امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے امریکی سفارتی معاہدے کو ناکام بنانے اور فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لیے امریکی عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔
مشہور امریکی پوڈکاسٹر جو روگن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو بدھ کے روز نشر ہوا، جے ڈی وینس نے اسرائیل کے حوالے سے اپنی اب تک کی سخت ترین عوامی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے لیے طے پانے والا امریکی معاہدہ بعض اسرائیلی حلقوں کو قبول نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ اسرائیلی حکومت کے بعض افراد نے دانستہ طور پر امریکی پالیسی کو مذاکرات سے ہٹا کر فوجی کارروائی کی جانب رکھنے کی کوشش کی کیونکہ وہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنا چاہتے تھے۔
جے ڈی وینس نے ایک حالیہ امریکی جریدے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل سے منسلک ایک منظم اور مالی طور پر مضبوط مہم چلائی گئی جس کا مقصد امریکی عوام کی رائے کو ایران جنگ اور اسرائیل کے حق میں تبدیل کرنا تھا۔ رپورٹ کے مطابق سابق امریکی انتخابی مہم کے ایک منتظم کو ڈیجیٹل مہم چلانے کے لیے خدمات حاصل کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ منظم مہم ایران کے ساتھ مذاکرات اور امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے ترتیب دی گئی تھی۔ ان کے مطابق اسرائیلی حکومت سے وابستہ بعض عناصر امریکی عوامی رائے کو اس انداز میں تبدیل کرنا چاہتے تھے کہ ایران کے خلاف جنگ غیر معینہ مدت تک جاری رہے۔
امریکی نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کی حمایت کرنے پر انہیں ذاتی طور پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقرر کردہ مذاکراتی حکمت عملی پر عمل کر رہے تھے، مگر اس کے باوجود انہیں مسلسل نشانہ بنایا گیا۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ یہ معمول کی بات ہے کہ دوست اور مخالف ممالک امریکی خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کریں، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایسی مہمات امریکی سیاسی فیصلوں کو متاثر کرنے لگیں۔
انہوں نے گزشتہ ماہ طے پانے والے عبوری امریکی۔ایرانی امن معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد جنگ کا خاتمہ تھا، تاہم اسرائیل میں اس معاہدے کی شدید مخالفت کی گئی۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں نے اس معاہدے کو کمزور کر دیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ان کے خیال میں اگر اسرائیلی اثرورسوخ نہ ہوتا تو امریکہ حالیہ جنگ میں اسی انداز سے شامل نہ ہوتا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے مؤقف پر پوری طرح قائم ہیں اور وہ خود بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔
اس سے قبل بھی جے ڈی وینس اسرائیل کی جانب سے ایران معاہدے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کر چکے ہیں۔ جون میں انہوں نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ اسرائیل کے مضبوط ترین اتحادی ہیں، حالانکہ امریکہ اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے۔
سابق اسرائیلی سفارت کار ایلون پنکاس نے جے ڈی وینس کے حالیہ بیانات کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی موجودہ امریکی نائب صدر نے اس سے پہلے کبھی اسرائیل پر امریکی خارجہ پالیسی کو متاثر کرنے کے لیے منظم مہم چلانے کا الزام نہیں لگایا۔ ان کے مطابق یہ بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ ایران کے معاملے پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ نمایاں ہو چکے ہیں۔
انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے مرحوم جیفری ایپسٹین کے معاملے پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین کے امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں سے روابط تھے، تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔









