اٹلی کے ثقافتی حکام کے مطابق چوروں نے سسلی کے شہر میسینا کے علاقائی عجائب گھر سے نشاۃِ ثانیہ کے معروف مصور انتونیلو دا میسینا کے چار فن پارے چرا لیے، جن کی مالیت لاکھوں یورو بتائی جاتی ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق چوروں نے سین گریگوریو پولی پٹک کے 1473ء میں تخلیق کیے گئے پانچ محفوظ پینلز میں سے تین چرا لیے۔ اس کے علاوہ پیتا کے دو طرفہ پینل کو بھی چرا لیا گیا، جس میں حضرت مریم اور مردہ حضرت عیسیٰؑ کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ پینل ایک مضبوط حفاظتی نمائش خانے میں رکھا گیا تھا۔
چوروں نے پولی پٹک کے پانچوں پینلز کو ان کے فریم سے اتار لیا، تاہم فرار ہوتے وقت دو پینلز دیوار کے پیچھے چھوڑ گئے۔
یہ واردات رات تقریباً 10 بجے ہوئی، جب شہر بھر میں روایتی جشنِ عروجِ مریم کی تقریبات کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ میوزیم کی ڈائریکٹر ماریسا مرکیوری نے اطالوی خبر رساں ادارے انسا کو بتایا کہ چوری کے وقت محافظ عمارت میں موجود تھے اور خطرے کی گھنٹی اور دیگر حفاظتی نظام معمول کے مطابق کام کر رہے تھے۔
فن کے ماہر البرٹو فِز کے مطابق چوری کیے گئے فن پاروں کی مجموعی مالیت 70 سے 80 ملین یورو کے درمیان ہے۔
مرکیوری نے کہا، ’’ہم اس واقعے سے شدید صدمے میں ہیں۔ یہ انتونیلو دا میسینا کے دو اہم ترین اور معروف ترین فن پاروں میں شامل تھے۔‘‘ انہوں نے اسے عجائب گھر، شہر، مقامی برادری اور پوری دنیا کے فن کے لیے ایک عظیم نقصان قرار دیا اور کہا کہ یہ فن پارے خطے کے ثقافتی ورثے کا بنیادی حصہ ہیں۔
انہوں نے اسکائی ٹی جی 24 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض انتونیلو دا میسینا کے فن پارے نہیں بلکہ ہماری شناخت کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، اس کے علاوہ ان کی فنی اور ثقافتی قدر بھی بے حد زیادہ ہے، کیونکہ یہ ہمارے اپنے انتونیلو دا میسینا کے تخلیق کردہ فن پارے ہیں۔
میسینا کے اعلیٰ ثقافتی عہدیدار اینزو کاروسو نے چوری کو ’’محض نقصان نہیں بلکہ تباہی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے اسکائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’انتونیلو کے بغیر میسینا یورپی نشاۃِ ثانیہ کے عظیم ترین فنکار کی اصل روح سے محروم ہو جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے چوری شدہ فن پاروں کی فوری بازیابی پر زور دیا۔
کاروسو نے مزید کہا کہ اٹلی کی وزارتِ ثقافت کی جانب سے رواں سال نیویارک میں سوتھبیز کے ذریعے مذاکرات کے نتیجے میں انتونیلو دا میسینا کی مذہبی تصویر ’’ایکّے ہومو‘‘ کو 14.9 ملین ڈالر میں حاصل کیے جانے کے بعد فنکار میں عالمی سطح پر دلچسپی نمایاں طور پر بڑھی ہے۔
فن سے متعلق جرائم کی تجزیہ کار لنڈا البرٹسن کے مطابق چوری کیے گئے فن پارے اتنے معروف اور فوری طور پر قابلِ شناخت ہیں کہ انہیں کسی معتبر ذریعے سے فروخت کرنا تقریباً ناممکن ہوگا، جس سے چوروں کے لیے اس واردات سے مالی فائدہ اٹھانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔








