بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

کفایت شعاری برقرار، مگر اعلیٰ بیوروکریسی کے لیے ایک اور خصوصی مراعاتی پیکج منظور

[post-views]
[post-views]

وفاقی کابینہ نے پاکستان کی اعلیٰ بیوروکریسی کے لیے ایک نئے خصوصی الاؤنس کی منظوری دے دی ہے، جو گزشتہ چار برسوں میں اس نوعیت کی دوسری مراعت ہے۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے 1.8 ارب روپے مختص کیے ہیں، حالانکہ ایک طرف کفایت شعاری کی پالیسی میں توسیع کی گئی ہے اور دوسری جانب عام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ 12 جون کو وفاقی بجٹ کی منظوری کے لیے ہونے والے خصوصی کابینہ اجلاس میں کیا گیا، تاہم کابینہ ڈویژن نے اس کی تفصیلات 17 جولائی کو جاری کیں۔ اسی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ نے تمام سرکاری ملازمین کے لیے صرف 7 فیصد تنخواہ بڑھانے کی منظوری دی، جبکہ انہی ملازمین میں شامل اعلیٰ افسران کو دو الگ خصوصی الاؤنسز سے بھی مستفید ہونے کا موقع دیا گیا۔ ساتھ ہی مالی سال 2026-27 کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات میں بھی توسیع کر دی گئی۔

مہنگائی کے مسلسل دباؤ کے باوجود اعلیٰ بیوروکریسی کی تنخواہوں اور مراعات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا، جبکہ دیگر سرکاری ملازمین کو مناسب معاوضہ نہیں ملا۔ دوسری طرف عام شہری درآمدی مہنگائی اور اب روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا بوجھ بھی برداشت کر رہے ہیں۔

نئے الاؤنس کو “آل پاکستان سروسز (اے پی ایس) پروونشل گورنمنٹس کیڈر پوسٹس پیریٹی الاؤنس” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے منظور کیا جانے والا دوسرا خصوصی الاؤنس ہے۔ اس سے قبل جون 2022 میں اعلیٰ بیوروکریسی کے لیے 150 فیصد ایگزیکٹو الاؤنس منظور کیا گیا تھا۔ یکم جولائی سے نافذ ہونے والے اس نئے الاؤنس کے لیے 1.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بنیادی تنخواہ کے کم از کم 100 فیصد کے برابر ہو سکتا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور کابینہ ڈویژن کے سیکریٹریز نے اس الاؤنس کی ضرورت، اس کی شرح یا اس حوالے سے کسی ضرورت کے جائزے کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں الاؤنسز کی بنیادی دلیل ایک ہی ہے: صوبائی حکومتوں میں تعینات بیوروکریٹس کو زیادہ مراعات حاصل ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ وفاقی حکومت میں خدمات انجام دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے، جبکہ وفاقی حکومت، عدلیہ، نیب اور ایف بی آر جیسے اداروں کے تنخواہی ڈھانچوں میں بھی نمایاں فرق موجود ہے۔

ناقدین کے مطابق حکومت بنیادی تنخواہی اصلاحات کے بجائے موجودہ عدم توازن کو مزید بڑھا رہی ہے، جس کے بعد دیگر سروس گروپس بھی اسی نوعیت کی مراعات کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 240 کے تحت آل پاکستان سروسز وہ خصوصی سول سروسز ہیں جن کے افسران وفاق اور صوبوں دونوں میں خدمات انجام دیتے ہیں، جن میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس آف پاکستان شامل ہیں۔ ورلڈ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی نشاندہی کی گئی تھی کہ صوبوں نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ سے ملنے والے اضافی وسائل کا بڑا حصہ بار بار تنخواہوں اور پنشن میں اضافے پر خرچ کیا۔

کابینہ نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ وہ کابینہ اور وزارتِ خزانہ کے ساتھ مل کر وزیر اعظم کی منظوری کے لیے ایک جامع سمری تیار کرے، جس میں الاؤنس کی شرح، ڈھانچہ اور اہلیت کے معیار کا تعین کیا جائے تاکہ اسلام آباد میں تعینات آل پاکستان سروسز کے افسران کے درمیان مساوات کو یقینی بنایا جا سکے۔

علاوہ ازیں، کابینہ نے 150 فیصد ایگزیکٹو الاؤنس کو بھی 30 جون 2026 تک کی موجودہ بنیادی تنخواہ کی بنیاد پر دوبارہ شمار کرنے کی منظوری دی، اور اسے 2017 کی بنیادی تنخواہ سے منسلک رکھنے کا طریقہ ختم کر دیا۔ اس فیصلے سے گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کو مزید مالی فائدہ حاصل ہوگا۔

یہ ایگزیکٹو الاؤنس ابتدا میں وفاقی سیکریٹریٹ، وزیر اعظم آفس اور ایوانِ صدر میں سیکشن آفیسر سے لے کر سیکریٹری تک کے عہدوں پر تعینات افسران کے لیے منظور کیا گیا تھا۔ بعد ازاں دیگر سروس گروپس کے احتجاج پر اسے ان تک بھی توسیع دی گئی، اور حکام کے مطابق نئے اے پی ایس الاؤنس کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہونے کا امکان ہے۔

کفایت شعاری برقرار، مگر استثنا بھی برقرار

اسی اجلاس میں کابینہ نے کفایت شعاری کے اقدامات میں توسیع کی منظوری دی، تاہم ساتھ ہی ایک ایسا طریقۂ کار بھی برقرار رکھا جس کے تحت ان پابندیوں سے استثنا دیا جا سکتا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے قائم کردہ آسٹریٹی کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مناسب جواز کی بنیاد پر ہر کیس میں الگ سے نرمی کی منظوری دے سکے۔ اسی طریقۂ کار کے تحت پہلے ہی بیوروکریٹس اور وزراء کے لیے گاڑیوں کی خریداری، دفتری فرنیچر اور دفاتر کی تزئین و آرائش کی منظوری دی جا چکی ہے۔

کابینہ نے مالی سال 2026-27 تک نئی پائیدار اشیا، نئی گاڑیوں کی خریداری اور سرکاری تقریبات میں پرتعیش ضیافتوں پر پابندی برقرار رکھی، جہاں صرف ایک ڈش یا چائے اور بسکٹ کی اجازت ہوگی۔ تاہم آسٹریٹی کمیٹی متعدد مواقع پر انہی پابندیوں میں نرمی بھی دے چکی ہے۔

اسی طرح نئی اسامیوں کی تخلیق، عارضی اور کنٹنجنٹ آسامیوں کی توسیع، سرکاری خرچ پر بیرونِ ملک علاج اور غیر ضروری سرکاری غیر ملکی دوروں پر پابندی بھی برقرار رکھی گئی ہے، اگرچہ حالیہ مہینوں میں کابینہ وزارتِ داخلہ میں نئی اسامیوں کی منظوری بھی دے چکی ہے۔

کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ کفایت شعاری کے یہ اقدامات ریاستی ملکیتی اداروں (SOEs) پر بھی لاگو ہوں گے، جس کے لیے اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز گورننس اینڈ آپریشنز ایکٹ 2023 کے تحت ہدایات جاری کی جائیں گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]