زراعت کی بے پناہ صلاحیت اور پاکستان کا پالیسی بحران

[post-views]
[post-views]

Dr Safdar Khan

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ مؤقف درست ہے کہ پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے زراعت اور لائیو اسٹاک سب سے مؤثر اور تیز رفتار ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اعداد و شمار بھی اس حقیقت کی تائید کرتے ہیں۔ زراعت ملکی مجموعی پیداوار کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ فراہم کرتی ہے، ایک تہائی سے زیادہ افرادی قوت کو روزگار دیتی ہے اور ملک بھر میں لاکھوں خاندانوں کے لیے معاشی زندگی کا بنیادی سہارا ہے۔ اس شعبے کے اندر لائیو اسٹاک اکیلے ہی زرعی شعبے میں پیدا ہونے والی مجموعی قدر میں ساٹھ فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے۔ پاکستان دنیا کے بڑے دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ دودھ اور گوشت کی برآمدات میں مزید نمایاں اضافہ کرنے کی وسیع صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ بہت کم ایسے شعبے ہیں جو بیک وقت معاشی ترقی، غربت میں کمی، غذائی تحفظ اور قیمتی زرمبادلہ کے حصول میں اتنا مؤثر کردار ادا کر سکتے ہوں جتنا زراعت ادا کر سکتی ہے۔

تاہم وزیراعظم کا یہ کہنا کہ صرف ایک سال کے اندر زراعت کے ذریعے قومی معیشت کو مکمل طور پر بحال کیا جا سکتا ہے، ایک ایسی حقیقت کی نشاندہی بھی کرتا ہے جو پاکستان میں اکثر دہرائی جاتی ہے۔ ایک طرف بلند و بانگ دعوے اور پرکشش اعلانات ہوتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ان اہداف کے حصول کے لیے درکار عملی پالیسیاں، ادارہ جاتی اصلاحات اور مستقل حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ پاکستان کے زرعی مسائل کبھی بھی صلاحیت کی کمی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ ان کی بنیادی وجوہات دہائیوں پر محیط پالیسیوں کا عدم تسلسل، سرکاری غفلت، ادارہ جاتی کمزوری اور ایسے معاشی محرکات ہیں جنہوں نے کسانوں کو غلط سمت میں دھکیلا ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں میں تقریباً ہر حکومت نے اپنی تقاریر، منشور اور سرکاری بیانات میں زراعت کو قومی ترقی کی بنیاد قرار دیا، مگر ان دعوؤں کی عکاسی بجٹ اور وسائل کی تقسیم میں کبھی نظر نہیں آئی۔ زرعی تحقیق، توسیعی خدمات، آبپاشی کے جدید نظام، منڈیوں کی اصلاح، زرعی مارکیٹنگ اور سرمایہ کاری کی ترجیحات ہمیشہ حکومتی دعوؤں سے کہیں پیچھے رہیں۔ موجودہ وفاقی اور صوبائی بجٹ بھی اسی روایت کو آگے بڑھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ معاشی تبدیلی کی بات بار بار کی جاتی ہے، لیکن وسائل کی حقیقی تقسیم میں زراعت اب بھی ترجیحات کی فہرست میں نمایاں مقام حاصل نہیں کر سکی۔ یہی تضاد، یعنی زراعت کو ترقی کا ستون قرار دینا مگر اس پر سرمایہ کاری نہ کرنا، ہر گزرتے سال کے ساتھ قومی معیشت پر مزید بھاری پڑ رہا ہے۔

تجارتی صورتحال اس پالیسی کمزوری کی واضح مثال پیش کرتی ہے۔ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر خوراک اور ٹیکسٹائل صنعت کے لیے خام زرعی مواد درآمد کرنے پر خرچ کرتا ہے، حالانکہ یہی ضروریات ملکی پیداوار سے پوری کی جا سکتی ہیں۔ دوسری جانب غذائی اجناس کی برآمدات میں اضافہ ہونے کے بجائے مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ان دونوں رجحانات نے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے، ایسے وقت میں جب معیشت پہلے ہی بیرونی قرضوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ دوسری طرف کسان بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، کھاد، بیج اور توانائی کی مہنگی قیمتوں، غیر یقینی منڈی، بیوپاریوں کی اجارہ داری، ذخیرہ اندوزی، ناکافی گوداموں اور ایسی سپلائی چین کا سامنا کر رہے ہیں جس میں منافع کا بڑا حصہ درمیانی افراد لے جاتے ہیں جبکہ اصل پیدا کرنے والے کو مناسب معاوضہ نہیں ملتا۔ کسان سے زیادہ پیداوار کا مطالبہ تو کیا جاتا ہے مگر اس کے خطرات کم کرنے کے لیے نہ بازار مؤثر کردار ادا کرتا ہے اور نہ ہی سرکاری پالیسیاں۔

وزیراعظم نے زراعت میں جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جانوروں کی بیماریوں کے تدارک اور زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن پر زور دیا ہے، جو یقیناً قابلِ تحسین نکات ہیں۔ لیکن ٹیکنالوجی مؤثر پالیسی کا متبادل نہیں بن سکتی۔ صرف مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کوئی کسان اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ نہیں کرے گا اگر کھاد مسلسل مہنگی ہو، بجلی اور ایندھن کی قیمتیں بڑھتی رہیں، پانی کی دستیابی کم ہوتی جائے اور منڈی اسے اس کی پیداوار کی منصفانہ قیمت نہ دے۔ کسان سب سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ اس کی محنت منافع بخش ہوگی یا نہیں، اس کے بعد وہ جدید ٹیکنالوجی اپنانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ ایسے وقت میں جب صنعتی پیداوار جمود کا شکار ہے اور برآمدات خاطر خواہ اضافہ نہیں دکھا رہیں، زراعت ہی وہ شعبہ ہے جو عام شہری تک معاشی ترقی کے ثمرات پہنچانے کی حقیقی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس صلاحیت کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ایسی اصلاحات درکار ہیں جن کے وعدے تو بارہا کیے گئے مگر عملی اقدامات ہمیشہ محدود رہے۔ زرعی تحقیق کو علامتی فنڈز کے بجائے خاطر خواہ وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔ پاکستان کو مویشیوں کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے اپنی ویکسین تیار کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی تاکہ درآمدی ویکسین پر انحصار ختم ہو۔ زرعی اور لائیو اسٹاک مصنوعات کی مکمل نگرانی اور معیار کی تصدیق کا نظام قائم کرنا ناگزیر ہے کیونکہ عالمی منڈیاں اب انہی معیارات کا تقاضا کرتی ہیں۔ ایسی منڈی اصلاحات بھی ضروری ہیں جو کسان کے استحصال کا سبب بننے والے درمیانی افراد کی اجارہ داری ختم کریں۔ دیہی علاقوں میں زرعی قرضوں کی فراہمی کو وسیع کرنا ہوگا تاکہ چھوٹے کسان بھی سرمایہ کاری کر سکیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، جن میں سیلاب، شدید گرمی اور بارشوں کے بدلتے ہوئے رجحانات شامل ہیں، کو زرعی منصوبہ بندی کا مرکزی حصہ بنانا ہوگا۔ اسی طرح پانی کے مؤثر استعمال کے لیے جدید آبپاشی نظام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ زرعی سپلائی چین، کولڈ اسٹوریج، فوڈ پراسیسنگ، نقل و حمل اور برآمدی نظام میں نجی سرمایہ کاری کی حقیقی حوصلہ افزائی بھی ناگزیر ہے، نہ کہ وقتی ٹیکس رعایتیں جنہیں بعد میں خاموشی سے واپس لے لیا جائے۔

بدقسمتی سے ہر آنے والی حکومت زراعت میں انقلاب لانے کے دعوے تو کرتی ہے، مگر وہ سیاسی عزم دکھانے میں ناکام رہتی ہے جو حقیقی اصلاحات کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ زرعی اصلاحات کا مطلب صرف نئی اسکیموں کا اعلان نہیں بلکہ بااثر مفادات کو چیلنج کرنا، بجٹ کی ترجیحات کو تبدیل کرنا اور کئی برسوں تک مستقل مزاجی کے ساتھ پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا ہے۔ جب تک یہ بنیادی تبدیلی نہیں آتی، اس وقت تک یہ دعویٰ کہ زراعت پاکستان کی معاشی بحالی کی کنجی ہے، صرف ایک خوبصورت نعرہ ہی رہے گا، ایسا نعرہ جو مضبوط پالیسی، ادارہ جاتی اصلاحات اور عملی اقدامات کے بغیر حقیقت کا روپ اختیار نہیں کر سکتا۔

ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتب، جن میں دی بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر معروف کتب فروشوں پر دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں: 0300 9552542۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]