دہشت گردی کے خلاف جنگ نے امریکی جمہوریت کو کیسے کمزور کیا؟
نائن الیون کا امریکا کے اندرونی سیاسی نظام پر اثر
ڈینیئل بینجمن اور اسٹیون این سائمن
کئی برسوں سے امریکا میں بڑھتی ہوئی سیاسی بے عملی اور انتشار کی وضاحت بڑی معاشی اور سماجی تبدیلیوں کے ذریعے کی جاتی رہی ہے۔ عالمگیریت، بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری، سماجی ترقی کے محدود ہوتے مواقع، صنعتی روزگار میں کمی اور چین کے معاشی عروج سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو شدید سیاسی تقسیم، اداروں پر گرتے ہوئے اعتماد، تارکینِ وطن کے خلاف ردعمل اور امریکی متوسط طبقے کی مشکلات کی بڑی وجوہ قرار دیا جاتا ہے۔
بلاشبہ ان عوامل نے امریکی سیاست کو متاثر کیا ہے، لیکن ایک اور بڑی وجہ کو نسبتاً کم توجہ ملی ہے: دہشت گردی کے خلاف جنگ۔
11 ستمبر 2001 کے بعد شروع ہونے والی جنگوں اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کا جائزہ عموماً بیرونِ ملک ہونے والے واقعات کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔ کتنے دہشت گرد رہنما مارے گئے، کتنے حملے ناکام بنائے گئے، انٹیلی جنس کی کتنی ناکامیاں سامنے آئیں اور افغانستان و عراق کی جنگوں کی انسانی اور مالی قیمت کتنی تھی—یہ سب اس جنگ کو جانچنے کے روایتی پیمانے ہیں۔ لیکن اس جائزے میں ایک اہم پہلو اکثر نظرانداز ہوجاتا ہے: دو دہائیوں پر محیط مسلسل سلامتی کی اس مہم نے خود امریکی سیاست، اداروں اور معاشرے کو کس طرح تبدیل کیا۔
اس جنگ کی براہِ راست قیمت ہی بہت زیادہ تھی۔ سات ہزار سے زیادہ امریکی فوجی کارروائیوں میں ہلاک اور 53 ہزار زخمی ہوئے، جبکہ 30 ہزار سے زیادہ فوجیوں اور سابق فوجیوں نے اپنی جان لے لی۔ براؤن یونیورسٹی کے جنگی اخراجات سے متعلق منصوبے کے مطابق نائن الیون کے بعد ہونے والی جنگوں نے امریکی قومی قرض میں تقریباً آٹھ ہزار ارب ڈالر کا اضافہ کیا، جبکہ سابق فوجیوں کی طبی دیکھ بھال پر مستقبل میں بھی بھاری اخراجات متوقع ہیں۔
لیکن مالی نقصان اور جانی قربانیاں اس پوری کہانی کا صرف ایک حصہ ہیں۔
خوف پر قائم سیاست
نائن الیون کے بعد دہشت گردی محض قومی سلامتی کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ امریکی سیاسی زندگی کو تشکیل دینے والی ایک طاقتور قوت بن گئی۔
ایک اور تباہ کن حملے کے امکان نے مستقل خوف کی فضا پیدا کردی۔ سیاسی رہنماؤں، ذرائع ابلاغ کے مبصرین اور تیزی سے پھیلتے انسدادِ دہشت گردی کے نظام نے بار بار دہشت گردی کو امریکا کے وجود کے لیے خطرے کے طور پر پیش کیا۔ ان حالات میں امریکی شہری سلامتی کے بدلے حکومت کو غیر معمولی اختیارات دینے کے لیے زیادہ آمادہ ہوگئے۔
اس کا نتیجہ صرف ایک طاقتور انسدادِ دہشت گردی نظام کی صورت میں نہیں نکلا۔ اس دور نے سماجی ہم آہنگی میں کمی، سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون کے زوال، غیر ملکیوں اور تارکینِ وطن کے خلاف جذبات میں اضافے اور سیاسی و خارجہ پالیسی کی اشرافیہ پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد میں بھی کردار ادا کیا۔
امریکی مسلمانوں نے اس تبدیلی کو خاص طور پر شدت سے محسوس کیا۔
صدر جارج ڈبلیو بش مسلسل کہتے رہے کہ امریکا کی جنگ اسلام کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہے۔ لیکن حکومتی اقدامات اور عوامی بیانیہ اکثر اس دعوے سے مختلف تصویر پیش کرتے تھے۔ حملوں کے بعد کم از کم 1,200 مسلمان مردوں کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے بہت سے افراد کو امیگریشن قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مسلم برادریوں کی نگرانی میں بھی نمایاں اضافہ کیا۔
