مریم نواز کا طرزِ حکمرانی: انتظامی سرگرمی یا پنجاب کے لیے محدود وژن؟

[post-views]
[post-views]

حفیظ احمد خان

پاکستان میں حکمرانی کے حوالے سے ایک بنیادی سوال ہمیشہ زیرِ بحث رہا ہے: کیا سیاسی قیادت صرف انتظامی امور تک محدود رہتی ہے یا اس کے پاس پالیسی سازی، قانون سازی، معاشی بحالی، انسانی ترقی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے کوئی واضح اور دور رس وژن بھی ہوتا ہے؟ پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے طرزِ حکمرانی نے اس سوال کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ پالیسی ماہرین اور حکمرانی کے مبصرین کے ایک بڑے حلقے کا خیال ہے کہ موجودہ ماڈل میں توانائی اور سرگرمی تو نمایاں ہے، مگر اس کی توجہ زیادہ تر انتظامی اور بلدیاتی نوعیت کے معاملات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے اور گنجان آباد صوبے کے لیے یہ ایک اہم بحث ہے۔

کسی بھی صوبائی حکومت کی ذمہ داریاں صرف صفائی، سڑکوں کی مرمت یا شہروں کی خوبصورتی تک محدود نہیں ہوتیں۔ اس کا اصل کام مؤثر قانون سازی، معاشی اصلاحات، تعلیم اور صحت کے نظام کو بہتر بنانا، انسانی وسائل کی ترقی اور ایسے مضبوط ادارے قائم کرنا ہوتا ہے جو کسی ایک شخصیت کے بجائے قانون اور پالیسی کے تحت چلیں۔ تاہم پنجاب حکومت کی موجودہ ترجیحات پر نظر ڈالی جائے تو زیادہ توجہ صفائی مہمات، شہری انتظام، انفراسٹرکچر اور نمایاں ترقیاتی منصوبوں پر دکھائی دیتی ہے۔

ماہرین اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ یہ اقدامات عوامی ضرورت ہیں، لیکن سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہی صوبائی قیادت کی مکمل ذمہ داری ہے؟ یا پھر حکمرانی کا دائرہ اس سے کہیں وسیع ہونا چاہیے۔

“میونسپل ایڈمنسٹریٹر” کی اصطلاح دراصل ایک تنقیدی مگر تجزیاتی مشاہدہ ہے۔ ایک منتظم فوری اور نظر آنے والے مسائل حل کرتا ہے، جیسے سڑک کی مرمت، صفائی یا کسی جگہ کی بحالی۔ یہ ضروری کام ہیں، مگر ایک حقیقی ریاستی رہنما اس سے آگے جا کر ایسے ادارے اور پالیسیاں بناتا ہے جو اس کی ذاتی نگرانی کے بغیر بھی مؤثر طریقے سے چل سکیں۔ اصل قیادت وہ ہوتی ہے جو وقتی اقدامات کے بجائے دیرپا نظام تشکیل دے۔

پنجاب میں متعدد ترقیاتی اداروں، خصوصی اتھارٹیز اور متوازی انتظامی ڈھانچوں کا قیام بھی اسی تنقید کا حصہ ہے۔ واسا، اربن اتھارٹیز اور مختلف خصوصی ترقیاتی پروگرام وہ کام انجام دے رہے ہیں جو دنیا کی کامیاب جمہوریتوں میں منتخب بلدیاتی ادارے کرتے ہیں۔ اس طرزِ حکمرانی سے اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہونے کے بجائے صوبائی حکومت میں مزید مرکوز ہو رہے ہیں۔ نتیجتاً مقامی حکومتیں کمزور اور غیر مؤثر رہتی ہیں۔

یہ صرف انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ طاقت کی تقسیم کے فلسفے سے جڑا معاملہ ہے۔ اگر بلدیاتی امور منتخب میئرز اور کونسلرز کے بجائے صوبائی ادارے سنبھالیں گے تو حقیقی مقامی جمہوریت کبھی مضبوط نہیں ہو سکے گی۔ اس صورت میں منتخب نمائندے صرف نام کے رہ جاتے ہیں جبکہ اصل اختیار صوبائی بیوروکریسی اور خصوصی اداروں کے پاس ہوتا ہے۔

“صاف ستھرا پنجاب” جیسے منصوبے اپنی جگہ اہم ہیں کیونکہ شہری صفائی عوامی ضرورت ہے، لیکن کسی بھی منصوبے کی کامیابی کا اصل معیار اس کی پائیداری ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبے مستقل ادارہ جاتی نظام بناتے ہیں یا صرف وزیراعلیٰ کی ذاتی دلچسپی تک محدود رہتے ہیں؟ پنجاب میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک منصوبہ مکمل طور پر مستحکم ہونے سے پہلے ہی توجہ کسی نئے اعلان کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ اس سے سرگرمی تو پیدا ہوتی ہے مگر مستقل تبدیلی نہیں آتی۔

اسی قسم کی تنقید ماضی میں شہباز شریف کے دورِ حکومت پر بھی کی جاتی رہی۔ انہیں ایک فعال منتظم سمجھا جاتا تھا، مگر وفاقی سطح پر زیادہ پیچیدہ معاشی اور ادارہ جاتی چیلنجز میں یہی انتظامی انداز محدود ثابت ہوا۔ انتظامی صلاحیت اور ریاستی قیادت میں یہی بنیادی فرق ہے۔ انتظامیہ موجودہ نظام چلاتی ہے، جبکہ حقیقی قیادت مستقبل کے لیے نئے راستے بناتی ہے۔

پاکستان کے پالیسی ماہرین پنجاب کے موجودہ ماڈل پر تنقید کسی سیاسی مخالفت کے تحت نہیں بلکہ اس خدشے کے باعث کر رہے ہیں کہ اگر حکمرانی صرف نمائشی منصوبوں، شخصی تشہیر اور میونسپل سرگرمیوں تک محدود رہی تو ملک میں ایسی حکومتیں بنتی رہیں گی جو مصروف تو ہوں گی مگر دیرپا تبدیلی پیدا نہیں کر سکیں گی۔

پنجاب کو دراصل ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو مقامی حکومتوں کو مضبوط کرے، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرے، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں سنجیدہ سرمایہ کاری کرے اور ایسے ادارے بنائے جو شخصیات کے بجائے قانون کے تابع ہوں۔ یہی وہ عملی بنیادیں ہیں جو دیرپا اور مؤثر حکمرانی کو ممکن بناتی ہیں۔

انتظامی توانائی یقیناً ایک مثبت خوبی ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ واضح سمت، ادارہ جاتی بنیاد اور طویل مدتی وژن نہ ہو تو اس سے صرف حرکت پیدا ہوتی ہے، حقیقی ترقی نہیں۔ پنجاب کو ایسی قیادت درکار ہے جو نہ صرف محنت کرے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط اور مستقل نظام بھی قائم کرے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos