبتاً کم حصہ ڈالتے ہیں۔ یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہری سماجی ناانصافی بھی ہے۔
مزید یہ کہ جائیداد میں غیر ضروری سرمایہ کاری ملکی معیشت کو بھی کمزور کرتی ہے۔ پیسہ صنعتی ترقی، زراعت اور برآمدی شعبے میں جانے کے بجائے زمین اور پلاٹوں میں پھنس جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف ترقی کی رفتار سست ہوتی ہے بلکہ متوسط طبقے کے لیے رہائش بھی مہنگی ہو جاتی ہے۔
حقیقی مالی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ جائیداد کے شعبے کو مکمل طور پر شفاف اور دستاویزی معیشت کا حصہ بنایا جائے۔ جائیداد کی قیمتوں کا تعین مارکیٹ کے مطابق اور شفاف طریقے سے ہونا چاہیے، لین دین اصل قیمت پر رجسٹر ہونا چاہیے، اور ٹیکس نظام سب پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی بار بار کی پسپائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریاست اصلاح کی بات تو کرتی ہے لیکن طاقتور مفادات کے سامنے عملی قدم اٹھانے سے گریز کرتی ہے۔ جب تک جائیداد کے شعبے کو مؤثر طریقے سے ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں کیا جاتا، معاشی خودمختاری اور مالی استحکام محض ایک خواب ہی رہیں گے۔