یوں پرتشدد انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی اور پوری مسلم آبادی کو ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھنے کے درمیان فرق بتدریج دھندلا ہونے لگا۔
اور خوف سیاسی طور پر مفید ثابت ہوا۔
2016 کے صدارتی انتخابات تک ڈونلڈ ٹرمپ دہشت گردی، اسلام اور امیگریشن کو ایک ہی سیاسی بیانیے میں جوڑنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کی سیاست میں بیرونی خطرات اور امریکا کے اندر موجود مبینہ دشمن ایک ہی مسئلے کے مختلف پہلوؤں کے طور پر پیش ہونے لگے۔ اقتدار میں آنے کے بعد اسی سوچ نے کئی مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیوں اور تارکینِ وطن و اقلیتوں کے بارے میں وسیع تر سیاسی بداعتمادی کو تقویت دی۔
بیرونی دشمن سے اندرونی دشمن تک
یہ شاید نائن الیون کے بعد کے دور کی سب سے اہم میراثوں میں سے ایک ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ نے امریکی سیاسی ثقافت کو اس تصور کا عادی بنایا کہ خطرناک افراد بڑی آبادیوں کے اندر چھپے ہوسکتے ہیں۔ روایتی جنگ میں عموماً واضح فوجوں، حکومتوں اور عسکری تنصیبات کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کا طریقہ اس سے مختلف ہے۔ اس میں حملہ ہونے سے پہلے افراد، ان کے رابطوں، مالی لین دین، سفر اور رویوں کے نمونوں کی تلاش کی جاتی ہے۔
اس مقصد کے لیے سلامتی کا ایک نیا ڈھانچا قائم کیا گیا۔
وفاقی اداروں نے انٹیلی جنس، امیگریشن، کسٹمز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے معلوماتی نظاموں کو باہم مربوط کیا۔ مشترکہ انسدادِ دہشت گردی دستوں اور معلومات کے تبادلے کے مراکز نے وفاقی اور مقامی اداروں کے درمیان تعاون بڑھایا۔ ابتدا میں دہشت گردوں کی شناخت کے لیے بنائے گئے یہ نظام رفتہ رفتہ عوامی تحفظ اور قانون نافذ کرنے کے وسیع تر مقاصد کے لیے بھی استعمال ہونے لگے۔
یہ نظام معلومات جمع کرنے اور مختلف روابط تلاش کرنے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوا۔
لیکن ایک مرتبہ ایسا نظام قائم ہوجائے تو اس کا مقصد تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے۔
دہشت گرد تنظیموں کا سراغ لگانے کے لیے بنائے گئے ذرائع مظاہرین، تارکینِ وطن، سیاسی کارکنوں اور دوسرے گروہوں کی نگرانی کے لیے بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔ 2020 میں پورٹ لینڈ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین اور صحافیوں کی نگرانی اس بات کی ایک مثال تھی کہ قومی سلامتی کے لیے قائم صلاحیتیں کس طرح اندرونی سیاسی نگرانی میں منتقل ہوسکتی ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی نے اس امکان کو مزید وسیع کردیا ہے۔ بڑے معلوماتی ذخائر، تجارتی برقی ذرائع اور مصنوعی ذہانت حکومتوں کو اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کی شناخت اور نگرانی کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں جو ماضی میں بہت بڑی افرادی قوت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔
اس لیے جمہوری نظام کے لیے بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ یہ صلاحیتیں کتنی مفید ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان پر اختیار کس کا ہے، انہیں کس کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے اور ان کے سیاسی غلط استعمال کو روکنے کے لیے کیا حدود موجود ہیں۔
سلامتی کی ریاست کا پھیلاؤ
نائن الیون کے بعد تبدیلی صرف سیاسی اور سماجی رویوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ریاستی اداروں کی ساخت بھی تبدیل ہوئی۔
وفاقی سلامتی کے نظام میں غیر معمولی توسیع ہوئی۔ امیگریشن کے نفاذ سے متعلق اداروں کے مالی وسائل اور افرادی قوت میں اضافہ ہوا، جبکہ مقامی پولیس کو بھی زیادہ فوجی سازوسامان ملنے لگا۔ مصنفین کے مطابق نائن الیون کے بعد وزارتِ دفاع کی جانب سے مقامی پولیس کو فوجی سازوسامان کی منتقلی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں داخلی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عسکری نوعیت بھی بڑھتی گئی۔
یوں جنگ، سرحدی سلامتی اور اندرونی پولیسنگ کے درمیان موجود حدود پہلے کے مقابلے میں کم واضح ہوتی گئیں۔
فوجی اداروں کو بھی داخلی سلامتی میں زیادہ کردار ملا۔ نائن الیون کے بعد امریکی شمالی کمان کے قیام نے وطن کے دفاع اور سول حکام کی معاونت کے لیے فوجی تنظیم کو مضبوط کیا۔ بعد کی تبدیلیوں نے بیرونِ ملک جنگ کے لیے تیار فوجی صلاحیتوں اور ملک کے اندر سلامتی کے اقدامات کے درمیان ادارہ جاتی فاصلے کو مزید کم کردیا۔
یہ تمام تبدیلیاں لازماً آمرانہ حکومت پیدا نہیں کرتیں۔ جمہوری ریاستیں طاقتور انٹیلی جنس ادارے، مؤثر مسلح افواج اور جدید قانون نافذ کرنے والے نظام رکھتے ہوئے بھی جمہوری رہ سکتی ہیں۔
خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب غیر معمولی اختیارات مستقل شکل اختیار کرلیں اور سیاسی حکمران اپنے مخالفین کو سلامتی کے خطرات کے طور پر پیش کرنا شروع کردیں۔
انتظامیہ کے اختیارات میں توسیع
دہشت گردی کے خلاف جنگ کی سب سے اہم ادارہ جاتی میراث شاید صدارتی اختیارات میں غیر معمولی اضافہ ہے۔
امریکی صدور نائن الیون سے بہت پہلے بھی قومی سلامتی کے میدان میں وسیع اختیارات حاصل کرتے رہے تھے، لیکن ان حملوں نے ایسے سیاسی حالات پیدا کیے جن میں انتظامیہ کے غیر معمولی اختیارات تیزی سے بڑھ سکتے تھے۔ نگرانی، حراست، رازداری، ہنگامی اختیارات اور فوجی طاقت کے استعمال کو اس وقت زیادہ آسانی سے جائز قرار دیا جاسکتا تھا جب انہیں ایک اور تباہ کن حملہ روکنے کے لیے ضروری قرار دیا جاتا۔
جارج ڈبلیو بش نے نائن الیون کے بعد اس ریاستی ڈھانچے کا بڑا حصہ تشکیل دیا۔ باراک اوباما نے اس کے بعض پہلوؤں میں تبدیلی کی، لیکن ورثے میں ملنے والے بیشتر نظام کو برقرار رکھا۔ کانگریس نے بھی بار بار اس نظام کے مختلف حصوں کی منظوری دی یا انہیں ختم کرنے میں ناکام رہی۔
یہ صورت حال ایک بنیادی مسئلہ پیدا کرتی ہے۔
کوئی بھی جمہوری نظام مستقل طور پر اس مفروضے پر محفوظ نہیں رہ سکتا کہ ہر آنے والا صدر غیر معمولی اختیارات کو ذمہ داری سے استعمال کرے گا۔
قومی سلامتی کے حقیقی خطرات سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے اختیارات کسی دوسرے صدر کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی موجود رہتے ہیں۔ دہشت گردوں کی شناخت کے لیے قائم ادارے خود یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ کون خطرہ ہے۔ آخرکار سیاسی قیادت ہی ان تعریفوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔
یہیں نائن الیون کے بعد قائم ہونے والا نظام امریکا کے موجودہ جمہوری بحران سے جڑ جاتا ہے۔
