بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات گہرے کرنے کے لیے اسلام آباد کی کوششیں تیز، جی ایس پی پلس کی ڈیڈ لائن قریب

[post-views]
[post-views]

پاکستان نے اہم تجارتی شراکت دار ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی اور معاشی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں، جبکہ یورپی یونین اس حکمتِ عملی کا مرکزی محور بن کر سامنے آئی ہے۔ حکام کی جانب سے مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے، برآمدی کارکردگی بڑھانے اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

اس سلسلے میں جمعرات کو نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا، جس میں پاکستان کی تجارتی اور معاشی شراکت داریوں کو تیز کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اسحاق ڈار نے جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت کیے گئے وعدوں پر مؤثر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ترجیحی مارکیٹ تک رسائی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے مربوط اقدامات اور بروقت عمل درآمد ضروری ہوگا۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو پاکستان کی تجارت اور برآمدی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کو ترجیح دینے اور مزید معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں وزیرِ تجارت، وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ، تجارت اور داخلہ کے وفاقی سیکریٹریز، برسلز میں پاکستان کے سفیر، چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور متعلقہ وزارتوں و محکموں کے وفاقی و صوبائی حکام نے شرکت کی۔

اس معاملے کی اہمیت ایک واضح ڈیڈ لائن سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ یورپی یونین کا نظرثانی شدہ جی ایس پی فریم ورک یکم جنوری 2027ء سے نافذ ہوگا۔ اس لیے پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس کی ذمہ داریوں پر مؤثر اور مسلسل عمل درآمد انتہائی اہم ہے تاکہ یورپی منڈی میں اسے حاصل ترجیحی رسائی برقرار رہ سکے۔

نظرثانی شدہ اسکیم میں چاول کی درآمدات کے لیے ایک خودکار حفاظتی طریقۂ کار بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد درآمدات میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں یورپی یونین کے چاول پیدا کرنے والے مقامی پروڈیوسرز کو ممکنہ منفی اثرات سے تحفظ فراہم کرنا ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]