یمن کے انسانی امدادی کارروائیوں کے رابطہ مرکز نے ہفتہ کے روز ان اطلاعات کو مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ باب المندب سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ادارے نے واضح کیا کہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور اس اہم آبی گزرگاہ سے آمدورفت بدستور مفت ہے۔ یہ وضاحت اس خبر کے بعد سامنے آئی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حوثی قیادت سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد جنوبی بحیرۂ احمر سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس تجویز پر جولائی میں تہران کے دورے کے دوران ایرانی حکام سے بھی بات ہوئی تھی، تاہم نفاذ کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ رابطہ مرکز نے کہا کہ اس کی محفوظ بحری راہداری کی سہولت مکمل طور پر رضاکارانہ اور بلا معاوضہ ہے، جبکہ جہاز راں کمپنیوں کو غیر مجاز افراد کو ادائیگی یا معلومات فراہم نہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔









