پاکستان میں ادارہ جاتی توازن کی نامکمل تلاش

[post-views]
[post-views]

ادارتی تجزیہ

پاکستان کی ریاستی ساخت کئی دہائیوں سے ادارہ جاتی اختیارات کے غیر متوازن ارتکاز کا شکار رہی ہے۔ کبھی سول انتظامیہ ریاستی فیصلوں کا اصل مرکز بن جاتی ہے، کبھی عسکری ادارے غالب کردار سنبھال لیتے ہیں، اور بعض اوقات عدلیہ بھی اپنے آئینی دائرۂ اختیار سے آگے بڑھ کر سیاسی و انتظامی معاملات میں نمایاں کردار ادا کرنے لگتی ہے۔ اس مسلسل کشمکش نے آئینی استحکام کے بجائے اختیارات کے ایک ایسے غیر یقینی چکر کو جنم دیا ہے جو ریاستی نظم کو کمزور کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جدید جمہوری ریاست کا مقصد کسی ایک ادارے کی بالادستی کو دوسرے ادارے سے تبدیل کرنا نہیں ہوتا۔ اگر سول انتظامیہ کی جگہ عسکری غلبہ لے لے یا عدالتی فعالیت انتظامی کردار اختیار کر لے تو مسئلے کی نوعیت تبدیل نہیں ہوتی، بلکہ صرف اس کا مرکز بدلتا ہے۔ پاکستان کو ایسی ریاست درکار ہے جس کی بنیاد عوامی حاکمیت، نمائندہ جمہوریت، پارلیمانی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور مؤثر عوامی احتساب پر استوار ہو۔

ریاستی ادارے اپنی فطرت میں انتظامی ڈھانچے ہوتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری قانون پر عمل درآمد، ریاستی نظم و نسق اور عوامی خدمات کی فراہمی ہے، نہ کہ عوامی اقتدار کی نمائندگی۔ عوامی مینڈیٹ صرف منتخب نمائندوں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، اس لیے کوئی بھی ادارہ، خواہ وہ کتنا ہی مضبوط یا مؤثر کیوں نہ ہو، عوامی اختیار کا متبادل نہیں بن سکتا۔ جب کوئی ادارہ خود کو آئین سے بالاتر ریاست کا محافظ تصور کرنے لگے تو جمہوری نظام اپنی روح سے محروم ہونے لگتا ہے۔

پائیدار آئینی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب ہر ریاستی ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے منتخب سول قیادت کے سامنے جواب دہ ہو۔ ریاست کی وفاداری کسی فرد یا ادارے کے بجائے آئین، عوامی مینڈیٹ اور جمہوری احتساب کے ساتھ وابستہ ہونی چاہیے۔ یہی وہ اصول ہے جو ادارہ جاتی توازن، سیاسی استحکام اور عوام کے اعتماد کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ پاکستان کی آئینی ترقی کا مستقبل بھی اسی حقیقت کے عملی نفاذ سے وابستہ ہے۔

ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق کتاب دی بیوروکریٹک کو سمیت دیگر مقبول ترین کتب وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر معروف کتب فروشوں پر دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتاب منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 03009552542۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]