Zafar Iqbal
خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ پر جاری بحث نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی مالیاتی پالیسی کے ایک بنیادی تضاد کو نمایاں کر دیا ہے۔ ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندے مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ جن خطوں نے دہائیوں تک دہشت گردی، بدامنی، نقل مکانی، معاشی تباہی اور ریاستی غفلت کا سامنا کیا ہو، وہاں ترقیاتی وعدے پورے کیے بغیر ٹیکس نافذ کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام پہلے ہی غیر معمولی قربانیاں دے چکے ہیں، اس لیے مزید مالی بوجھ ڈالنے سے قبل ریاست کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
اس مؤقف کی بنیاد میں موجود تاریخی حقائق سے انکار ممکن نہیں۔ سابق قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ کے متعدد حصے طویل عرصے تک شدت پسندی، فوجی کارروائیوں، معاشی جمود اور انتظامی تنہائی کا شکار رہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، کاروبار تباہ ہوئے، بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا اور صحت، تعلیم، انصاف اور دیگر سرکاری خدمات شدید کمزور رہیں۔ دو ہزار اٹھارہ میں ان علاقوں کا خیبر پختونخوا میں انضمام ایک نئے دور کی امید لے کر آیا، مگر انتظامی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار توقعات کے مطابق نہ بڑھ سکی۔ اسی لیے مقامی آبادی کا یہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ حکومتیں ان وعدوں کو پورا کریں جو انضمام کے وقت کیے گئے تھے۔
لیکن ان تمام حقائق کے باوجود یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کہ ان علاقوں کو ہمیشہ کے لیے ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ ترقی اور ٹیکس دو مختلف معاملات ہیں۔ ایک طرف ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ پسماندہ علاقوں کو ترقی کے برابر مواقع فراہم کرے، جبکہ دوسری جانب معاشی استطاعت رکھنے والے شہریوں اور کاروباری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی محصولات میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اگر ان دونوں ذمہ داریوں کو ایک دوسرے کا متبادل بنا دیا جائے تو نہ ترقی کا مقصد حاصل ہوگا اور نہ ہی ایک منصفانہ مالیاتی نظام تشکیل پا سکے گا۔
ٹیکسوں کی مخالفت میں اکثر یہ نعرہ دہرایا جاتا ہے کہ “نمائندگی کے بغیر ٹیکس نہیں۔” لیکن اس تاریخی اصول کا اصل پس منظر مختلف تھا۔ یہ نعرہ اٹھارہویں صدی میں امریکی نوآبادیات نے برطانوی حکومت کے خلاف اس وقت بلند کیا تھا جب ان پر ایسے ٹیکس عائد کیے جا رہے تھے جن کے فیصلے کرنے والی برطانوی پارلیمنٹ میں ان کی کوئی منتخب نمائندگی موجود نہیں تھی۔ ان کا اعتراض ٹیکس پر نہیں بلکہ سیاسی نمائندگی کے فقدان اور احتساب کے نہ ہونے پر تھا۔
پاکستان کے ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ کی آئینی حیثیت اس سے بالکل مختلف ہے۔ ان علاقوں کے عوام قومی اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ یہی نمائندے قانون سازی، بجٹ سازی، مالیاتی مباحث اور حکومتی فیصلوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ ان پر ٹیکس نمائندگی کے بغیر نافذ کیے جا رہے ہیں، تاریخی اور آئینی دونوں حوالوں سے درست نہیں۔
نمائندگی کا مطلب یہ ضرور ہے کہ عوام ٹیکسوں پر سوال اٹھائیں، ان کے استعمال کا حساب مانگیں، غیر منصفانہ پالیسیوں کو چیلنج کریں اور مالیاتی شفافیت کا مطالبہ کریں، لیکن نمائندگی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی خطے کو ہمیشہ کے لیے قومی ٹیکس نظام سے باہر رکھا جائے۔ جمہوری مساوات صرف حقوق نہیں دیتی بلکہ ذمہ داریاں بھی عائد کرتی ہے، اور ٹیکس انہی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔
حکومتوں کی کارکردگی پر تنقید اپنی جگہ مکمل طور پر جائز ہے۔ انضمام کے وقت وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، پولیس، عدلیہ، تعلیم، صحت اور انتظامی اداروں کی مضبوطی کے لیے بڑے بڑے وعدے کیے تھے۔ ان میں سے متعدد منصوبے یا تو سست روی کا شکار رہے یا مطلوبہ نتائج نہ دے سکے۔ ترقیاتی فنڈز کی بروقت فراہمی، منصوبوں کی تکمیل اور شفاف عمل درآمد کے حوالے سے حکومتوں سے جواب طلبی ضروری ہے۔
تاہم حکومتی ناکامی کو مستقل ٹیکس چھوٹ کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر ہر وہ علاقہ جہاں ترقیاتی کام سست ہوں، ٹیکس دینے سے انکار کر دے تو پورا قومی مالیاتی نظام غیر مؤثر ہو جائے گا۔
