اداریہ
پاکستان کے چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کا حال ہی میں دیا گیا یہ بیان کہ عدلیہ کو روایتی ‘عدالت محور’ نظام کے بجائے ‘شہری محور’ فریم ورک کی طرف منتقل ہونا چاہیے، انتظامی نظام میں ایک بنیادی اور اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ انصاف کا حقیقی معیار یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر شہری کو بغیر کسی تفریق کے آسان، سستے اور مؤثر ازالے تک بلا تعطل رسائی حاصل ہو۔
غیر مرکزیت پر مبنی حلِ تنازعات اور معاشرتی بااختیاری
ریپبلک پالیسی کی تحقیق جدید معاشرے میں ہر معاملے کو عدلیہ تک لے جانے کے رجحان کو چیلنج کرتی ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ معاشرے کو اس حد تک بااختیار بنایا جانا چاہیے کہ مقامی سطح پر باہمی بات چیت، رواداری اور تنازعات کے تصفیے کے کلچر کو فروغ ملے۔ سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی اعلیٰ سطح کے جرائم کے علاوہ، تمام عام تنازعات کا حل ان کے آغاز کے مقام یعنی مقامی سطح پر ہی ہونا چاہیے۔
انصاف کی فراہمی میں کارکردگی کو بہتر بنانا ایک انتظامی اور تکنیکی ضرورت ہے، جبکہ عدلیہ کو بااختیار بنانا ایک بنیادی آئینی معاملہ ہے۔
انصاف کی فراہمی کے نظام کو جدید بنانا
مقامی سطح پر متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے فریم ورک کو مضبوط بنا کر انصاف کی فراہمی میں نمایاں طور پر بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ابتدائی اور بنیادی قدم کے طور پر روایتی مصالحتی کمیٹیوں کو بااختیار بنانا انتہائی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، مصنوعی ذہانت کے ذریعے عدالتی انتظامیہ کی اصلاح اور پرانے کاغذی فائلنگ کے نظام کو بدلنا اہم ساخت جاتی اقدامات ہیں۔
آئینی پاسداری: ایک مشترکہ ذمہ داری
تاہم، ان انتظامی اقدامات کو کبھی بھی عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتے کی کوشش کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ریاست کے ایک اہم ستون کے طور پر عدلیہ کے کردار کے بارے میں ریپبلک پالیسی کا ایک منفر داور واضح نقطہ نظر ہے۔ جیسا کہ ہماری بنیادی کتاب “فکسنگ دی جوڈیشری” میں استدلال کیا گیا ہے، آئین کا تحفظ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے: عدلیہ یکطرفہ طور پر آئین کی واحد محافظ ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی؛ بلکہ پارلیمنٹ، جو کہ عوام کے ارادے کی حقیقی نمائندہ ہے، اپنے آئینی اختیارات کے ساتھ آئین کی مساوی محافظ ہے۔









