کوئٹہ کان سانحہ اور مزدوروں کی جان کا سوال: کیا پاکستان میں محفوظ روزگار صرف ایک خواب ہے؟

[post-views]
[post-views]

Arshad Mahmood Awan

کوئٹہ کے قریب کوئلے کی کان میں میتھین گیس کے دھماکے سے چونتیس کان کنوں کی ہلاکت صرف ایک المناک حادثہ نہیں بلکہ پاکستان کے نظامِ حکمرانی، مزدوروں کے تحفظ اور ریاستی ذمہ داریوں پر ایک سنگین سوال ہے۔ ہر چند سال بعد ایسے حادثات قوم کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں، مگر افسوس کہ ان سے حاصل ہونے والے اسباق جلد ہی فراموش کر دیے جاتے ہیں۔ چند روز تک افسوس، تعزیت، امدادی رقوم اور تحقیقات کے اعلانات ہوتے ہیں، پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے، یہاں تک کہ ایک اور حادثہ درجنوں خاندانوں کو اجاڑ دیتا ہے۔ یہی مسلسل غفلت پاکستان کے محنت کش طبقے کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔

اس سانحے میں جان گنوانے والے افراد محض اعداد و شمار نہیں تھے۔ وہ اپنے خاندانوں کے واحد کفیل، بچوں کے باپ، بوڑھے والدین کے سہارا اور اپنے گھروں کی امید تھے۔ ان میں سے بیشتر خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ تئیس مزدور ایک ہی گاؤں کے رہائشی تھے۔ کئی ایسے بھی تھے جن کے والد بھی ماضی میں کان کنی کے حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ گویا غربت نے اس خاندان کو صرف معاشی مشکلات ہی نہیں بلکہ موت کا ورثہ بھی منتقل کیا۔ جب ایک ہی خاندان کی نسل در نسل کانوں میں جانیں جاتی رہیں تو یہ محض حادثہ نہیں رہتا بلکہ ریاستی ناکامی کی علامت بن جاتا ہے۔

دنیا بھر میں کوئلے کی کان کنی خطرناک پیشہ ضرور ہے، لیکن جدید دور میں اسے محفوظ بنانے کے لیے مؤثر نظام موجود ہیں۔ زیرِ زمین میتھین گیس کی مسلسل نگرانی، جدید وینٹیلیشن، ہنگامی اخراج کے متبادل راستے، حفاظتی آلات، تربیت یافتہ عملہ اور فوری امدادی کارروائیاں ترقی یافتہ ممالک میں لازمی تقاضے سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ممالک میں کان کنی کے حادثات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کی کمی اور نگرانی کے ناقص نظام نے مزدوروں کی جان کو مسلسل خطرے میں ڈال رکھا ہے۔

اس سانحے کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا متعلقہ کان کا باقاعدہ معائنہ کیا گیا تھا یا نہیں۔ کیا میتھین گیس کی مقدار ناپنے والے آلات درست حالت میں موجود تھے؟ کیا وینٹیلیشن کا نظام مؤثر تھا؟ کیا مزدوروں کے لیے ہنگامی اخراج کے متبادل راستے موجود تھے؟ کیا حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزیوں کی پہلے بھی نشاندہی کی گئی تھی؟ اگر ایسا تھا تو ان خامیوں کو دور کیوں نہیں کیا گیا؟ ان سوالات کے واضح اور عوامی جواب دیے بغیر کسی بھی تحقیقاتی کمیٹی کی حیثیت محض ایک رسمی کارروائی سے زیادہ نہیں ہوگی۔

حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے پانچ لاکھ روپے امداد کا اعلان یقیناً ایک ہمدردانہ اقدام ہے، لیکن یہ کسی انسانی جان کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر اس شخص کا تعین کیا جائے جس کی غفلت یا لاپروائی اس سانحے کا سبب بنی۔ اگر کسی کان مالک، ٹھیکیدار، سرکاری افسر یا معائنہ کرنے والے ادارے نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تو اس کے خلاف صرف محکمانہ کارروائی نہیں بلکہ فوجداری مقدمہ بھی چلایا جانا چاہیے۔ جب تک قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو حقیقی سزا نہیں ملے گی، حادثات کا یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔

پاکستان کی کوئلہ کان کنی کی تاریخ ایسے سانحات سے بھری پڑی ہے۔ کبھی زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے واقعات سامنے آتے ہیں، کبھی سرنگیں بیٹھ جاتی ہیں اور کبھی دھماکے درجنوں مزدوروں کی جان لے لیتے ہیں۔ ہر حادثے کے بعد اصلاحات کے وعدے کیے جاتے ہیں، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ کان مالکان اکثر حفاظتی اقدامات کو اضافی اخراجات سمجھتے ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے وسائل کی کمی یا عملے کی قلت کا عذر پیش کرتے ہیں۔ لیکن جب انسانی جانوں کا معاملہ ہو تو ایسے جواز قابلِ قبول نہیں ہو سکتے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بیشتر کان کن غربت اور بے روزگاری کے باعث ان خطرناک حالات میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اگر ان کے پاس روزگار کے بہتر مواقع موجود ہوں تو شاید کوئی بھی شخص اپنی جان کو اس قدر بڑے خطرے میں نہ ڈالے۔ ایسے حالات میں یہ کہنا کہ مزدور اپنی مرضی سے خطرناک کام کرتے ہیں، حقیقت سے بعید ہے۔ غربت انسان کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جو وہ خوشحالی کی صورت میں کبھی نہ کرے۔ اس لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ریاست اور آجر دونوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