علاقائی بنیادوں پر ٹیکس چھوٹ خود بھی کئی مسائل پیدا کرتی ہے۔ کم آمدنی والے خاندانوں کو اس سے محدود فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی براہ راست ٹیکس کے دائرے میں نہیں آتے۔ اصل فائدہ نسبتاً بڑے کاروبار، تاجروں اور سرمایہ رکھنے والے افراد کو حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح پالیسی کا مقصد غریبوں کی مدد کے بجائے بعض اوقات کاروباری مفادات کا تحفظ بن جاتا ہے۔
اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں مختلف ٹیکس نظام کاروباری مسابقت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ اگر ایک ضلع میں کاروبار ٹیکس ادا کرے جبکہ سرحد پار دوسرا کاروبار ٹیکس سے مستثنیٰ ہو تو منڈی میں غیر مساوی حالات پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے ٹیکس سے بچنے کے لیے کاروباری سرگرمیوں کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے منتقل کرنے، دستاویزات میں ردوبدل کرنے اور غیر رسمی معیشت کو فروغ دینے کے رجحانات جنم لیتے ہیں۔
پاکستان پہلے ہی ایک محدود ٹیکس بنیاد کا شکار ہے۔ تنخواہ دار طبقہ، رجسٹرڈ کمپنیاں اور چند رسمی شعبے قومی محصولات کا بڑا حصہ ادا کرتے ہیں، جبکہ زرعی آمدنی، جائیداد، تھوک و پرچون تجارت اور غیر رسمی معیشت کے بڑے حصے ابھی بھی مؤثر انداز میں ٹیکس نظام میں شامل نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے حکومتیں ہر سال انہی لوگوں پر مزید بوجھ ڈالتی ہیں جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہوتے ہیں۔
یہی پاکستان کا سب سے بڑا مالیاتی بحران ہے۔ جب ٹیکس دینے والوں کی تعداد کم ہوتی ہے تو محصولات بڑھانے کے لیے انہی پر مزید ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں جو پہلے سے نظام کا حصہ ہیں۔ اس سے نہ صرف عدم مساوات بڑھتی ہے بلکہ عوام میں ٹیکس نظام پر اعتماد بھی کمزور ہوتا جاتا ہے۔
بعض لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ جب تک ریاست معیاری تعلیم، صحت، سڑکیں اور امن فراہم نہ کرے، اس وقت تک ٹیکس نہیں مانگ سکتی۔ بظاہر یہ مؤقف مناسب معلوم ہوتا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ریاست کی موجودگی طویل عرصے تک کمزور رہی ہو۔ لیکن اگر یہی اصول پورے ملک پر لاگو کیا جائے تو پاکستان کے بیشتر پسماندہ علاقے ٹیکس دینے سے انکار کر سکتے ہیں، کیونکہ وہاں بھی بنیادی سہولیات مکمل طور پر دستیاب نہیں۔
دوسری طرف حکومت بھی عوام سے مکمل تعاون کی توقع نہیں رکھ سکتی جب تک وہ شفافیت، جوابدہی اور بہتر خدمات فراہم نہ کرے۔ اس لیے ٹیکس اور عوامی خدمات ایک دوسرے کے بعد نہیں بلکہ ایک ساتھ آگے بڑھنے چاہئیں۔
اسی مقصد کے لیے ایک متوازن مالیاتی معاہدے کی ضرورت ہے۔ ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ میں ٹیکسوں کا نفاذ مرحلہ وار، شفاف اور وقت کے تعین کے ساتھ ہونا چاہیے۔ کم آمدنی والے خاندانوں، چھوٹے تاجروں اور محدود وسائل رکھنے والے کاروبار کو مناسب تحفظ دیا جائے، جبکہ بڑے کاروباری اداروں کو بتدریج قومی ٹیکس نظام کا حصہ بنایا جائے۔
اس کے ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہر سال یہ بھی عوام کے سامنے رکھیں کہ انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں میں سے کون سے منصوبے مکمل ہوئے، کون سے زیر تکمیل ہیں اور کس منصوبے کے لیے کتنے وسائل مختص کیے گئے ہیں۔ اس سے اعتماد بڑھے گا اور ریاستی احتساب بھی مضبوط ہوگا۔
منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ترقیاتی فنڈز کی بروقت فراہمی، منصوبوں کی تکمیل اور مقامی معاشی حالات کے مطابق منصفانہ ٹیکس پالیسی کے لیے آواز بلند کریں۔ تاہم ٹیکسوں کی مکمل مخالفت نہ تو قومی مالیاتی بحران کا حل ہے اور نہ ہی ان علاقوں کی پائیدار ترقی کا راستہ۔
پاکستان اس وقت تک ایک منصفانہ مالیاتی نظام قائم نہیں کر سکتا جب تک ہر منظم طبقہ اپنے لیے مستقل استثنا کا مطالبہ کرتا رہے۔ اس طرزِ عمل کا نتیجہ صرف یہ نکلتا ہے کہ ٹیکس کا اصل بوجھ انہی شہریوں پر منتقل ہوتا ہے جو پہلے ہی قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ بہتر ترقی، مضبوط اداروں اور انضمام کے وقت کیے گئے تمام وعدوں کی تکمیل کے مکمل حق دار ہیں۔ ان مطالبات کی بھرپور حمایت ہونی چاہیے۔ لیکن یہ مطالبات اس بات کا جواز فراہم نہیں کرتے کہ یہ علاقے ہمیشہ کے لیے قومی ٹیکس نظام سے باہر رہیں۔ سیاسی مساوات صرف حقوق کا نام نہیں بلکہ قومی ذمہ داریوں میں برابر کی شمولیت بھی اس کا لازمی تقاضا ہے۔









