جمہوریت، وفاق اور انتخابات: پاکستان کے لیے ناگزیر راستہ

[post-views]
[post-views]

پاکستان کے وفاقی جمہوری نظام کو اس وقت جس بنیادی ضرورت کا سامنا ہے، وہ کسی نئے نظریے، غیر معمولی سیاسی تجربے یا غیر آئینی بندوبست کی نہیں، بلکہ آئین کے مطابق بروقت، آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کی ہے۔ ریاستی استحکام کا آغاز عوامی حاکمیت سے ہوتا ہے، اور عوامی حاکمیت کا مؤثر اظہار صرف ایسے انتخابات کے ذریعے ممکن ہے جن میں تمام وفاقی سیاسی جماعتوں کو مساوی مواقع اور آزادانہ سیاسی مقابلے کی ضمانت حاصل ہو۔ جمہوری نظام کی مضبوطی کسی ایک جماعت کی کامیابی یا ناکامی سے وابستہ نہیں ہوتی، بلکہ اس امر سے وابستہ ہوتی ہے کہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے اور اقتدار کی منتقلی آئینی طریقۂ کار کے مطابق عمل میں آئے۔

تاہم انتخابات محض آغاز ہیں، منزل نہیں۔ انتخابی عمل کے بعد ایک جامع، بامعنی اور مسلسل سیاسی مکالمہ ناگزیر ہے، جو وفاق کے تمام اکائیوں اور خطوں کو یکساں اہمیت دے۔ پاکستان کا وفاق اس وقت تک حقیقی معنوں میں مضبوط نہیں ہو سکتا جب تک بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر محروم یا پسماندہ علاقوں کو قومی سیاسی عمل میں مکمل اور باوقار شمولیت حاصل نہ ہو۔ وفاقی یکجہتی اس وقت پروان چڑھتی ہے جب تمام اکائیاں خود کو ریاستی فیصلوں میں شریک اور مساوی فریق محسوس کریں، نہ کہ محض انتظامی احکامات کی تابع۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب انتخابات میں تاخیر کی گئی، آئینی عمل کو معطل کیا گیا یا سیاسی قوتوں کو انتخابی میدان سے باہر رکھا گیا تو عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کمزور ہوا۔ جہاں سیاسی شرکت محدود ہوئی، وہاں احساسِ محرومی نے جنم لیا، اور جہاں جمہوری نمائندگی کی جگہ انتظامی یا غیر سیاسی طریقۂ حکمرانی نے لی، وہاں وفاقی وحدت کو نقصان پہنچا۔ بلوچستان میں بدامنی، چھوٹے صوبوں میں سیاسی بے اعتمادی، گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق مسلسل غیر یقینی صورتحال اور آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی مطالبات، ان تمام مسائل کی جڑ میں سیاسی عمل کی کمزوری اور آئینی جمہوریت کا عدم تسلسل نمایاں طور پر موجود ہے۔

وفاقی ریاستیں صرف انتظامی ڈھانچوں یا سلامتی کے اقدامات سے مستحکم نہیں ہوتیں۔ قومی سلامتی اور داخلی استحکام کی پائیدار بنیاد عوامی اعتماد، آئینی حکمرانی اور جمہوری جواز پر قائم ہوتی ہے۔ بیوروکریسی ریاستی انتظام و انصرام کے لیے ناگزیر ادارہ ہے، جبکہ سلامتی کے ادارے ملکی خودمختاری کے محافظ ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی ادارہ عوامی نمائندگی اور سیاسی قیادت کا متبادل نہیں بن سکتا۔ جب سیاسی فیصلے منتخب نمائندوں کے بجائے غیر منتخب ذرائع سے تشکیل پاتے ہیں تو آئینی توازن متاثر ہوتا ہے اور وفاقی نظام کمزور ہونے لگتا ہے۔

آئینِ پاکستان اس حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آئین عوامی حاکمیت، پارلیمانی جمہوریت، وفاقیت اور بنیادی حقوق کو ریاستی نظام کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ اس لیے ضرورت کسی نئے آئینی بندوبست کی نہیں بلکہ موجودہ آئینی اصولوں پر دیانت داری سے عمل درآمد کی ہے۔ بروقت انتخابات، آزادانہ سیاسی مقابلہ، تمام وفاقی اکائیوں کی مؤثر شمولیت اور مستقل سیاسی مکالمہ ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط، مستحکم اور پائیدار وفاق تعمیر کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے مستقبل کا تقاضا یہ ہے کہ ریاست سیاسی اختلاف کو خطرہ نہیں بلکہ جمہوریت کی قوت سمجھے، اور وفاقی وحدت کو انتظامی کنٹرول کے بجائے عوامی شمولیت کے ذریعے مضبوط بنائے۔ انتخابات کو مؤخر کرنے، سیاسی عمل کو محدود کرنے یا علاقائی مطالبات کو نظرانداز کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس بروقت انتخابات، آئینی سیاست اور تمام اکائیوں کے ساتھ مساوی سیاسی برتاؤ ہی قومی یکجہتی، سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کی حقیقی ضمانت فراہم کر سکتے ہیں۔

ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق کتب، جن میں دی بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، پاکستان بھر میں وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور دیگر معروف کتب فروشوں پر دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتابیں منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 03009552542۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]