Arshad Mahmood Awan
پاکستان میں اس سال دریائے چناب میں پانی کے بڑھتے ہوئے بہاؤ نے ایک مرتبہ پھر سیلاب کے خطرات کو قومی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ تاہم اگر آبی مسائل کو صرف موسمی سیلاب تک محدود کر دیا جائے تو یہ ایک بڑی حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہوگا۔ پاکستان کا آبی بحران اب محض قدرتی آفات یا ہنگامی امداد کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی، اقتصادی استحکام، غذائی تحفظ، توانائی، اور بڑھتے ہوئے قومی سلامتی کے تقاضوں سے جڑا ایک بنیادی قومی چیلنج بن چکا ہے۔
حالیہ دنوں میں جامع قومی آبی تحفظ پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب ملک کے بڑے آبی و پن بجلی منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافے کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ دونوں حقائق اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ پاکستان مزید اس عیش و عشرت کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ ہر سیلاب، ہر خشک سالی یا ہر مالی بحران کو الگ الگ مسئلہ سمجھ کر وقتی اقدامات کرتا رہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پانی کے انتظام کو ایک مربوط، طویل المدتی اور قومی حکمتِ عملی کے تحت منظم کیا جائے۔
پاکستان کے آبی مسائل آج کے پیدا کردہ نہیں ہیں۔ دنیا کے ان ممالک میں پاکستان نمایاں ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا شکار ہیں، حالانکہ عالمی حدت میں اس کا حصہ نہایت معمولی ہے۔ شمالی علاقوں کے گلیشیئر پہلے سے زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں، بارشوں کا نظام غیر متوازن اور غیر متوقع ہو چکا ہے، طویل خشک موسم اچانک شدید سیلابوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جبکہ زیرِ زمین پانی خطرناک رفتار سے نکالا جا رہا ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے پہلے ہی محدود آبی وسائل پر ناقابلِ برداشت دباؤ ڈال دیا ہے۔
تاہم پاکستان کے آبی بحران کی تمام ذمہ داری موسمیاتی تبدیلی پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ کئی دہائیوں سے آبی ذخائر میں سرمایہ کاری نہ ہونے، نہری نظام کی بوسیدگی، انتظامی اداروں کے اختیارات میں تضاد، کمزور حکمرانی اور بڑے منصوبوں میں مسلسل تاخیر نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی سال میں ملک کے مختلف حصے کبھی تباہ کن سیلاب اور کبھی شدید پانی کی قلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ملک کے بڑے پن بجلی منصوبوں کی بڑھتی ہوئی لاگت اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ تاخیر کی قیمت پوری قوم ادا کرتی ہے۔ مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، تعمیراتی مدت میں اضافہ اور منصوبوں کے ڈیزائن میں بار بار تبدیلیوں نے دیامر بھاشا، مہمند اور داسو جیسے منصوبوں کی لاگت کو ابتدائی تخمینوں سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔ ہر گزرتا ہوا سال نہ صرف ان منصوبوں کو مزید مہنگا بناتا ہے بلکہ ان کے ثمرات کو بھی مستقبل میں دھکیل دیتا ہے۔ وہ سرمایہ جو قومی استعداد بڑھانے پر خرچ ہونا چاہیے تھا، اب انتظامی کمزوریوں اور تاخیر کی قیمت ادا کرنے میں صرف ہو رہا ہے۔
ان منصوبوں کو صرف بجلی پیدا کرنے کے ذرائع سمجھنا بھی ایک بڑی غلطی ہوگی۔ آبی ذخائر پانی محفوظ کرتے ہیں، سیلاب کے خطرات کم کرتے ہیں، زرعی آبپاشی کو مستحکم بناتے ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی قومی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں آبی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت عالمی معیار کے مقابلے میں بہت کم ہے، اس لیے نئے ذخائر کی تعمیر کوئی اختیاری ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ اقتصادی اور قومی ضرورت بن چکی ہے۔
