وزیراعظم شہباز شریف کا موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے فی لیٹر 100 روپے ریلیف کا اعلان

[post-views]
[post-views]

وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو موٹر سائیکل، رکشا اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے ایندھن پر خصوصی ریلیف پروگرام کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عوام پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں دوبارہ شدت اختیار کرنے والی کشیدگی اور تیل کی ترسیل کے اہم راستوں میں رکاوٹوں کے باعث گزشتہ دو ماہ کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ سے آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے، جبکہ باب المندب کے اطراف حوثیوں کی بڑھتی سرگرمیوں نے سعودی عرب سمیت خطے سے تیل کی ترسیل کے لیے مزید خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے عالمی منڈی میں تیل کی حالیہ قیمتوں میں اضافے اور اس کے نتیجے میں عوام پر بڑھنے والے مالی دباؤ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ حکومت مشکل حالات میں شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔

نئی اسکیم کے تحت موٹر سائیکلوں، رکشوں، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو مقررہ ماہانہ حد کے اندر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف دیا جائے گا۔

دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے مالکان ہر ماہ 20 لیٹر تک ایندھن پر فی لیٹر 100 روپے رعایت حاصل کر سکیں گے، جبکہ 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر تک یہی رعایت دی جائے گی۔

یہ پروگرام اسلام آباد میں 15 ستمبر کی رات 12 بجے سے نافذ ہوگا، جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے دیگر حصوں میں اس کا اطلاق 17 ستمبر کی رات 12 بجے سے کیا جائے گا۔

اسکیم کے لیے رجسٹریشن کا آغاز اتوار سے کر دیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق رجسٹریشن کے طریقہ کار سے متعلق عوام کو آگاہی مہم کے ذریعے معلومات فراہم کی جائیں گی۔ وزیراعظم نے اسکیم پر عمل درآمد کے لیے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کا ضروری ریکارڈ فراہم کرنے پر صوبائی حکومتوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اسکیم اور رجسٹریشن کے طریقہ کار سے متعلق مزید معلومات حکومت کے خصوصی ایندھن ریلیف پورٹل پر بھی فراہم کی گئی ہیں۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پروگرام کا مقصد ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے دیا جانے والا ریلیف پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کی صورت میں ملنے والی ممکنہ رعایت سے بھی زیادہ ہے۔

انہوں نے اسکیم کا طریقہ کار بیان کرتے ہوئے کہا کہ اہل صارفین خود رجسٹریشن کریں گے اور انہیں گھر بیٹھے ایک ٹوکن نمبر مل جائے گا۔ ٹوکن کی تصدیق کے لیے ضروری آلات پیٹرول پمپوں کو فراہم کر دیے گئے ہیں۔ رجسٹرڈ صارفین اپنا ٹوکن دکھا کر مقررہ ماہانہ حد کے اندر رعایتی نرخ پر ایندھن حاصل کر سکیں گے۔

مشرق وسطیٰ کی جنگ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان کو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کیے جانے کے بعد سے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے پڑوسی خلیجی ممالک میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بعض تیل تنصیبات کی سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر ہوئیں۔ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز بھی عملی طور پر بند ہوگئی، جہاں سے اس سے قبل دنیا میں استعمال ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔

جمعہ کو ہونے والے تازہ اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت 375 روپے 82 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ حکومت اس وقت پیٹرول پر فی لیٹر 114 روپے اور ڈیزل پر فی لیٹر 100 روپے ٹیکس اور محصولات وصول کر رہی ہے۔

عالمی توانائی منڈی پر دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب سعودی عرب نے فضائی حملے کے بعد اپنی مشرقی مغربی تیل پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی۔ تیل کے خریداروں اور تاجروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ پائپ لائن چند روز میں بحال نہ ہوئی تو عالمی تیل کی رسد کا تقریباً چار فیصد متاثر ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے بھی خبردار کیا ہے کہ رواں سال عالمی سطح پر تیل کی طلب اور رسد میں فرق پہلے کے اندازوں سے زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔ ایران سے متعلق جاری جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی معمول کی ترسیل کی بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے اور یہ صورتحال 2027 تک برقرار رہ سکتی ہے، جس سے ایندھن کی قیمتیں بلند رہنے کا خدشہ ہے۔

عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان نے بھی ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں متعدد تبدیلیاں کی ہیں۔ جولائی میں ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ بڑھنے والی کشیدگی کے بعد حکومت نے عالمی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتیں مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس سے قبل مارچ کے آغاز سے ایندھن کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کیا جا رہا تھا، جبکہ ایندھن کی بچت کے لیے بھی مختلف اقدامات کیے گئے تھے۔ وفاقی حکومت نے اپریل میں مخصوص طبقات کے لیے رعایتی ایندھن کی فراہمی کے اقدامات بھی متعارف کرائے تھے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 اپریل کو 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، جبکہ 28 فروری کو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے وقت اس کی قیمت تقریباً 281 روپے فی لیٹر تھی۔ اسی طرح مارچ کے پہلے ہفتے میں تقریباً 266 روپے فی لیٹر سے بڑھنے والی پیٹرول کی قیمت 3 اپریل کو 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔

حکومت کا تازہ ریلیف پروگرام عالمی تیل منڈی میں جاری بحران کے اثرات سے کم آمدنی والے اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والے شہریوں کو تحفظ دینے کی ایک اور کوشش ہے، تاہم رعایت مخصوص گاڑیوں اور مقررہ ماہانہ ایندھن کی حد تک محدود ہوگی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]