کان کنی کا شعبہ پاکستان میں مزدوروں کے تحفظ کے وسیع تر بحران کی صرف ایک مثال ہے۔ ملک بھر میں فیکٹریاں، تعمیراتی منصوبے، شپ بریکنگ یارڈ، اینٹوں کے بھٹے، پتھر توڑنے کے کارخانے، کیمیکل یونٹ اور دیگر صنعتی ادارے ایسے ہیں جہاں ہزاروں مزدور روزانہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر کام کرتے ہیں۔ اکثر مقامات پر حفاظتی لباس، ہیلمٹ، ماسک، تربیت اور ہنگامی سہولتوں کا فقدان پایا جاتا ہے۔ حادثات کی بڑی وجہ قدرتی عوامل نہیں بلکہ انسانی غفلت، کمزور نگرانی اور قانون پر ناقص عمل درآمد ہے۔

کراچی کی بلدیہ فیکٹری میں لگنے والی آگ پاکستان کی صنعتی تاریخ کا بدترین سانحہ تھی، جس میں دو سو ساٹھ سے زائد مزدور جاں بحق ہوئے۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ جب ہنگامی راستے بند ہوں، آگ بجھانے کا نظام ناکارہ ہو اور حفاظتی معیارات کو نظر انداز کیا جائے تو معمولی حادثہ بھی اجتماعی المیے میں بدل جاتا ہے۔ اسی طرح 2016ء میں گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں ہونے والے دھماکے نے درجنوں مزدوروں کی جان لے لی۔ پتھر توڑنے والے کارخانوں میں آج بھی سیکڑوں مزدور سلیکوسس جیسی مہلک بیماری کا شکار ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں گرد سے بچانے کے لیے مناسب حفاظتی سامان فراہم نہیں کیا جاتا۔

ان تمام سانحات میں ایک قدر مشترک ہے۔ آجر اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے حفاظتی انتظامات پر سرمایہ کاری نہیں کرتے، سرکاری معائنہ کرنے والے ادارے مؤثر نگرانی کرنے میں ناکام رہتے ہیں، مزدور روزگار کھونے کے خوف سے شکایت درج نہیں کراتے، اور حکومتیں صرف اس وقت متحرک ہوتی ہیں جب درجنوں لاشیں سامنے آ جاتی ہیں۔ یہ طرزِ حکمرانی کسی بھی مہذب معاشرے کے شایانِ شان نہیں۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد مزدوروں کے تحفظ اور پیشہ ورانہ سلامتی کی ذمہ داری بڑی حد تک صوبوں کے سپرد ہو چکی ہے۔ اس لیے ہر صوبائی حکومت پر لازم ہے کہ وہ جدید پیشہ ورانہ تحفظ کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرائے۔ تمام صنعتی اداروں، کانوں، تعمیراتی منصوبوں اور خطرناک کام کرنے والی جگہوں کا باقاعدہ اندراج کیا جائے، معائنے کا نظام شفاف بنایا جائے، حادثات کا مکمل ریکارڈ عوام کے سامنے رکھا جائے اور حفاظتی اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی کرنے والے اداروں کو بند کر دیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہر مزدور کی رجسٹریشن بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔ پاکستان میں لاکھوں مزدور ایسے ہیں جن کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں۔ حادثہ پیش آنے کی صورت میں ان کے اہلِ خانہ نہ پنشن حاصل کر سکتے ہیں، نہ انشورنس اور نہ ہی قانونی معاوضہ۔ یہ صورتحال مزدوروں کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ریاست کو اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ کوئی بھی محنت کش صرف اس لیے اپنے قانونی حقوق سے محروم نہ رہے کہ اس کے آجر نے اسے رجسٹر نہیں کیا۔

کوئٹہ کا سانحہ صرف ایک کان کا حادثہ نہیں بلکہ ایک قومی امتحان ہے۔ یہ امتحان اس بات کا ہے کہ آیا پاکستان انسانی جان کو منافع سے زیادہ اہمیت دینے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ اگر ہم نے اس واقعے کو بھی ماضی کے دیگر سانحات کی طرح چند دن کے افسوس کے بعد فراموش کر دیا تو مستقبل میں مزید خاندان اسی طرح اجڑتے رہیں گے۔

محفوظ روزگار کسی مزدور پر احسان نہیں بلکہ اس کا بنیادی حق ہے۔ ریاست کی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو ایسا کام کرنے کا ماحول فراہم کرے جہاں وہ اپنی روزی کمانے کے لیے اپنی جان داؤ پر نہ لگائے۔ جب تک حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزا نہیں ملتی، معائنہ کرنے والے ادارے آزاد اور بااختیار نہیں بنتے، اور مزدوروں کے تحفظ کو قومی ترقی کا لازمی حصہ نہیں سمجھا جاتا، تب تک پاکستان میں ایسے المناک سانحات کا سلسلہ رکنے والا نہیں۔

کوئٹہ کے چونتیس کان کنوں کی موت کو محض ایک اور حادثہ سمجھ کر فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کی قربانی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ پاکستان اپنے مزدوروں کے تحفظ کے پورے نظام کا ازسرِ نو جائزہ لے، قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرے اور یہ یقینی بنائے کہ آئندہ کوئی مزدور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے ایسی کان میں نہ اترے جہاں واپسی کی کوئی ضمانت نہ ہو۔ یہی ان جاں بحق مزدوروں کے ساتھ حقیقی انصاف اور ایک ذمہ دار ریاست کی پہچان ہوگی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]