یہ بحث اس لیے بھی زیادہ اہم ہو گئی ہے کہ پاکستان کے بیرونی ماحول میں بھی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے حالیہ مؤقف نے پانی کے مسئلے کو محض تکنیکی یا ماحولیاتی معاملہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے علاقائی سیاست اور قومی سلامتی کے دائرے میں داخل کر دیا ہے۔ اگرچہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی قانونی معاہدہ ہے جسے یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا، لیکن حالیہ پیش رفت یہ ظاہر کرتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں پانی مستقبل کی تزویراتی سیاست کا ایک اہم عنصر بنتا جا رہا ہے۔
اس کے باوجود بیرونی خطرات کو اپنی داخلی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اگر بیرونی دباؤ بڑھ رہا ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان اپنے داخلی نظامِ حکمرانی کو مزید مضبوط بنائے۔ پانی کی منصفانہ تقسیم کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد، زیرِ زمین پانی کے استعمال پر مؤثر نگرانی، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی طریقوں کا فروغ، جدید آبی پیش گوئی کے نظام، ڈیجیٹل واٹر اکاؤنٹنگ اور نئے آبی ذخائر میں تیز رفتار سرمایہ کاری ایسے اقدامات ہیں جن پر برسوں سے گفتگو ہو رہی ہے، مگر عملی پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔
اسی طرح بڑے آبی منصوبوں کے انتظام میں بھی بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی لاگت بڑھنے کی وجوہات ضرور ہیں، لیکن اصل مسائل میں زمین کے حصول میں تنازعات، سرکاری رکاوٹیں، خریداری کے نظام میں تاخیر اور کمزور منصوبہ بندی بھی شامل ہیں۔ اگر صرف فنڈز بڑھا دیے جائیں مگر انتظامی صلاحیت اور احتساب کا نظام بہتر نہ بنایا جائے تو ماضی کی غلطیاں مزید بڑے پیمانے پر دہرائی جائیں گی۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج سوچ میں تبدیلی ہے۔ پانی کو ہر سال مون سون آنے پر یاد کرنے کے بجائے اسے ایک مستقل قومی اثاثہ اور تزویراتی وسیلہ سمجھنا ہوگا۔ ہنگامی امداد، سیلاب کے بعد بحالی اور فوری مالی اقدامات اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن وہ کبھی بھی طویل المدتی منصوبہ بندی، مضبوط اداروں، مسلسل سرمایہ کاری اور پائیدار سیاسی عزم کا متبادل نہیں بن سکتے۔
آج پاکستان ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں آبی تحفظ، اقتصادی تحفظ، غذائی تحفظ، توانائی کے استحکام اور قومی سلامتی ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور خطے کی بدلتی ہوئی تزویراتی صورتحال نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ان مسائل کے حل نامعلوم نہیں ہیں۔ پاکستان کے پاس ماہرین بھی موجود ہیں، پالیسیاں بھی دستیاب ہیں اور تکنیکی صلاحیت بھی۔ کمی صرف اس سیاسی عزم اور فوری عمل درآمد کی ہے جو ہر بحران کے بعد نہیں بلکہ بحران آنے سے پہلے فیصلے کرے۔
پاکستان کی آبی پالیسی کو ہر سال مون سون کے انتظار سے آزاد کرنا ہوگا۔ پانی کو قومی ترجیحات میں مستقل مقام دینا ہوگا، تاکہ ہر موسم میں اس پر منصوبہ بندی ہو، سرمایہ کاری کی جائے اور ادارہ جاتی اصلاحات نافذ کی جائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے پاکستان ایک غیر یقینی موسمی مستقبل اور بدلتے ہوئے علاقائی حالات کا مؤثر مقابلہ کر سکتا ہے۔
ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق کتاب دی بیوروکریٹک کو سمیت دیگر مقبول ترین کتابیں وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر معروف کتب فروشوں پر دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتاب منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 0300-9552542۔









