Arshad Mahmood Awan
غزہ کی انتظامی حکومت کو تحلیل کرنے کا حماس کا فیصلہ فلسطین۔اسرائیل تنازع کے حالیہ مرحلے کی اہم ترین سیاسی پیش رفت میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اسے فوری طور پر کسی بڑے تاریخی موڑ یا مکمل امن کی علامت قرار دینا حقیقت پسندانہ تجزیہ نہیں ہوگا۔ اس اقدام نے سیاسی منظرنامے میں ضرور تبدیلی پیدا کی ہے، لیکن وہ بنیادی عوامل بدستور موجود ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں سے اس تنازع کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ جب تک قبضے، سلامتی، خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور سیاسی حقوق جیسے بنیادی مسائل کا منصفانہ حل تلاش نہیں کیا جاتا، محض انتظامی تبدیلی دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی سول انتظامیہ قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ کے سپرد کرنے کے لیے اپنی حکومتی ساخت کو تحلیل کر رہی ہے۔ یہ کمیٹی ایک ایسی تکنیکی اور غیر جماعتی انتظامیہ کے طور پر قائم کی گئی جس کا مقصد جنگ کے بعد سول معاملات کو منظم کرنا اور عوامی خدمات کی بحالی کو ممکن بنانا ہے۔ حماس کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ایسے تمام سیاسی جواز ختم کرنا ہے جنہیں بنیاد بنا کر اسرائیل اپنی فوجی کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس اقدام سے یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ فلسطینی قیادت سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے لچک دکھانے پر آمادہ ہے، بشرطیکہ دوسری جانب بھی معاہدوں پر عمل کیا جائے۔
اس فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ اپنی جدید تاریخ کے بدترین انسانی بحران سے گزر رہا ہے۔ مسلسل جنگ نے رہائشی علاقوں، تعلیمی اداروں، اسپتالوں، بجلی، پانی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات اور رہائش کی شدید قلت انسانی زندگی کو غیر معمولی مشکلات سے دوچار کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ غزہ میں انسانی صورتحال فوری اور مؤثر عالمی اقدامات کی متقاضی ہے۔
حماس کے اس اقدام کو ایک سیاسی حکمت عملی کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ تنظیم نے انتظامی اختیارات سے دستبردار ہو کر بین الاقوامی توجہ جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ اگر غزہ کا سول انتظام ایک غیر سیاسی ادارے کے حوالے کیا جا رہا ہے تو پھر جنگ کے جاری رہنے یا امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ تاہم حماس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوجی موجودگی برقرار رہنے کی صورت میں اپنے ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ اس کے نزدیک قبضے کے خاتمے سے پہلے مزاحمت ترک کرنا ممکن نہیں۔
دوسری جانب اسرائیل مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیوں کا بنیادی مقصد اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانا اور مستقبل میں حملوں کو روکنا ہے۔ اسرائیلی قیادت کے مطابق غزہ میں کسی بھی پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ مسلح گروہوں کی عسکری صلاحیت ختم ہو۔ یہی وہ بنیادی اختلاف ہے جس نے جنگ بندی کے بعد بھی سیاسی پیش رفت کو پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ جب تک دونوں فریق سلامتی اور خودمختاری کے بارے میں مشترکہ قابلِ قبول فریم ورک پر متفق نہیں ہوتے، عارضی جنگ بندیاں مستقل امن میں تبدیل نہیں ہو سکتیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال بھی اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ نئی آبادکاری، فلسطینی آبادیوں کی بے دخلی، زمینوں پر قبضے اور مسلسل تشدد نے سیاسی اعتماد کو مزید کمزور کیا ہے۔ متعدد بین الاقوامی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ آبادکاری کی توسیع بین الاقوامی قانون سے متصادم ہے اور دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید محدود کر رہی ہے۔ یہی عوامل فلسطینی عوام میں اس احساس کو تقویت دیتے ہیں کہ سیاسی مذاکرات کے نتائج مسلسل غیر یقینی ہوتے جا رہے ہیں۔
اس تنازع کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں نے اٹھایا ہے۔ جنگیں ہمیشہ ریاستوں سے زیادہ معاشروں کو تباہ کرتی ہیں۔ بچوں کی تعلیم منقطع ہو جاتی ہے، صحت کا نظام مفلوج ہو جاتا ہے، روزگار ختم ہو جاتا ہے اور ایک پوری نسل مسلسل عدم تحفظ کے ماحول میں پروان چڑھتی ہے۔ غزہ آج اسی تلخ حقیقت کی زندہ تصویر ہے۔ اس کی تعمیرِ نو صرف مالی وسائل سے ممکن نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے سیاسی استحکام، مؤثر حکمرانی، علاقائی تعاون اور بین الاقوامی شراکت داری ناگزیر ہوگی۔
اسی لیے علاقائی اور عالمی سفارت کاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جنگ بندی کی نگرانی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، قیدیوں کے تبادلے، سرحدی انتظام، تعمیرِ نو اور سیاسی مذاکرات جیسے معاملات میں مصر، قطر، امریکہ اور دیگر ثالث ممالک کا کردار اہم رہے گا۔ تاہم سفارتی کوششوں کی کامیابی اسی صورت ممکن ہے جب تمام متعلقہ فریق اپنی ذمہ داریوں کو یکساں سنجیدگی سے پورا کریں۔
بین الاقوامی برادری پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ شہری آبادی، طبی مراکز، امدادی کارکنوں اور بنیادی ڈھانچے کا تحفظ ہر صورت مقدم رہنا چاہیے۔ اگر کسی بھی فریق کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آتے ہیں تو ان کی غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ انصاف اور احتساب کا اصول برقرار رہ سکے۔
آخرکار پائیدار امن نہ صرف سیاسی معاہدوں بلکہ انصاف، اعتماد اور باہمی احترام سے جنم لیتا ہے۔ فلسطینی عوام اپنی ریاست، آزادی، نقل و حرکت، سیاسی حقوق اور باوقار زندگی کے خواہاں ہیں، جبکہ اسرائیلی عوام سلامتی، تحفظ اور پرامن بقائے باہمی چاہتے ہیں۔ ان دونوں جائز خواہشات کو نظر انداز کر کے کوئی بھی امن منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔
حماس کا حالیہ فیصلہ ایک نئی سیاسی کھڑکی ضرور کھولتا ہے، لیکن اس کھڑکی سے امن کی روشنی اسی وقت داخل ہوگی جب جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، تعمیرِ نو، بین الاقوامی قانون کا احترام اور سنجیدہ سیاسی مذاکرات بیک وقت آگے بڑھیں۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ دیرپا امن طاقت کے مسلسل استعمال سے نہیں بلکہ انصاف، مصالحت، سیاسی بصیرت اور مشترکہ ذمہ داری سے قائم ہوتا ہے۔ غزہ اور پورے مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل بھی اسی اصول پر منحصر ہے۔









