شدید بارش سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں نظامِ زندگی مفلوج، تین افراد جاں بحق

[post-views]
[post-views]

منگل کے روز جڑواں شہروں میں ہونے والی موسلا دھار بارش کے نتیجے میں مختلف حوادث میں تین افراد جاں بحق اور ایک شخص شدید زخمی ہو گیا۔ محکمہ موسمیات نے اس بارش کو گزشتہ تین سالوں کی سب سے شدید ترین بارش قرار دیا ہے۔

جی-14 کے علاقے میں گولڈن مارکیٹ کے قریب ایک کچے مکان کی چھت گرنے سے بیس سالہ فیضان اشرف جاں بحق جبکہ پینسٹھ سالہ راز محمد ملبے تلے دب کر شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ایک دوسرے واقعے میں آئی-9/1 میں عیسیٰ نگری کے قریب سترہ سالہ یہوشوا اظہر نالے کے تیز بہاؤ میں ڈوب گیا، جس کی لاش کو پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے برآمد کیا۔

بارش کے باعث جی-6 میں ایک سرکاری بوائز اسکول اور لکھوال میں ایک اور اسکول کی بیرونی دیواریں گر گئیں، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ای-11 میں تقریباً 150 ملی میٹر بارش کے بعد نالہ اوور فلو ہو گیا جس سے سڑکیں اور عمارتوں کے بیسمنٹ زیرِ آب آ گئے۔ ڈی-12 میں ایک حفاظتی دیوار بھی گر گئی۔ غوری ٹاؤن فیز ٹو میں بھی شدید بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ راول ڈیم میں پانی کی سطح 1,751.90 فٹ تک پہنچنے پر انتظامیہ نے اسپیل ویز کھول دیے اور ریسکیو ٹیموں کو ہائی الرٹ کر دیا۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ نشیبی علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ای-11 میں نالے کی گنجائش ختم ہو گئی تھی جبکہ غوری ٹاؤن میں تعمیرا تی ملبہ پھینکنے کی وجہ سے نالہ بند ہوا، جس کے باعث پانی گھروں میں داخل ہوا۔ انہوں نے نالوں کی بندش کے ذمہ دار سوسائٹی انتظامیہ کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا انتباہ دیا۔

راولپنڈی کے حالات

آریہ محلہ میں بجلی کے شدید جھٹکے سے محکمہ تعلیم کا پچاس سالہ ملازم سہیل اصغر جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کے مطابق بارش کا پانی گھر کی پہلی منزل میں داخل ہونے پر وہ اپنے اہل خانہ کو تیسری منزل پر منتقل کر چکا تھا، لیکن جب وہ پالتو کتے کو بچانے اور یو پی ایس بند کرنے نیچے آیا تو کرنٹ لگنے سے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 29.5 فٹ اور گوالمنڈی کے مقام پر 20 فٹ تک بلند ہو گئی، جس پر نالے کے قریب رہائش پذیر شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے سائیرن بجا دیے گئے۔ پاک فوج، ضلع انتظامیہ، واسا، ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کو ہائی الرٹ رکھا گیا۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے ایمرجنسی کی صورتحال کے پیشِ نظر عام تعطیل کا اعلان کیا۔ دوپہر تک پانی کا بہاؤ کم ہو کر کٹاریاں پر 10 فٹ اور گوالمنڈی پر 7 فٹ پر آ گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شمس آباد میں 201 ملی میٹر، چکالہ میں 191 ملی میٹر، نیو کٹاریاں میں 187 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ اسلام آباد کے گولڑہ کے علاقے میں 157 ملی میٹر اور زیرو پوائنٹ پر 152 ملی میٹر بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات نے خطے میں مزید بارشوں کے ساتھ ساتھ مری، گلیات، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

شہر بھر میں ڈوبتے ہوئے علاقے

اولڈ ایئرپورٹ روڈ کے قریب شاہ خالد کالونی اور فیصل کالونی کے علاقوں میں شدید پانی بھر گیا۔ راولپنڈی کے روایتی نشیبی علاقوں کے علاوہ راجہ بازار، سٹی صدر روڈ، بینظیر بھٹو ہسپتال کا افسر وارڈ اور ہولی فیملی ہسپتال کا بیسمنٹ بھی پانی میں ڈوب گئے، جس کی وجہ سے مریضوں کو دوسری منزلوں پر منتقل کرنا پڑا۔

شہر اور کینٹ کے متعدد علاقوں میں دو سے پانچ فٹ تک پانی گھروں، گوداموں اور دکانوں میں داخل ہو گیا جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ فیصل کالونی، گنج منڈی اور کشمیری بازار کے پلوں پر متعدد گاڑیاں خراب ہو گئیں۔ راولپنڈی کے زیادہ تر حصوں میں بجلی کی فراہمی اور انٹرنیٹ سروس گھنٹوں معطل رہی۔ مری روڈ اور اسلام آباد ایکسپریس وے سمیت اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی۔ ریسکیو 1122 نے مختلف علاقوں سے ساٹھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]