مصنوعی ذہانت تیزی سے محض ایک مخصوص ٹیکنالوجی کے دائرے سے نکل کر معاشی بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، کمپیوٹنگ وسائل، معیاری ڈیٹا اور تربیت یافتہ افرادی قوت تک رسائی ممالک کی معاشی مسابقت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اسی تناظر میں برکس ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی چین کی تجویز خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے چین کی قیادت میں برکس مصنوعی ذہانت اوپن سورس کمیونٹی قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد بڑے لسانی ماڈلز کی تیاری اور استعمال میں تعاون، مصنوعی ذہانت سے متعلق خصوصی تربیت اور شریک ممالک کے لیے ایک کھلا تکنیکی نظام تشکیل دینا ہے۔
ترقی پذیر ممالک، خصوصاً عالمی جنوب کی معیشتوں کے لیے ایسا تعاون مصنوعی ذہانت کی عالمی معیشت میں داخلے کی بڑی رکاوٹوں کو کم کر سکتا ہے۔
جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز ابتدا سے تیار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ وسائل، مہنگے ڈیٹا مراکز، وسیع ڈیٹا اور انتہائی تربیت یافتہ ماہرین درکار ہوتے ہیں۔ بیشتر ترقی پذیر ممالک دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کا مقابلہ کرنے کی مالی اور تکنیکی صلاحیت نہیں رکھتے۔
کھلے ماڈلز ایک متبادل راستہ فراہم کر سکتے ہیں
اوپن ویٹ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز ترقی پذیر ممالک کے لیے نسبتاً قابلِ رسائی راستہ فراہم کرتے ہیں۔ جدید ماڈلز ابتدا سے تیار کرنے کے بجائے مقامی ماہرین پہلے سے موجود ماڈلز حاصل کر کے انہیں مخصوص زبانوں، صنعتوں اور سرکاری شعبے کی ضروریات کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔
چین اس شعبے میں نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ کیوین، ڈیپ سیک، کیمی اور جی ایل ایم جیسے ماڈلز نے بڑی مغربی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے باہر بھی مؤثر مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی دستیابی میں اضافہ کیا ہے۔
تاہم اوپن ویٹ ماڈلز کو لازماً مکمل اوپن سورس نہیں سمجھنا چاہیے۔ ماڈل کے ویٹس دستیاب ہونے کے باوجود تربیتی ڈیٹا، تیاری کا کوڈ اور دیگر اہم اجزا محدود رہ سکتے ہیں۔
اس لیے اصل موقع محض مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تک رسائی سے کہیں وسیع ہے۔
چین نے برکس ڈیجیٹل ایکو سسٹم کلاؤڈ پلیٹ فارم، ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت، اسمارٹ مینوفیکچرنگ میں تعاون اور انجینئرز کی تربیت کے لیے اتحاد قائم کرنے کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ یہ اقدامات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو مؤثر انداز میں اپنانے کے لیے سافٹ ویئر کے ساتھ انسانی مہارت اور بنیادی ڈھانچہ بھی ضروری ہے۔
پاکستان کے لیے مقامی مصنوعی ذہانت کی تیاری کا موقع
پاکستان کے پاس اس ابھرتے ہوئے تکنیکی ماحول سے فائدہ اٹھانے کی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔ بڑی آبادی، نوجوان افرادی قوت اور پہلے سے قائم انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اس سے منسلک خدمات کا شعبہ پاکستان کو اعلیٰ قدر کی مصنوعی ذہانت، اس کے انضمام اور خصوصی ڈیجیٹل خدمات کی جانب بڑھنے کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔
پاکستان کو جدید ترین مصنوعی ذہانت کے نظام ابتدا سے تیار کرنے کے بھاری اخراجات برداشت کرنے کے بجائے پہلے سے موجود ماڈلز کو اپنی مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالنے پر توجہ دینی چاہیے۔
زبان اس حوالے سے سب سے نمایاں مواقع میں سے ایک ہے۔
اردو اور پاکستان کی علاقائی زبانوں کو مصنوعی ذہانت کے موجودہ نظاموں میں انگریزی اور کئی دوسری بڑی زبانوں کے مقابلے میں نسبتاً کم سہولت حاصل ہے۔ پاکستان موجودہ ماڈلز کو اپنی مقامی زبانوں کے مطابق ڈھال کر ترجمے، دستاویزات کے تجزیے، تعلیم اور عوامی معلومات تک رسائی کے لیے جدید نظام تیار کر سکتا ہے۔
اہم شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے وسیع امکانات
زراعت مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کا ایک اہم شعبہ بن سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام موسمی معلومات، زرعی اعدادوشمار، سیٹلائٹ تصاویر اور مقامی تجربے کو یکجا کرکے کسانوں کو بروقت رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ ایسی ٹیکنالوجی زرعی ماہرین کا متبادل بننے کے بجائے ان کی مہارت کو ان علاقوں تک پہنچانے میں معاون ہو سکتی ہے جہاں پیشہ ورانہ رہنمائی تک رسائی محدود ہے۔
صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت طبی ریکارڈ کی جانچ، طبی امور کی انجام دہی میں معاونت اور بنیادی صحت سے متعلق معلومات تک وسیع رسائی فراہم کر سکتی ہے۔
تعلیم میں کم لاگت والے مصنوعی ذہانت پر مبنی تدریسی نظام طلبہ کو انفرادی ضروریات کے مطابق تعلیمی معاونت فراہم کر سکتے ہیں، جبکہ اساتذہ انہیں اسباق کی تیاری اور طلبہ کی تعلیمی کمزوریوں کی نشاندہی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
سرکاری ادارے بھی قواعد و ضوابط، اعدادوشمار، عدالتی دستاویزات، انتظامی ریکارڈ اور عوامی معلومات کا بہت بڑا ذخیرہ پیدا کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت ان مواد کو تلاش کرنے، منظم کرنے اور تجزیہ کرنے کے عمل کو آسان بنانے کے ساتھ روزمرہ کے بعض انتظامی امور کو خودکار بنا سکتی ہے۔
مثال کے طور پر ٹیکس حکام مصنوعی ذہانت کو بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور ٹیکس دہندگان کے ساتھ رابطہ بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت پاکستان کو اعلیٰ قدر کی برآمدات کی جانب لے جا سکتی ہے
معاشی اعتبار سے اس ٹیکنالوجی کے امکانات مزید اہم ہیں۔ پاکستان کو طویل عرصے سے پیداواری صلاحیت بڑھانے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔
مصنوعی ذہانت پاکستانی کاروباری اداروں کو محض سستی افرادی قوت کی بنیاد پر مقابلہ کرنے کے بجائے اعلیٰ قدر کی ڈیجیٹل خدمات کے ذریعے عالمی منڈی میں مسابقت کا موقع فراہم کرتی ہے۔
پاکستانی کمپنیاں مالیات، رسد، زراعت، مینوفیکچرنگ اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں کے لیے مخصوص مصنوعی ذہانت کے نظام اور خدمات تیار کر سکتی ہیں۔
تاہم اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ڈیجیٹل معیشت کی بنیادی ضروریات میں نمایاں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
پاکستان کو قابلِ اعتماد بجلی، بہتر ڈیجیٹل رابطوں، کلاؤڈ بنیادی ڈھانچے، جدید ڈیٹا مراکز اور سستی کمپیوٹنگ سہولیات کی ضرورت ہے۔ جامعات اور صنعت کے درمیان روابط مضبوط کرنا بھی ضروری ہے، جبکہ انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس کے تعلیمی پروگراموں میں مشین لرننگ، ڈیٹا انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت کے نظام اور متعلقہ شعبوں کو زیادہ اہمیت دینا ہوگی۔
اس لیے پاکستان کا تزویراتی مقصد صرف غیر ملکی مصنوعی ذہانت کا صارف بننا نہیں ہونا چاہیے۔ ملک کو مقامی ضروریات کے مطابق تکنیکی حل تیار کرنے، انہیں ڈھالنے اور عالمی منڈی میں برآمد کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔








