بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے

[post-views]
[post-views]

مکہ مکرمہ: سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اس معاہدے کا اعلان مکہ مکرمہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔

تینوں ممالک گزشتہ کئی ماہ سے اپنے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر کام کر رہے تھے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث سعودی عرب بھی براہِ راست متاثر ہوا ہے اور آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ گزشتہ برس سعودی عرب اور پاکستان پہلے ہی ایک دوطرفہ دفاعی معاہدہ کر چکے تھے۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد ایران اور اس کے اتحادیوں نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں مختلف اہداف پر حملے کیے اور ان کی بحری ترسیل میں رکاوٹیں ڈالیں۔

یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی، جو ملک کے شمالی حصے پر قابض ہیں، سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی حمایت یافتہ حکومتی افواج کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ گزشتہ ماہ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف “بحری ناکہ بندی” کا اعلان کرتے ہوئے سعودی ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا۔

اس کے جواب میں سعودی عرب نے حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے اور بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے ایک نئی بحری اتحاد بھی قائم کیا۔

جمعہ کو معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا کہ تینوں ممالک اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ کسی ایک رکن ملک پر حملہ، تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]