مصنفین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک ایسی حکومت ورثے میں ملی جو پہلے ہی نگرانی، حراست، امیگریشن قوانین کے نفاذ اور ہنگامی اختیارات کے طاقتور ذرائع سے لیس تھی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ نے امریکا میں آمرانہ سیاست کو جنم نہیں دیا، لیکن اس نے ایسے صدر کے لیے پہلے سے موجود ریاستی مشینری ضرور فراہم کردی جو انتظامیہ کے اختیارات کو بہت آگے تک لے جانا چاہتا ہو۔
دشمن اب ملک کے اندر
یہ تبدیلی صرف ادارہ جاتی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی تھی۔
نائن الیون کے بعد طویل عرصے تک دہشت گرد کو ایک ایسے بیرونی دشمن کے طور پر دیکھا جاتا رہا جو خفیہ طور پر امریکی معاشرے میں داخل ہوسکتا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بیرونی خطرات کے لیے استعمال ہونے والی زبان داخلی سیاست میں بھی داخل ہوگئی۔
سب سے پہلے مسلم برادری اس شک اور بداعتمادی کی سیاست کا نمایاں ہدف بنی۔ بعد میں اسی قسم کا بیانیہ تارکینِ وطن کے خلاف استعمال ہوا۔ بالآخر مظاہرین، ثقافتی اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کو بھی خطرے، یلغار، انتہا پسندی اور اندرونی دشمن جیسے الفاظ کے ذریعے بیان کیا جانے لگا۔
بینجمن اور سائمن کے مطابق یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سب سے گہرے سیاسی اثرات میں سے ایک ہے: ’’دہشت گرد‘‘ کا تصور بتدریج سیاسی تشدد کی ایک مخصوص شکل کی تعریف سے نکل کر سیاسی مخالفین کو دیکھنے اور سمجھنے کے ایک وسیع طریقے میں تبدیل ہوگیا۔
جب سیاسی مخالفین کو مختلف رائے رکھنے والے شہریوں کے بجائے وجودی خطرہ سمجھا جانے لگے تو جمہوری مفاہمت اور سمجھوتا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
سیاست جنگ کی شکل اختیار کرنے لگتی ہے۔
سابق فوجی اور سیاسی انتہا پسندی
طویل جنگیں ان لوگوں کے ذریعے بھی معاشرے کو تبدیل کرسکتی ہیں جو ان میں حصہ لیتے ہیں۔
مصنفین تاریخی مثالوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جہاں سابق فوجی اپنی عسکری شناخت، تنظیمی طریقے اور سیاسی شکایات شہری زندگی میں لے آئے۔ موجودہ امریکا میں افغانستان اور عراق کی جنگوں میں حصہ لینے والے بعض سابق فوجی مسلح سیاسی تنظیموں میں شامل ہوئے ہیں۔
ایسے گروہوں کے بعض ارکان نے 6 جنوری کو امریکی کانگریس کی عمارت پر حملے میں حصہ لیا اور بعض مقامات پر فوجی طرز کی تنظیمی حکمتِ عملی بھی اختیار کی گئی۔ مصنفین خبردار کرتے ہیں کہ فوجی یا قانون نافذ کرنے کا تجربہ رکھنے والے افراد کے ایک چھوٹے سے حصے کی سیاسی انتہا پسندی کو بھی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوجی خدمات انتہا پسندی پیدا کرتی ہیں۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ جب فوجی تجربہ، شدید سیاسی تقسیم اور قومی غداری کے تصورات ایک دوسرے سے مل جائیں تو طویل جنگیں داخلی سیاست پر خطرناک اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔
بیرونی جنگ کے اثرات اندرونِ ملک واپس آئے
دہشت گردی کے خلاف جنگ نے عالمی ماحول کو بھی اس طرح تبدیل کیا جس کے اثرات بالآخر امریکی سیاست تک پہنچے۔
عراق پر حملے نے صدام حسین کی حکومت ختم کردی اور خطے میں ایران کی پوزیشن مضبوط کردی۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگوں اور عدم استحکام نے نقل مکانی اور مہاجرت میں اضافہ کیا۔ داعش کے عروج نے یورپ اور شمالی امریکا میں دہشت گردی کے خدشات بڑھائے اور عوامیت پسند سیاسی تحریکوں کو تقویت دی۔ اسی دوران بعض آمرانہ حکومتوں نے خود کو دہشت گردی کے خلاف ناگزیر اتحادی کے طور پر پیش کرکے داخلی جبر کے باوجود بین الاقوامی حمایت حاصل کی۔
یوں جنگ کے اثرات افغانستان، عراق یا وسیع تر مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے۔ مہاجرت، سلامتی کی پالیسی، عوامیت پسند سیاست اور سیاسی اشرافیہ پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کے ذریعے یہ اثرات مغربی ممالک کی داخلی سیاست میں واپس آگئے۔
پچیس سال بعد
نائن الیون کی امریکی یادگاری تقریبات بجا طور پر ان لوگوں کو یاد کرنے پر مرکوز رہتی ہیں جو اس دن ہلاک ہوئے اور ان افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہیں جنہوں نے بعد میں اپنی جانیں قربان کیں۔ اب اس بات کا بھی وسیع اعتراف موجود ہے کہ عراق کی جنگ ایک بڑی تزویراتی غلطی تھی اور افغانستان کی جنگ اصل تصور سے کہیں زیادہ طویل ہوگئی۔
لیکن نائن الیون کے جواب میں کیے گئے اقدامات کے امریکا کے اندرونی نظام پر اثرات بھی اتنی ہی سنجیدہ توجہ کے مستحق ہیں۔
امریکا نے دو دہائیاں ایسے ادارے قائم کرنے میں گزاریں جن کا مقصد خطرات کو عملی شکل اختیار کرنے سے پہلے شناخت کرنا تھا۔ نگرانی میں اضافہ ہوا، معلوماتی نظام ایک دوسرے سے منسلک کیے گئے، مشتبہ افراد کی فہرستیں وسیع ہوئیں، سرحدی نفاذ زیادہ عسکری نوعیت اختیار کرگیا، پیشگی پولیس کارروائی معمول بن گئی اور انتظامیہ کی رازداری اور ہنگامی اختیارات میں اضافہ ہوا۔
یہ تمام ذرائع اس خوف کے تحت قائم کیے گئے تھے کہ امریکا کو دوبارہ نائن الیون جیسے حملے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
جمہوری خطرہ اس وقت پیدا ہوا جب دشمن کی تعریف بدلنے لگی۔
ایک ایسی ریاست جو معاشرے کے اندر چھپے دہشت گردوں کو تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، وہ تارکینِ وطن، مظاہرین اور سیاسی تحریکوں کی نگرانی بھی کرسکتی ہے۔ قومی سلامتی کے غیر معمولی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے بااختیار بنایا گیا صدر اسی ادارہ جاتی ورثے کو بالکل مختلف سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرسکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا کو القاعدہ کے خلاف بھرپور کارروائی نہیں کرنی چاہیے تھی، اور نہ ہی یہ کہ نائن الیون کے بعد اختیار کیا گیا ہر حفاظتی اقدام غیر ضروری تھا۔ انٹیلی جنس اداروں کے درمیان بہتر تعاون اور قانون نافذ کرنے کی مضبوط صلاحیت نے بلاشبہ دہشت گرد حملوں کو روکنے میں کردار ادا کیا۔
اصل سبق ان اختیارات کی مستقل نوعیت سے متعلق ہے۔
ہنگامی اختیارات عموماً اس وقت خود بخود ختم نہیں ہوجاتے جب وہ ہنگامی صورت حال ختم ہوجائے جس نے انہیں جنم دیا تھا۔ ادارے اپنے بجٹ، اہلکار، ٹیکنالوجی اور سیاسی مفادات پیدا کرلیتے ہیں۔ ایک مقصد کے لیے دیے گئے اختیارات وقت کے ساتھ کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔
یوں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دراصل دو محاذ تھے۔ ایک افغانستان اور عراق سے لے کر دنیا کے مختلف حصوں میں سرگرم جہادی تنظیموں کے خلاف پھیلا ہوا تھا۔ دوسرا خاموشی سے خود امریکا کے اندر تشکیل پا رہا تھا—اس کی صدارت، سلامتی کے اداروں، پولیس کے طریقۂ کار اور سیاسی ثقافت میں۔
پہلی جنگ کا مقصد امریکی جمہوریت کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنا تھا۔
لیکن پچیس سال بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اس جنگ کو لڑتے لڑتے امریکا نے ایسے اختیارات، ادارے اور سیاسی رویے بھی پیدا کردیے جو اس کی جمہوریت کو اندر سے کمزور کرسکتے ہیں؟









