اقوام متحدہ کی افریقہ کا حقیقی حجم دکھانے والے نئے عالمی نقشے کی حمایت

[post-views]
[post-views]

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روایتی عالمی نقشے کی جگہ ایسا نقشہ اختیار کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے جو افریقہ سمیت دنیا کے مختلف براعظموں کے حقیقی حجم کی زیادہ درست عکاسی کرتا ہے۔

ٹوگو کی جانب سے پیش کی گئی اور افریقی یونین کے رکن ممالک کی حمایت یافتہ ”نقشہ درست کرو“ قرارداد کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا، جن میں فرانس اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔ امریکا واحد ملک تھا جس نے قرارداد کی مخالفت کی، جبکہ چھ ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

اگرچہ یہ قرارداد قانونی طور پر پابند نہیں، تاہم توقع ہے کہ اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے ادارے صدیوں پرانے مرکٹر نقشے کے استعمال پر نظرثانی کریں گے۔

مرکٹر نقشہ 1569 میں فلیمش نقشہ ساز جیرارڈس مرکٹر نے بنیادی طور پر یورپی جہاز رانوں کو دنیا بھر میں سمندری سفر کے دوران رہنمائی فراہم کرنے کے لیے تیار کیا تھا۔ تاہم اس نقشے میں مختلف زمینی خطوں کے باہمی حجم کی نمایاں تحریف ہوتی ہے۔ قطبین کے قریب واقع ممالک اور خطے اپنے اصل حجم سے بڑے، جبکہ خطِ استوا کے قریب واقع علاقے نسبتاً چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔

افریقہ اس تحریف کی سب سے نمایاں مثالوں میں سے ایک ہے۔ مرکٹر نقشے میں گرین لینڈ کا حجم افریقہ کے تقریباً برابر دکھائی دے سکتا ہے، حالانکہ حقیقت میں افریقہ گرین لینڈ سے تقریباً 14 گنا بڑا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تحریف محض نقشہ سازی کا تکنیکی مسئلہ نہیں۔ ان کے مطابق افریقہ کو مسلسل اس کے حقیقی جغرافیائی حجم سے چھوٹا دکھانے سے براعظم کے بارے میں عمومی تصورات متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں اس کی آبادی، قدرتی وسائل، اقتصادی صلاحیت اور ترقیاتی ضروریات شامل ہیں۔

اس مسئلے کے متبادل کے طور پر نقشہ سازوں نے 2018 میں ”ایکول ارتھ“ نقشہ تیار کیا۔ مرکٹر نقشے کے برعکس اس نقشے میں دو جہتی سطح پر دنیا کو دکھاتے ہوئے مختلف ممالک اور براعظموں کے باہمی رقبے کو زیادہ درست انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

افریقی یونین کے تمام 54 رکن ممالک نے فروری میں ایکول ارتھ نقشے کو اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ براعظموں، خصوصاً افریقہ، کے حقیقی حجم کی زیادہ درست نمائندگی کرتا ہے۔

نقشے میں تبدیلی کی حمایت کرنے والے کارکنوں نے افریقہ کے وسیع جغرافیائی حجم کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ ”نقشہ درست کرو“ مہم کے مطابق امریکا، چین، بھارت، جاپان، میکسیکو اور یورپ کے ایک بڑے حصے کو مجموعی طور پر افریقہ میں سمویا جا سکتا ہے اور اس کے باوجود مزید زمین باقی رہے گی۔

اقوام متحدہ میں رائے شماری سے قبل ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈوسی نے کہا کہ نقشے صرف جغرافیہ تک محدود نہیں ہوتے بلکہ لوگوں کے تصورات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ”ایک منصفانہ دنیا کی ابتدا ایک منصفانہ نقشے سے ہوتی ہے۔“

اقوام متحدہ میں ایک بریفنگ کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ کوئی نقشہ غیر جانب دار نہیں ہوتا، کیونکہ نقشے تصورات تشکیل دیتے اور اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ دنیا میں مختلف اقوام اور براعظموں کے مقام کو کس طرح سمجھا جاتا ہے۔

فرانس نے بھی اس اقدام کی حمایت کی۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے اعلان کیا کہ ان کی وزارت مرکٹر نقشے کا استعمال ترک کر دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نقشہ تبدیل کرنے سے دنیا تو تبدیل نہیں ہوگی، لیکن دنیا کی تحریف شدہ تصویر کو درست کرنا حقیقت کو تسلیم کرنے کی جانب ایک قدم ضرور ہے۔

امریکا نے اس اقدام کی سخت مخالفت کی۔

اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ یارینا فیرینسیوچ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ قرارداد جنرل اسمبلی کی توجہ بین الاقوامی امن، خوشحالی اور ممالک کے درمیان بہتر تعلقات جیسے زیادہ اہم مسائل سے ہٹا رہی ہے۔ انہوں نے سولہویں صدی کے نقشہ سازی کے نظام پر بحث کرنے اور اسے معاوضوں اور ”ادراکی انصاف“ جیسے تصورات سے جوڑنے پر بھی تنقید کی۔

تاہم مہم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بنیادی مسئلہ افریقہ کی دنیا کے سامنے نمائندگی کا ہے۔

”افریقہ نو فلٹر“ سے وابستہ لیراتو موگواتلے کے مطابق روایتی نقشوں میں افریقہ کی غلط نمائندگی محض نقشہ سازی کی خامی نہیں بلکہ اس براعظم کے بارے میں قائم بیانیے کا بھی مسئلہ ہے۔

کینیا کے جغرافیہ دان کیوکو موئینڈو نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ مرکٹر نقشے نے ایسے تصورات کو تقویت دی ہے جو افریقہ کے وسیع رقبے، قدرتی وسائل، آبادی اور سرمایہ کاری کے امکانات کو ان کی حقیقی اہمیت سے کم ظاہر کرتے ہیں۔

یہ بحث نقشہ سازی کی ایک بنیادی حقیقت کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ کرۂ ارض کی گول سطح کو کسی ہموار اور دو جہتی نقشے پر مکمل درستگی کے ساتھ منتقل کرنا ممکن نہیں۔ اسی لیے ہر عالمی نقشے کی تیاری میں کسی نہ کسی سطح پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔

لہٰذا اقوام متحدہ کی حالیہ رائے شماری سے پیدا ہونے والا بنیادی سوال یہ نہیں کہ کیا دنیا کا کوئی نقشہ ہر قسم کی تحریف سے مکمل طور پر پاک ہو سکتا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ دنیا کس قسم کی تحریف کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے، اور یہ تحریفیں ہمیں اپنے اردگرد کی دنیا کے بارے میں کیا سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]