یہ مضمون ’’نیا عالمی انتشار‘‘ کے سلسلے کا حصہ ہے، جس میں جنگ کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کے بکھراؤ اور امریکی قیادت کے پیچھے ہٹنے کے بعد چھوٹے ممالک کو درپیش مشکل فیصلوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
گزشتہ خزاں کی ایک سرمئی صبح میں مالدووا کے پُرسکون اور سادہ دارالحکومت کیشیناؤ میں آندرے موراری اور ایکاترینا سامونی کے گھر گیا۔ باورچی خانے کی میز پر کالی چائے رکھی تھی، جبکہ ان کی دو بلیاں میز کے نیچے گھوم رہی تھیں۔ گھر میں ماضی کی کئی یادگاریں موجود تھیں، جن میں لینن کا ایک چھوٹا مجسمہ بھی شامل تھا جسے آندرے ماسکو سے لائے تھے، جہاں وہ کبھی تاریخ کے طالب علم رہے تھے۔
صرف دو روز قبل مالدووا میں پارلیمانی انتخابات ہوئے تھے، جنہیں صدر مایا ساندو نے ملکی تاریخ کے اہم ترین انتخابات قرار دیا تھا۔ انتخابی مہم نے ووٹروں کے سامنے بظاہر ایک فیصلہ کن جغرافیائی و سیاسی انتخاب رکھ دیا تھا: یورپ یا روس۔
ساندو کی یورپ نواز جماعت پارٹی آف ایکشن اینڈ سالیڈیریٹی اور اس کی روس نواز حریف جماعتوں نے انتخابات کو مختلف انداز میں پیش کیا، تاہم دونوں جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ مخالف فریق کا انتخاب مالدووا کو پڑوسی ملک یوکرین میں جاری جنگ کے مزید قریب لے جاسکتا ہے۔
بالآخر یورپ نواز جماعت نے پیٹریاٹک الیکٹورل بلاک کو شکست دے دی۔ لیکن آندرے اور ایکاترینا کے گھر میں سیاسی فتح کا کوئی خاص جوش دکھائی نہیں دیتا تھا۔
دونوں نے ان متحارب سیاسی دھڑوں میں سے کسی کو ووٹ نہیں دیا تھا۔
ان کے مسائل ماسکو اور برسلز کے درمیان جغرافیائی و سیاسی کشمکش سے کہیں زیادہ فوری نوعیت کے تھے۔ وہ بہتر صحت کی سہولیات، سستی رہائش اور حرارتی سہولیات اور نوجوانوں کے لیے زیادہ مواقع چاہتے تھے۔ ان کے لیے یہ سوال کہ مالدووا کو یورپ کے قریب جانا چاہیے یا روس کے، اس سوال سے کم اہم تھا کہ خود مالدووا میں لوگوں کی زندگی کیسے بہتر ہوسکتی ہے۔
یہ کشمکش صرف دارالحکومت تک محدود نہیں۔
رومانیہ کی سرحد کے قریب واقع گاؤں ہوریشتی کے ایک اسکول میں بچوں کے لیے ناشتے کی میزیں اب بھی سجائی جاتی ہیں، حالانکہ گاؤں کی آبادی مسلسل کم ہورہی ہے۔ اسکول میں طلبہ کی تعداد اب قانونی طور پر مقررہ کم از کم حد سے بھی نیچے جاچکی ہے۔ مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ اسکول کی بندش صرف ایک تعلیمی ادارے کا خاتمہ نہیں ہوگی۔ ان کے نزدیک اگر اسکول ختم ہوگیا تو بالآخر گاؤں بھی ختم ہوجائے گا۔
کیشیناؤ واپس آکر، آندرے کے کام پر چلے جانے کے بعد، ایکاترینا اور میں چائے پیتے ہوئے مالدووا کی منقسم شناخت کے ایک اور پہلو، یعنی زبان، پر گفتگو کرتے رہے۔
رومانیائی اور روسی دونوں زبانیں ملک میں وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہیں، لیکن صرف ایک زبان جاننے والے افراد سماجی اور ثقافتی تنہائی محسوس کرسکتے ہیں۔ اس لیے مالدووا میں زبان محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ملک کے اندر موجود تاریخی اور جغرافیائی و سیاسی تقسیم کی بھی عکاس ہے۔
تاہم ایکاترینا کی مایوسی ایک زیادہ گہرے مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ کئی برسوں سے مالدووا کے شہریوں سے اپنے ملک کے مستقبل کو بڑی حد تک دو بیرونی مراکز، یعنی یورپ اور روس، میں سے کسی ایک کے انتخاب کے طور پر دیکھنے کو کہا جاتا رہا ہے۔ لیکن ہر شہری اپنی شناخت، خواہشات اور روزمرہ مسائل کو ان دونوں میں سے کسی ایک کیمپ سے وابستہ نہیں دیکھتا۔
عالمی نظام کے بڑھتے ہوئے انتشار کے ساتھ یہی مسئلہ بہت سی چھوٹی ریاستوں کو درپیش ہے۔ بڑی طاقتیں دنیا کو تزویراتی اتحادوں، حلقہ ہائے اثر اور باہم متصادم گروہوں کے تناظر میں دیکھ سکتی ہیں، لیکن عام شہری جغرافیائی و سیاسی کشمکش کو مختلف انداز میں محسوس کرتے ہیں۔ ان کے لیے اسکول، ہسپتال، روزگار، توانائی کے اخراجات، رہائش اور یہ سوال زیادہ اہم ہیں کہ آیا ان کے بچوں کے پاس اپنے ملک میں رہنے کی کوئی وجہ باقی رہے گی یا نہیں۔
مالدووا اس طرح ان ممالک کو درپیش ایک بڑے مسئلے کی نمائندگی کرتا ہے جو متحارب طاقتوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ جب بڑی طاقتیں ایک دوسرے سے دور ہوتی ہیں تو چھوٹی ریاستوں پر کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن ان ممالک کے بہت سے شہریوں کے لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ان کا ملک مشرق کے ساتھ کھڑا ہوگا یا مغرب کے ساتھ۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان میں سے کوئی راستہ انہیں ایسی ریاست دے سکتا ہے جو حقیقتاً اپنے شہریوں کے لیے کام کرے؟









