پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے انگلینڈ کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں میں بھاری شکست کے بعد قومی ٹیم اور کوچنگ عملے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی فیصلہ سازی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
راشد لطیف نے ریڈ بال کوچز سرفراز احمد اور عمر گل کو ذمہ داریوں سے ہٹانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر اہم فیصلے کہیں اور سے کیے جانے تھے تو انہیں ٹیم کے ساتھ بھیجا ہی کیوں گیا تھا۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وکٹ کیپر بلے باز نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اس سے قبل وائٹ بال اور ریڈ بال ٹیموں کے سابق ہیڈ کوچز گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی کے سلیکشن اختیارات کیوں محدود کیے گئے تھے۔
راشد لطیف نے کہا کہ اگر اس وقت کے کپتان بابر اعظم ٹیم انتظامیہ کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہے تھے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو کوچنگ عملے کے دیگر ارکان کو ہٹانے کے بجائے کپتان تبدیل کرنا چاہیے تھا۔
راشد لطیف نے سوال کیا، ’’اگر ٹیم کو ریموٹ کنٹرول سے ہی چلانا تھا تو سرفراز اور عمر گل کو کیوں بھیجا گیا؟ گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی سے سلیکشن کے اختیارات کیوں واپس لیے گئے؟ اور اگر کپتان بابر اعظم بات نہیں مان رہے تھے تو کپتان کو ہٹانا چاہیے تھا، پھر سرفراز اور عمر گل کو واپس کیوں بھیجا گیا؟ کیا اگلا ہدف بابر اعظم ہیں؟‘‘
ان کے یہ ریمارکس پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل ٹیم میں متعدد تبدیلیوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔ یہ میچ 9 سے 13 ستمبر تک برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا۔
پاکستان کو سیریز کے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچوں میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انگلینڈ نے لیڈز میں پہلا ٹیسٹ تین دن کے اندر ایک اننگز اور 103 رنز سے جیت لیا، جبکہ لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست دی۔ اس کامیابی کے ساتھ انگلینڈ نے سیریز میں دو صفر کی ناقابل شکست برتری حاصل کرلی۔
ان شکستوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیسٹ اسکواڈ سے سات کھلاڑیوں کو فارغ کرکے ان کی جگہ سات دیگر کھلاڑیوں کو شامل کیا، جن میں پانچ ایسے کھلاڑی بھی شامل ہیں جنہوں نے ابھی تک ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کی۔
بورڈ نے آخری ٹیسٹ کے لیے کوچنگ عملے میں بھی تبدیلی کی۔ سرفراز احمد اور عمر گل کو ریڈ بال کوچنگ کی ذمہ داریوں سے فارغ کردیا گیا، جبکہ وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور بولنگ کوچ ایشلے نوفکے کو آخری ٹیسٹ کے لیے ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
راشد لطیف کے بیانات نے سیریز میں پاکستان کی خراب کارکردگی کے بعد کرکٹ بورڈ کی جانب سے ٹیم کے معاملات سنبھالنے کے طریقہ کار پر مزید سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ سابق کپتان نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آیا جاری تبدیلیوں میں اگلا ہدف بابر اعظم ہوسکتے ہیں۔








