عبداللہ کامران
یہ خدشہ کہ “دہشت گرد گروہ مصنوعی ذہانت اور کرپٹو کرنسی کا غلط استعمال کر رہے ہیں” اب محض ایک قیاسی یا نظریاتی انتباہ نہیں رہا، بلکہ جدید تحفظاتی تحقیق اور انٹیلی جنس رپورٹس اس کی بڑھتی ہوئی حقیقت کی تصدیق کر رہی ہیں۔ مختلف بین الاقوامی نگرانی اداروں اور سائبر ماہرین کی تازہ رپورٹس کے مطابق غیر ریاستی پرتشدد عناصر تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنے پروپیگنڈے، مالی نظام اور رابطہ کاری کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
اس بدلتے ہوئے ماحول میں مصنوعی ذہانت ایک مرکزی اور مؤثر ٹول کے طور پر ابھری ہے۔ تحفظاتی ماہرین کے مطابق انتہاپسند گروہ اے آئی پر مبنی سسٹمز کے ذریعے مختلف زبانوں میں پروپیگنڈا تیار کر رہے ہیں، بھرتی کے خودکار پیغامات پھیلا رہے ہیں اور اپنی آن لائن موجودگی کو مزید وسیع اور منظم بنا رہے ہیں۔ جنریٹو اے آئی ٹولز کی مدد سے یہ گروہ بڑی مقدار میں متن، آڈیو اور ویڈیو مواد تخلیق کر رہے ہیں، جس سے وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مواد کی نگرانی اور فلٹرنگ نظام کو چکمہ دینے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ بعض تحقیقاتی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وائس کلوننگ اور مصنوعی ڈیجیٹل شناختوں کی تیاری جیسے تجرباتی استعمالات بڑھ رہے ہیں، جن کا مقصد غلط معلومات پھیلانا یا جعلی شناخت قائم کرنا ہو سکتا ہے۔
اسی طرح کرپٹو کرنسی بھی غیر قانونی مالی سرگرمیوں کا ایک اہم ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ اس کی غیر مرکزی ساخت، عالمی سطح پر آسان رسائی، اور بعض ممالک میں محدود نگرانی اسے ایسے لین دین کے لیے موزوں بناتی ہے جنہیں ٹریک کرنا مشکل ہو۔ انسدادِ دہشت گردی ادارے مسلسل ایسے کیسز کی نشاندہی کر رہے ہیں جن میں ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے خفیہ فنڈنگ کی کوششیں شامل ہیں، مثلاً گمنام ڈیجیٹل والٹس، براہِ راست فرد سے فرد لین دین، اور غیر رجسٹرڈ ایکسچینجز کا استعمال۔ اگرچہ اس کے مکمل حجم کا تعین مشکل ہے، لیکن مالیاتی نگرانی کے ادارے اس رجحان کو مسلسل خطرے کے طور پر رپورٹ کر رہے ہیں۔
تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو یہ ٹیکنالوجیز بذاتِ خود دہشت گردی کو جنم نہیں دیتیں، بلکہ موجودہ خطرات کی عملی صلاحیت کو بڑھا دیتی ہیں۔ اے آئی اور کرپٹو کرنسی دراصل طاقت بڑھانے والے ذرائع ہیں جو کم لاگت، زیادہ رسائی اور بہتر گمنامی فراہم کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں چھوٹے اور غیر منظم گروہ بھی وہ سرگرمیاں انجام دینے کے قابل ہو جاتے ہیں جو پہلے صرف بڑے اور منظم نیٹ ورکس تک محدود تھیں۔
تاہم اس مسئلے کو صرف ٹیکنالوجی کے زاویے سے دیکھنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ دہشت گردی کی بنیادیں زیادہ گہری ہیں، جن کا تعلق سیاسی محرومیوں، نظریاتی انتہاپسندی، معاشی ناہمواری اور سماجی عدم استحکام سے ہے۔ ٹیکنالوجی صرف عملدرآمد کو آسان بناتی ہے، مگر اس کے پیچھے موجود محرکات پیدا نہیں کرتی۔
ایک اور اہم پہلو ریاستوں کی صلاحیت میں واضح فرق ہے۔ ترقی یافتہ ممالک جدید اے آئی نگرانی اور بلاک چین تجزیاتی نظام تیزی سے اپنا رہے ہیں، جبکہ کئی ترقی پذیر ممالک اس نوعیت کے تکنیکی اور ادارہ جاتی ڈھانچے سے محروم ہیں۔ یہ عدم توازن ایک ایسا خلا پیدا کرتا ہے جس سے عالمی سطح پر سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
آخر میں یہ بات واضح ہے کہ ماہرین کی جانب سے اے آئی اور کرپٹو کرنسی کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق انتباہات حقیقی اور موجودہ عالمی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم مؤثر حکمت عملی صرف ٹیکنالوجی پر کنٹرول تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انتہاپسندی کے بنیادی اسباب کو کم کرنے کے لیے جامع سماجی، سیاسی اور معاشی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔









