پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کے لیے دلچسپی کے اظہار کی درخواستیں جمع کرانے کی مدت مکمل ہوگئی اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور دلچسپی سامنے آئی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد علی نے جمعہ کو بتایا کہ 12 سرمایہ کار اتحادوں نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے لیے باضابطہ طور پر دلچسپی کے اظہار کی درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ ان اتحادوں میں 12 سے زائد انفرادی کمپنیاں اور کاروباری گروہ شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں میں ترکیہ کے تین اتحاد، چین کا ایک سرمایہ کار گروپ اور پاکستان کے آٹھ بڑے کاروباری گروہ شامل ہیں، جنہوں نے انفرادی حیثیت میں بھی اور مشترکہ اتحادوں کے ذریعے بھی نجکاری کے عمل میں حصہ لیا ہے۔
محمد علی کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے سامنے آنے والا ردعمل پاکستان کے بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ نجکاری کمیشن نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران سرمایہ کاروں سے رابطے کا سلسلہ جاری رکھا اور جنوری میں سرمایہ کاری کے لیے رابطہ مہم شروع ہونے کے بعد متعدد بریفنگز اور مشاورتی اجلاس منعقد کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ نجکاری کا مقصد ایسا نظام تشکیل دینا ہے جس کے تحت گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ کم کیے جاسکیں، بجلی کی فراہمی کے شعبے میں مسابقت کو فروغ دیا جائے، ترسیلی نظام کو جدید اور ڈیجیٹل بنایا جائے اور ملک بھر میں سستی اور مؤثر بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے لیے دلچسپی کے اظہار کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد نجکاری کمیشن اور متعلقہ حکام شارٹ لسٹ کیے گئے سرمایہ کاروں کے ساتھ تفصیلی جانچ پڑتال کا عمل شروع کریں گے۔
بجلی کی دیگر تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل بھی جاری ہے۔ گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کے لیے دلچسپی کے اظہار کی درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ آئندہ دو ہفتوں کے دوران متوقع ہے، جبکہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے لیے آخری تاریخ 7 ستمبر مقرر کی گئی ہے۔
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری کے لیے ابتدائی کام اور لین دین کی تشکیل کا عمل بھی باضابطہ طور پر شروع کردیا گیا ہے۔
حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ سرمایہ کاروں کی موجودہ دلچسپی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو شفاف اور کامیاب بنانے میں مدد دے گی اور پاکستان کے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔









