چین کا بحیرہ جنوبی چین میں بدلتا ہوا کردار: فوجی طاقت سے معاشی اثر تک

[post-views]
[post-views]

ظفر اقبال

بحیرہ جنوبی چین دنیا کے سب سے زیادہ متنازع خطوں میں سے ایک ہے، تاہم حالیہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ تنازع اب بتدریج فوجی محاذ آرائی سے نکل کر معاشی باہمی انحصار کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ کئی دہائیوں تک اس خطے کے ممالک تجارتی راستوں اور وسائل پر کنٹرول کے لیے عسکری مشقوں اور طاقت کے مظاہرے کرتے رہے، مگر بعد ازاں چین نے اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی لاتے ہوئے فوجی تصادم کے بجائے تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعلقات کو ترجیح دینا شروع کیا۔

جدید عالمی سیاست میں معاشی انحصار اکثر عسکری طاقت اور جنگی موجودگی سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ تجارت کا جال ممالک کو اس طرح جوڑ دیتا ہے کہ وہ تصادم کے بجائے مفاہمت اور مذاکرات کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ چین نے اسی حکمتِ عملی کے تحت بحیرہ جنوبی چین کو ایک ایسے اسٹریٹجک اقتصادی خطے میں تبدیل کیا جہاں ممالک اپنے معاشی فوائد کے لیے اپنے دعوؤں میں نرمی اختیار کرنے لگے۔

چین نے اس اقتصادی حکمتِ عملی کا آغاز آسیان ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے سے کیا جو دو ہزار دس میں نافذ ہوا۔ اس کے بعد چین آسیان ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا اور یہ حیثیت ایک طویل عرصے تک برقرار رہی۔ اقتصادی انضمام نے ایک طرف ترقی کے مواقع پیدا کیے جبکہ دوسری طرف چین کو خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع بھی دیا۔ نتیجتاً کئی ممالک نے چین کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے اور معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے بحیرہ جنوبی چین سے متعلق اپنے سخت مؤقف میں نرمی پیدا کی۔

دو ہزار تیرہ میں چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا آغاز کیا جس نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو ترقیاتی منصوبوں اور سرمایہ کاری سے جوڑ دیا۔ اس منصوبے نے خطے کی معیشتوں کو چین کے ساتھ مزید مربوط کر دیا جس سے مستقبل میں اس تنازع پر چین کے خلاف سخت موقف اختیار کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

وقت کے ساتھ چین نے دو طرفہ تجارت کو فروغ دے کر خطے میں اپنا معاشی اثر و رسوخ مزید گہرا کیا۔ دو ہزار انیس میں چین اور آسیان کے درمیان تجارت پانچ سو سات ارب ڈالر تھی جو دو ہزار پچیس میں بڑھ کر چھ سو چورانوے ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس خطے میں اہم دعویدار ممالک میں ملائیشیا، انڈونیشیا، ویتنام، برونائی اور فلپائن شامل ہیں جن میں سے بیشتر چین کے ساتھ معاشی تعلقات کے ذریعے اپنے مؤقف میں توازن پیدا کر رہے ہیں، سوائے فلپائن کے۔

ملائیشیا اور چین کے درمیان اسپرٹلی جزائر پر تاریخی اختلاف موجود ہے مگر ملائیشیا نے تصادم کے بجائے سفارت کاری اور معاشی انضمام کو ترجیح دی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے ان کا باہمی انحصار بڑھ گیا ہے۔ چین ملائیشیا کا طویل عرصے سے سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جبکہ تکنیکی شعبے میں انحصار بھی بڑھ رہا ہے، جس سے سخت مؤقف اپنانا معاشی طور پر مشکل ہو جاتا ہے۔

انڈونیشیا کے ساتھ بھی چین کی تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور دونوں ممالک نے اسٹریٹجک شراکت داری اور سمندری تعاون کو فروغ دیا ہے۔ اگرچہ انڈونیشیا نے چین کے مکمل دعوؤں کو تسلیم نہیں کیا، لیکن بعض معاہدے اس کے نرم رویے کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

ویتنام کے ساتھ بھی چین نے تجارتی اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے تعلقات مضبوط کیے ہیں، جن میں ریلوے، توانائی اور زرعی تجارت شامل ہیں۔ ویتنام کی برآمدات کا بڑا حصہ چین پر منحصر ہے جبکہ صنعتی خام مال اور آلات کے لیے بھی چین پر انحصار بڑھ رہا ہے، جس سے اس کے سیاسی فیصلے متاثر ہو سکتے ہیں۔

برونائی کی معیشت بنیادی طور پر قدرتی وسائل پر انحصار کرتی ہے اور اس کا اقتصادی ڈھانچہ نسبتاً کمزور ہے۔ چین نے بڑے سرمایہ کاری منصوبوں کے ذریعے اس ملک کو اپنے اثر میں لیا ہے، جسے بعض تجزیہ کار نرم سفارت کاری قرار دیتے ہیں۔ برونائی تنازع میں نسبتاً غیر فعال کردار ادا کرتا ہے۔

فلپائن اس خطے کا واحد بڑا دعویدار ملک ہے جو بیرونی حمایت کے ساتھ چین کے خلاف نسبتاً سخت مؤقف رکھتا ہے۔ اگرچہ وہ چین کے بعض معاشی منصوبوں کا حصہ رہا، لیکن بعد ازاں اس نے بعض معاہدوں سے پیچھے ہٹ کر دفاعی تعاون کو ترجیح دی۔

نتیجتاً، بحیرہ جنوبی چین کا تنازع اب محض عسکری کشیدگی نہیں رہا بلکہ ایک پیچیدہ معاشی جال میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جہاں بڑی طاقتیں روایتی طور پر فوجی طاقت سے علاقے حاصل کرتی تھیں، اب چین معاشی انحصار کے ذریعے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، جس سے ریاستیں براہِ راست تصادم کے بجائے محتاط سفارتی حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہو رہی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos