لندن: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمتیں دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے لیے ہونے والی مفاہمت عملی طور پر ختم ہو چکی ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات دوبارہ شدت اختیار کر گئے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 3.82 ڈالر یا 5.15 فیصد اضافے کے ساتھ 77.98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 3.70 ڈالر یا 5.25 فیصد اضافے کے بعد 74.14 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ دونوں عالمی بینچ مارک 23 جون کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔
منگل کو بھی تیل کی قیمتوں میں تقریباً تین فیصد اضافہ ہوا تھا جب امریکہ نے ایرانی خام تیل کی فروخت کی اجازت دینے والا جنرل لائسنس منسوخ کر دیا، جس سے ایران کی توانائی برآمدات پر مزید دباؤ بڑھ گیا۔
ترکی کے شہر انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع ختم کرنے کے لیے طے پانے والا عبوری معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ تہران کے ساتھ مزید مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں، جس سے سفارتی حل کی امیدیں مزید کمزور ہو گئی ہیں۔
ایس ای بی (SEB) کے چیف کموڈیٹیز تجزیہ کار بیارنے شیلڈروپ نے کہا کہ حالیہ پیش رفت نے ساٹھ روزہ مذاکراتی عمل کے مستقبل کو شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل کے قریب زیادہ مناسب دکھائی دیتی ہے، نہ کہ 70 ڈالر۔
دریں اثنا امریکہ نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کا ایک نیا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی۔
اس کے بعد ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بدھ کی صبح بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
ادھر شپنگ کمپنیوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کئی تیل اور گیس بردار جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کا منصوبہ تبدیل کر دیا یا واپس لوٹ گئے، کیونکہ ایران نے اعلان کیا تھا کہ صرف تہران کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستہ ہی محفوظ تصور کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس اہم آبی گزرگاہ میں نقل و حمل متاثر ہوئی تو عالمی توانائی منڈیوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ گئی تھیں کیونکہ سرمایہ کاروں کو توقع تھی کہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی فراہمی میں اضافہ ہوگا۔ اسی امید پر کئی تاجروں نے تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کی توقع کرتے ہوئے بڑی مقدار میں شارٹ پوزیشنز بھی قائم کر لی تھیں۔
تاہم حالیہ کشیدگی نے مارکیٹ کا رخ بدل دیا ہے۔ اگرچہ ایران نے تجارتی جہازوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن قطر نے تہران پر متعدد حملوں کا الزام عائد کیا، جن میں قطری مائع قدرتی گیس (LNG) لے جانے والے ایک جہاز پر ڈرون حملہ بھی شامل ہے، جس کے نتیجے میں اس کے انجن روم میں آگ لگ گئی۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے جنگ شروع ہونے سے قبل عالمی تیل اور گیس کی تقریباً پانچواں حصہ ترسیل کیا جاتا تھا۔ تنازع شروع ہونے کے بعد کئی ممالک نے سپلائی میں کمی پوری کرنے کے لیے اپنے ذخائر استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔
دوسری جانب امریکی خام تیل کے ذخائر میں مسلسل کمی نے بھی قیمتوں کو سہارا دیا۔ امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (API) کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے بھی امریکی خام تیل کے ذخائر کم ہوئے، جبکہ رائٹرز کے سروے میں شامل تجزیہ کاروں نے 3 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران تقریباً 2.4 ملین بیرل کمی کی پیش گوئی کی تھی۔
ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی بیسٹ سیلر کتب، جن میں شہرۂ آفاق کتاب دی بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، Vanguard Books، Liberty Books، Readings، Kitab Sarai، Sang-e-Meel، Saeed Book Bank Islamabad، National Book Foundation اور پاکستان بھر کے دیگر معروف بک اسٹورز پر دستیاب ہیں۔ ہوم ڈلیوری کے لیے رابطہ کریں: 0300 9552542۔









