ویکسین خود کفالت کا خواب اور پاکستان کی امیدیں اور عملی چیلنجز

[post-views]
[post-views]

ڈاکٹر بلاول کامران

پاکستان نے اپنی پہلی نیشنل ویکسین پالیسی کی منظوری دے دی ہے، اور صحت کے شعبے سے متعلق حکام کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ ایک تاریخی قدم ہے۔ اب تک ملک میں کئی دہائیوں سے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام تو چل رہے تھے، لیکن ان کے لیے کوئی متحد اور جامع قومی پالیسی موجود نہیں تھی۔ توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے تحت لاکھوں بچوں کو ویکسین فراہم کی جاتی رہی، مگر یہ نظام ہمیشہ بکھرے ہوئے انتظامی ڈھانچے کے تحت چلتا رہا جہاں پیداوار، ریگولیشن اور مالی وسائل ایک مربوط قومی حکمت عملی کے تحت نہیں تھے۔ نئی پالیسی نے اسی خلا کو پُر کرنے کی پہلی سنجیدہ کوشش کی ہے۔

اس پیش رفت کی اہمیت کو کم نہیں سمجھا جا سکتا۔ پاکستان دنیا کے بڑے آبادی والے ممالک میں سے ایک ہے، جہاں ہر سال لاکھوں بچوں کی پیدائش ہوتی ہے اور ایک مسلسل اور قابلِ اعتماد ویکسین سپلائی کی ضرورت رہتی ہے۔ ماضی میں یہ ضرورت زیادہ تر درآمد شدہ ویکسین اور بین الاقوامی امداد پر انحصار کے ذریعے پوری کی جاتی رہی۔ یہ انحصار صرف مالی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک کمزوری بھی ہے۔ جب عالمی سپلائی چین متاثر ہوتی ہے، جیسا کہ کووڈ-19 کے دوران ہوا، تو وہ ممالک جو اپنی ویکسین خود تیار نہیں کر سکتے، شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان نے بھی اس صورتحال کا سامنا کیا، مگر اس سے سبق سیکھنے میں دیر ہوئی۔

پالیسی کا سب سے اہم پہلو مقامی ویکسین کی تیاری کی طرف بڑھنا ہے۔ اس کا مطلب صرف صحت کے نظام کو بہتر بنانا نہیں بلکہ اسے قومی خود انحصاری اور سلامتی کے تناظر میں دیکھنا ہے۔ جو ملک اپنی ویکسین خود تیار نہیں کر سکتا، وہ ہمیشہ بیرونی سپلائی اور عالمی حالات کا محتاج رہتا ہے۔ مقامی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تحقیق کے شعبے میں سرمایہ کاری کے ذریعے ایک زیادہ مضبوط اور مستحکم نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے، جو نہ صرف ملکی ضروریات پوری کرے بلکہ مستقبل میں برآمدات کے امکانات بھی پیدا کرے۔

دوسرا اہم پہلو ادارہ جاتی ہم آہنگی ہے۔ پاکستان کے صحت کے نظام میں طویل عرصے سے تقسیم اور عدم ربط کا مسئلہ موجود ہے۔ ریگولیٹری ادارے، خریداری کے نظام اور صوبائی تقسیم کے ڈھانچے اکثر الگ الگ طریقے سے کام کرتے ہیں، جس سے کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ ایک متحد قومی فریم ورک ان اداروں کو ایک سمت میں لانے اور ذمہ داریوں کو واضح کرنے میں مدد دے سکتا ہے، تاکہ تاخیر اور انتظامی ابہام کم ہو سکے۔

یہ مسئلہ صرف معمول کی صحت خدمات تک محدود نہیں۔ پولیو کے خاتمے کے پروگرام کی مثال واضح کرتی ہے کہ جب نظام بکھرا ہوا ہو تو کچھ علاقے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں جبکہ دوسرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ایک واضح اور مربوط قومی پالیسی مستقبل کی صحت ایمرجنسی میں بہتر ردعمل فراہم کر سکتی ہے، کیونکہ وبائیں انتظامی تیاری کا انتظار نہیں کرتیں۔

تاہم صرف پالیسی کی منظوری کافی نہیں ہوتی۔ اصل چیلنج اس کے عملی نفاذ کا ہے۔ پاکستان میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ بڑے منصوبے اور پالیسی دستاویزات اعلان کے بعد رفتار کھو دیتے ہیں۔ مقامی ویکسین کی تیاری کے لیے مسلسل سرمایہ کاری، مضبوط ریگولیٹری معیار، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معیار اور تربیت یافتہ افرادی قوت درکار ہے۔ یہ سب چیزیں محض الفاظ سے حاصل نہیں ہو سکتیں بلکہ مستقل ادارہ جاتی سنجیدگی اور تسلسل مانگتی ہیں۔

نیشنل ویکسین پالیسی ایک اہم اور مثبت آغاز ضرور ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ منصوبہ کاغذ سے نکل کر عملی نظام میں تبدیل ہو گا۔ پاکستان کے بچے اور آنے والی نسلیں صرف بہتر منصوبہ بندی کی نہیں بلکہ حقیقی، قابلِ اعتماد اور مسلسل صحت تحفظ کی منتظر ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos